دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Jaame Sharait Peer | جامع شرائط پیر

book_icon
جامع شرائط پیر

پر ضیا کر میرا چہرہ حشر میں اے کبریا

شہ ضیاء الدین(39) پیر باصفا کے واسِطے

اَحیِنَا فِی الدِّیْنِ وَالدُّنْیَا سَلَامٌ  بِالسَّلَامِ([1])

قادِری عبدالسلام(40) عبد رضا کے واسِطے

عشقِ احمد میں عطاکر چشمِ تر سوزِ جگر

یاخدا اِلیاس(41) کو احمد رضا کے واسِطے

صدقہ اِن اَعیاں کا دے چھ عین عز، علم و عمل

عفو و عرفاں عافیت اِس بے نَوا کے واسِطے

 

دیگر سلاسل :

آپ دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کو دُنیائے اسلام کے اور بھی کئی اکابر علما و مشائخ دَامَتْ فُیُوضُہم سے خلافت حاصل ہے ، مثلاً شارِح بخاری، فقیہ اعظم ہند مفتی شریف الحق امجدی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْوَلِی، مفتی اعظم پاکستان حضرت مفتی وقار الدین قادری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْہَادِی اور جانشین قطبِ مدینہ حضرت مولانا فضل الرحمن صاحب اشرفی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی نے بھی آپ کو اپنی خلافت اور حاصل شدہ اَسانید و اِجازات سے نوازا ہے ۔

پہلی شرط کی وضاحت :

دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ 276 صَفحات پر مشتمل کتاب، ’’ آدابِ مرشدِ کامل ‘‘ صَفْحَہ 14 پر ہے کہ مرشِد کا سلسلہ بَاِتّصالِ صحیح (یعنی دُرُست واسطوں کیساتھ) حضورِ اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تک پہنچا ہو ۔ بیچ میں مُنقَطع (یعنی جُدا) نہ ہو کہ مُنقَطع کے ذریعہ اِتِّصال نا ممکن ہے ۔

٭…  بعض لوگ بِلا بَیْعَتْ (یعنی بِغیر مرید ہوئے ) ، مَحض بَزُعمِ وراثت (یعنی وارث ہونے کے گمان میں ) اپنے باپ دادا کے سَجادے پر بیٹھ جاتے ہیں ۔

٭ …  یا بَیْعَتْ کی تھی مگر خلافت نہ ملی تھی، بِلا اِذْن (بِغیر اجازت) مرید کرنا شروع کردیتے ہیں ۔

٭…   یا سلسلہ ہی وہ ہوکہ قَطْع کردیاگیا ، اس میں فیض نہ رکھاگیا، لوگ برائے ہَوَس اس میں اِذْن و خلافت دیتے چلے آتے ہیں ۔

٭…  یا سلسلہ فی نفسہٖ صحیح تھا ۔ مگر بیچ میں ایسا کوئی شخص واقع ہوا جو بوجہ اِنتِفائے بعض شرائط قابلِ بیعَت نہ تھا ۔ اس سے جو شاخ چلی وہ بیچ میں مُنْقَطِع (یعنی جُدا) ہے ۔

ان تمام صورتوں میں اس بَیْعَتْ سے ہر گز اِتِّصال حاصل نہ ہوگا ۔ ([2])

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! سلسلہ کے منقطع و متصل ہونے کے اعتبار سے مذکورہ چاروں صورتوں کے تناظر میں شیخِ طریقت، امیر اہلسنت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی حیاتِ طیبہ پر نظر ڈالیں تو معلوم ہو گا کہ نہ تو آپ دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ بِلا بَیْعَتْ (یعنی بِغیر مرید ہوئے ) مَحض بَزُعمِ وراثت (یعنی وارث ہونے کے گمان میں ) اپنے باپ دادا کے سجادہ نشین ہیں اور نہ ہی آپ نے بِلا اِذْن (بِغیر اجازت) مرید کرنا شروع کیا ہے ۔ نیز آپ دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ جس سلسلے سے تعلق رکھتے ہیں وہ درمیان میں کہیں منقطع نہیں بلکہ آپ کے سلسلہ قادریہ رضویہ ضیائیہ عطاریہ کا فیض تو دنیا بھر میں جاری و ساری ہے ۔

امیر اہلسنت کاسلسلہ بیعت :

شیخِ طریقت، امیرِ اہلسنّتدَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ اپنے رسالہ ”سیدی قطبِ مدینہ“ میں سلسلہ قادریہ رضویہ میں مرید ہونے کے متعلق تحریر فرماتے ہیں :

اَلْحَمْدُ لِلّٰہ  عَزَّ وَجَلَّ  میں سگِ مدینہ عُفِیَ عَنْہ  (رَاقِمُ الْحُرُوف) بچپن ہی سے اِمامِ اَھْلِسُنّت، ولیِ نِعمت، عظیمُ البَرَکَت، عظیمُ المَرْتَبت، پروانۂِ شَمْعِ رِسالت، مُجَدِّدِ دین  ومِلَّت، حامیِ سنّت، ماحِیِ بِدعت، عالِمِ شَرِیْعَت، پیرِ طریقت، باعثِ خَیْر و بَرَکت، امامِ عشق ومحبّت حضرتِ علامہ مولانا الحاج الحافِظ القاری شاہ امام اَحمد رَضا خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن سے مُتعارِف ہو چکا تھا، پھر جُوں جُوں شُعُور آتا گیا، اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحمَۃُ رَبِّ الْعِزَّت کی مَحَبَّت دل میں گھر کرتی چلی گئی ۔ میں بِلا خوفِ لَومَۃِ لائِم (یعنی مَلامت کرنیوالے کی ملامت سے ڈرے بِغیر) کہتا ہوں کہ ربُّ العلی  عَزَّ وَجَلَّ  کی پہچان میٹھے میٹھے مصطَفے ٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ذَرِیعے ہوئی تو مجھے میٹھے میٹھے مصطَفے ٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی پہچان امام احمد رضا رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے سبب نصیب ہوئی ۔ مجھے آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے سلسلے میں داخِل ہونے کا شوق پیدا ہوا تو ایک ہی ہستی مرکزِ توجُّہ بنی، گو مشائخِ اہلسنّت کی کمی تھی نہ ہے ،  مگر ’’پسند اپنی اپنی خیال اپنا اپنا ۔ ‘‘ اِس ـمقدّس ہستی کا دامن تھام کر ایک ہی واسِطے سے اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے نسبت ہو جانی تھی اور اُس ہستی میں ایک کشِش یہ بھی تھی کہ اُ س پر براہِ راست گنبدِخَضرا کا سایہ پڑ رہا تھا ۔

اُس مقدس ہستی سے میری مُراد حضرت شیخُ الفضیلت، آفتابِ رضویت، ضیاء الملّت، مُقتَدائے اہلسنّت، مُرید و خلیفۂ اعلیٰ حضرت، پیرِ طریقت، رہبرِ شریعت، شیخُ العربِ وَ الْعَجَم، میزبانِ مہمانانِ مدینہ ، قطبِ مدینہ ، حضرتِ علامہ مولٰینا ضیائُ الدّین احمد مَدَنی قادری رضوی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی کی ذاتِ گرامی ہے ۔ میں نے عزمِ مصمم (مُ ۔ صَمْ ۔ مَمْ) کر لیا کہ اب کسی نہ کسی طرح مجھے ان کا مرید بننا ہے ، چُنانچِہ میں نے غالباً ۱۳۹۶ھ (یعنی1976ء) میں آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا مدینۂ منوَّرہ زَادَھَا اللّٰہُ شَرَفًا وَّ تَعْظِیْمًا کا پتا حاصل کیا ۔ پتا حاصل کرنے کے بعد اپنے ایک کرم فرما مرحوم محمد آدم برکاتی صاحِب کو بتایا کہ میں نے حضرتِ سیِّدی قطبِ مدینہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے بذریعۂ ڈاک بیعت (بَے ۔ عَت) کرنے کا تَہِیَّہ کیا ہے ۔ مرحوم آدم بھائی نے کہا : تم کراچی



2   یعنی ہمیں دین ودُنیا میں سلامتی عطا فرما ۔

2   آداب مرشد کامل، ص۱۴

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن