30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اعلیٰ حضرت، امام اہلسنت، مجدد دین و ملت، پروانۂ شمع رسالت، مولانا شاہ احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَحْمٰن فتاویٰ رضویہ شریف میں تحریر فرماتے ہیں : شیخ اتصال یعنی جس کے ہاتھ پر بَیْعَتْ کرنے سے انسان کا سلسلہ حضور پُر نور، سَیِّد المرسلین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تک مُتَّصِل ہوجائے ، اس کیلئے چار شرطیں ہیں : (۱) شیخ کا سلسلہ بَاِتّصالِ صحیح (یعنی دُرُست واسطوں کیساتھ) حضورِ اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تک پہنچا ہو ۔ (۲) شیخ سُنّی العقیدہ ہو ۔ (۳) عالم ہو ۔ (۴) فاسِق مُعْلِن (یعنی اعلانیہ گناہ کرنے والا) نہ ہو ۔ ([1])
حُجَّۃُ الاِسلام امام محمد غزالی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْوَالِی کامل مرشِد کے اوصاف یوں بیان فرماتے ہیں کہ شیخ (پیرو مرشد) کے رسولُ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا نائب ہونے کیلئے یہ شرط ہے کہ وہ عالم ہو لیکن ہر عالم بھی مرشِدِ کامل نہیں ہو سکتا ۔ لہٰذا ہم یہاں اِجمالی طور پر مرشد کامل کی بعض علامات بیان کرتے ہیں تاکہ ہر شخص مرشِد و رَہبر بننے کا دعویٰ نہ کر سکے ۔
(1) … پیرکامل وہی ہے جس کے دل میں دنیا کی محبت اور عزّت و مرتبے کی چاہت نہ ہو (2) … وہ ایسے مرشد ِ کامل سے بیعت ہو جو نورِ بصیرت سے مالا مال ہو (3) … اس کا سلسلہ رحمتِ عالَم، نُورِ مُجَسَّم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تک متّصل ہو (4) … نیک اَعمال بجا لانے والا ہو (5) … ریاضت ِ نفس کا عادی ہو (6) … کم کھانے (7) … کم سونے (8) …کم بولنے (9) … کثرتِ نوافل (10) … زیادہ روزے رکھنے اور (11) … خوب صدقہ وخیرات کرنے جیسے نیک اَعمال کرنے والا ہو (12) … نیز وہ پیرکامل اپنے شیخ کی کامل اِتباع کے سبب صبر (13) …نماز (14) …شکر (15) … تَوَّکُل (16) … یقین (17) …سخاوت (18) … قناعت (19) …طمانیت نفس (20) …حِلْم (21) …تواضع (22) …علم (23) … صدق (24) … وفا (25) … حیا اور (۲۶) … وقارو سکون جیسے پسندیدہ اَوصاف کا پیکر ہو ۔
پس جو پیرکامل ان اَوصاف سے متصف ہو وہ نورکے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے انوارِ مبارکہ میں سے ایک نور بن جاتا ہے اور اس قابل ہوجاتا ہے کہ اسکی اِقتدا کی جائے ۔ ایسے پیرومرشد کا ملنا بہت ہی مشکل ہے … اور اگر (اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رحمت اور) خوش قسمتی و سعادت مندی ساتھ دے اور ان اَوصاف کے حامل پیرکامل تک رسائی ہو جائے اور وہ پیرکامل بھی اسے اپنے مریدوں میں قبول فرما لے … تو اب اس مرید کے لئے لازمی اور ضروری ہے کہ اپنے پیرکامل کا ظاہری اور باطنی ہر طرح سے اَدب واِحترام بجا لائے ۔ ([2])
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! یہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا خاص فضل و کرم ہے کہ وہ جسے چاہے اپنے بَرگزیدہ بندوں کے ذریعے مَدَنی ماحول عطا فرما دے ۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہر دور میں اپنے پیارے مَحبوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی امت کی اصلاح کیلئے اپنے اَولیائے کرام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلَام ضَرور پیدا فرماتا ہے جو اپنی مومِنانہ حکمت و فراست کے ذریعے لوگوں کو یہ ذہن دینے کی کوشش فرماتے ہیں کہ مجھے اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوشش کرنی ہے ۔ اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ
سینکڑوں سال پہلے سَیِّدنا امام غزالی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْوَالِی نے پیر کے لیے جن اوصاف کا ذکر فرمایا ۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ فی زمانہ یہ تمام اَوصاف شَیخ طریقت، امیرِ اَہلسنّت، بانیٔ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطّار قادِری رَضَوی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی ذاتِ مبارَکہ میں بَدَرجہ اَتَم پائے جاتے ہیں ۔ جن کے تقویٰ و پرہیز گاری کی بَرَکات کی ایک مثال تبلیغِ قرآن وسنّت کی عالمگیر غیر سیاسی تَحریک دعوتِ اسلامی کا مَدَنی ماحول ہمارے سامنے ہے کہ آپ دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی نگاہِ ولایت اور حکمتوں بھری مَدَنی تربیت نے دنیا بھر میں لاکھوں مسلمانوں بالخُصوص نوجوانوں کی زندگیوں میں مَدَنی انقِلاب برپا کر دیا اور اکثر غیر مسلموں کے اسلام قَبول کرنے کی اطلاعات بھی ملتی رہتی ہیں ۔
آپ دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ شَرِیْعَتِ مُطَہَّرہ اور طریقتِ مُنوّرہ کی وہ یادگارِ سَلَف شخصیت ہیں جو کہ کثیرُ الکرامت بُزُرگ ہونے کے ساتھ ساتھ عِلْماً و عَمَلاً، قَولاً و فِعلْاً، ظاہِراً و باطِناً اَحکاماتِ الہٰیہ کی بجاآوَری اور سُنَنِ نَبَوِیَّہ کی پَیرَوی کرنے اور کروانے کی بھی روشن نظیر ہیں ۔
امیرِ اہلسُنَّت جامع شرائط پیر
اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحمَۃُ رَبِّ الْعِزَّت نے مرشد کامل کے لیے چار شرائط ذکر کی ہیں ان کی روشنی میں امیر اہلسنت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی حیاتِ طیبہ کا جائزہ لینے سے روزِ روشن کی طرح یہ بات عیاں ہو جاتی ہے کہ آپ اپنے پیر و مرشد کے بیان کردہ معیار پر پورا اترتے ہیں ۔ چنانچہ،
مرشِد کا سلسلہ بَاِتّصالِ صحیح (یعنی دُرُست واسطوں کیساتھ) حضورِ اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تک پہنچا ہو ۔
امیر اہلسنت اور پہلی شرط
عاشقِ اعلیٰ حضرت، امیرِ اَہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ خلیفۂ اعلیٰ حضرت، قطب ِمدینہ، شیخ العرب و العجم حضرت سیدنا ضیاء الدین احمد مدنی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِی کے مرید ہی نہیں بلکہ آپ دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کو قطب ِمدینہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے خلیفہ حضرت مولانا عبدالسلام قادری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْہَادِی سے خلافت بھی حاصل ہے اور یوں سلسلۂ قادریہ رضویہ میں چالیس واسطوں سے آپ کو سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے اتصال کا شرف حاصل ہے ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع