دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Jaame Sharait Peer | جامع شرائط پیر

book_icon
جامع شرائط پیر

ذریعہ بنا لیا ہے اور موجودہ دور میں کسی کامل پیر کو تلاش کرنے کی سوچ تو کجا اس کے متعلق معلومات بھی مثل عنقا ([1]) ہیں ۔

پس آئیے ! یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ پیر و مرشد کون ہوتا ہے ؟ اس میں کن شرائط کا پایا جانا ضروری ہے ؟ اور کیا دورِ حاضر میں ایسے اوصاف کی حامل کوئی شخصیت موجود ہے جس کے دامنِ کرم سے وابستہ ہو کر ہم حفاظتِ ایمان کا نسخۂ کیمیا پا سکیں ۔

شیخ کی تعریف :

حضرت سیِّدُنا عبد الغنی نابلسی حنفی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی حدیقہ ندیہ میں شیخ یعنی پیرومرشد کی تعریف کرتے ہوئے نقل فرماتے ہیں کہ شیخ سے مراد وہ بزرگ ہے جس سے اس کے بیان کردہ احکامِ شرع کی پیروی پر عہد کیا جائے اور وہ اپنے اقوال وافعال کے ذریعے مریدوں کے حالات اور ظاہری تقاضوں کے مطابق ان کی تربیت کرے اور اس کا دل ہمیشہ مراتب ِ کمال کی طرف متوجہ رہے ۔ ([2])

پیر و مرشد کا مرتبہ :

حضرت سیدنا داتا گنج بخش ہجویری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی اپنی شہرۂ آفاق کتاب کشف المحجوب میں اور حضرت سیدنا علامہ علی قاری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِی مرقاۃ المفاتیح میں نقل فرماتے ہیں کہ اَلشَّیخُ فِی قَومِہ کَالنَّبِیِّ فی اُمَّتِہ یعنی شیخ اپنی قوم میں ایسے ہوتا ہے جیسے نبی اپنی اُمت میں ۔ ([3])

اعلیٰ حضرت، امام اہلسنت، مجدد دین و ملت، پروانۂ شمع رسالت، مولانا شاہ احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَحْمٰن فتاویٰ رضویہ شریف میں امام جلال الدین سیوطی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی کے حوالے سے مذکورہ حدیث پاک ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں کہ اس حدیث پاک سے یہ ثابت ہوتاہے کہ یہاں شیخ سے مراد ہادیانِ راہِ خدا ہیں یعنی وہ لوگ جو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کی راہ کی جانب ہدایت دینے والے ہیں اور قرآنِ کریم میں ایسے لوگوں کی اطاعت کو لازم قرار دیا گیا ہے ۔ چنانچہ،

فرمانِ باری تعالیٰ ہے :

اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَ اُولِی الْاَمْرِ مِنْكُمْۚ- (پ۵، النساء : ۵۹)

ترجمۂ کنز الایمان : حکم مانو اللہ کا اور حکم مانو رسول کا اور ان کا جو تم میں حکومت والے ہیں ۔

یہاں اولی الامر سے مراد علمائے شریعت و طریقت دونوں ہیں ۔ ([4])

پیری مُریدی کا ثُبوت :

فرمانِ باری تعالیٰ ہے :

 

یَوْمَ نَدْعُوْا كُلَّ اُنَاسٍۭ بِاِمَامِهِمْۚ- (پ۱۵، بنی اسرائیل : ۷۱)

ترجمۂ کنز الایمان : جس دن ہم ہر جماعت کو اس کے امام کے ساتھ بلائیں گے ۔

مُفَسِّرِ شَھِیر، حکیمُ الامَّت مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان نورُ العِرفان میں اس آیتِ مبارَکہ کی تفسیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں : اس سے معلوم ہوا کہ دنیا میں کسی صالح کو اپنا امام بنا لینا چاہئے شَرِیعت میں تقلید کر کے اور طریقت میں بیعت کر کے تاکہ حَشْر اچھوں کے ساتھ ہو ۔ اگر صالح اِمام نہ ہو گا تو اس کا امام شیطان ہو گا ۔ اس آیت میں تقلید، بیعت اور مُریدی سب کا ثبوت ہے ۔

مرید ہونے کا مقصد :

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! پیر اُمورِ آخِرت کے لئے بنایا جاتا ہے تاکہ اُس کی رہنمائی اور باطنی توجّہ کی بَرَکت سے مُرید اللہ و رسول  عَزَّ وَجَلَّ  وَصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ناراضی والے کاموں سے بچے اور رِضائے رَبُّ الانام کے مَدَنی کاموں کے مطابق اپنے شب و روز گزار سکے ۔

فی زما نہ حالات :

موجودہ زمانے میں بیشتر لوگوں نے پیری مُریدی جیسے اَہم منصب کو حُصولِ دنیا کا ذریعہ بنا رکھا ہے ۔ بیشمار بد عقیدہ اور گمراہ لوگ بھی تَصَوُّف کا ظاہری لبادہ اوڑھ کر لوگوں کو گمراہ اور ان کے دین و ایمان کو برباد کر رہے ہیں ۔ انہی غَلَط کار لوگوں کو بنیاد بنا کر پیری مریدی کے مخالفین اس پاکیزہ رشتے سے لوگوں کو بدگمان کررہے ہیں ۔ دورِ حاضر میں چونکہ کامل و ناقص پیر کا امتیاز انتہائی مشکل ہے ۔ لہٰذا مرید ہوتے وقت سرکارِ اعلیٰ حضرت، امامِ اہلسنّت، مولانا شاہ اَحمد رضا خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَحْمٰن اور حجۃ الاسلام امام غزالی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْوَالِی نے پیر و مرشد کی جن شرائط و اَوصا ف کے بارے میں وضاحت فرمائی ہے اورمرشِدِ کامل کی پہچان کا جو طریقہ ارشاد فرما کر اُمّت کو صحیح رَہنمائی عطا کی ہے اُسے پیشِ نظر رکھنا ضَروری ہے ۔

 



2   عنقا کے متعلق مختلف اقوال ہیں ، یہ ایک فرضی افسانوی پرندہ ہے جس کے متعلق فلا سفہ کا خیال ہے کہ اسکے دو بازو اور چار پاؤں ہیں اور اسکے بازو مشرق ومغرب تک پھیلے ہوئے ہیں ، ایسے پرندے کا پایا جانا ممکن تو ہے لیکن پایا نہیں جاتا ۔   (نصاب المنطق، ص ۴۱)

2   الحدیقۃ الندیۃ، الباب الاول، فمرجع الاحکام  ومثبتھا الکتاب والسنۃ ۔ ۔ الخ، ج۱، ص۱۵۹

2   مرقاۃ المفاتیح، کتاب فضائل القرآن، باب آداب التلاوۃ، تحت الحدیث : ۲۱۹۷، ج۴، ص۶۹۶

                                                کشف المحجوب، باب لبس المرقعات، ص۵۲

2   فتاوی رضویہ، ج۲۱، ص۴۸۳

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن