30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
الْعَالِیَہ کے چہرۂ مبارک کو دیکھا تو اپنے آنسو نہ روک سکا کہ یہ تو میرے وہی پیر ومرشد ہیں جنہوں نے مجھے خواب میں مرید بنایا تھا ۔ شدید رش اور حفاظتی انتظامات کی وجہ سے میں آپ دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے قریب جاکر ملاقات نہ کرسکا ۔ بہرحال میں امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ سے ملاقات کی حسرت دل میں لئے دوبارہ عرب شریف لوٹ آیا ۔ یہاں آکر مجھے وسوسوں نے گھیر لیا کہ جس مرشد سے ملاقات مشکل ہو اس کے بجائے کسی اور پیر سے مرید ہونا چاہئے ۔ اس رات جب میں سویا تو خواب میں امیر اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے دادا مُرشد اعلیٰ حضرت، اِمامِ اَہلسنّت، مولیٰنا شاہ امام اَحمد رضا خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن تشریف لے آئے ۔ ان کے چہرے پر ناگوار ی کے اثرات ظاہر تھے ۔ جلال میں ارشاد فرمایا : ’’لاؤ! ہمارے وظائف واپس کر دو ۔ ‘‘ میں نے مؤدبانہ عرض کی : ’’ حضور کس لئے ؟‘‘ فرمایا : ’’غلطی کرتے ہو، پھر پوچھتے ہو کیا ہوا؟‘‘ میں سمجھ گیا کہ اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحمَۃُ رَبِّ الْعِزَّت امیر اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے متعلق وسوسے کا شکار ہونے پر مجھے تنبیہہ فرما رہے ہیں ۔ میں نے رو رو کر معافی مانگی ۔ تو آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا : سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں حاضر ہوکر اللہ تعالیٰ سے توبہ کرو ۔ میں بیدار ہو کر بارگاہِ رسالت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم میں حاضر ہوا اور رو رو کر توبہ کی ۔
کم و بیش چار دن بعد اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحمَۃُ رَبِّ الْعِزَّت نے دوبارہ خواب میں کرم فرمایا ۔ اس مرتبہ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے چہرے پر خوشی کے آثار تھے ، محبت سے میرا ہاتھ تھاما اور فرمایا : ’’میرا عکس کراچی میں ہے ۔ ‘‘ میں جان گیا کہ یہ امیر اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے لئے فرما رہے ہیں ۔ پھر فرمایا : ’’تمہیں جو بھی الیاس سے ملا ہے ، سمجھو وہ مجھ سے ملا ہے ۔ ‘‘ میں نے عرض کی : ’’میں اپنے امیر اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ سے ملاقات کا خواستگار ہوں ۔ ‘‘ اس پر فرمایا : ’’اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ تمہاری ملاقات ضرور ہو گی، جب ملاقات ہو تو میرا سلام الیاس کو کہنا ۔ ‘‘ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ 17 ربیع النور شریف1430ھ بروز پیر شریف اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحمَۃُ رَبِّ الْعِزَّت کے فرمان کے مطابق مجھے امیر اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی بارگاہ میں سحری کی سعادت حاصل ہوئی اور ملاقات کا شرف بھی ملا تو میں نے آپ دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کو اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحمَۃُ رَبِّ الْعِزَّت کا سلام بھی پہنچادیا ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی ا میرِ ا ہلسنّت پر رحمت ہو ا ور ان کے صدقے ہماری بے حساب مغفرت ہو ۔
٭…٭…٭…٭
امام غزالی کے بیان کردہ اوصاف اور امیر اہلسنت
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! امام غزالی کے بیان کردہ مرشد کامل میں پائے جانے والے 26اوصاف کی روشنی میں امیرِ اہلسنت کی حیاتِ طیبہ پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ بلاشبہ آپ جامع شرائط پیر ہیں ۔ فرائض و واجبات کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ دیگر نفلی عبادتوں اور خوفِ خدا وعشقِ رسول، جذبۂ اِتباعِ قرآن وسنّت، جذبۂ اِحیائے سنّت، عفو ودرگزر، صبر وشکر، عاجزی و اِنکساری، اخلاص وتقوی، حسنِ اخلاق، جود وسخا، عبادت وریاضت، دنیاسے بے رغبتی، حفاظتِ ایمان کی فکر، فروغِ علم دین و تبلیغِ دین بالخصوص خدمتِ مسلکِ اَہلسنّت، محبوبانِ بارگاہِ الٰہی خصوصاً اعلیٰ حضرت، امام اہلسنت، مجددِ دین وملت، پروانہ شمعِ رسالت مولانا شاہ اَحمد رضا خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَحْمٰن سے انتہائی محبت وعقیدت، لوگوں سے ہمدردی وخیر خواہی کا ذہن، تمام معاملات (مثلاً خرید وفروخت، نکاح وغیرہ) حتی کہ علاج معالجہ کے بارے میں بھی لوگوں کی رہنمائی وغیرہ جیسی صفات نے آپ دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کو کروڑوں مسلمانوں کے دلوں کی دھڑکن بنا دیا ۔ دولت مندوں اور اربابِ اقتدار شخصیات سے بے نیازی نے آپ دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کو مزید ممتاز کر دیا، اَہلِ ثَروَت، مال ودولت کے انبار آپ کی ذات کے لئے پیش کرتے ہیں مگر آپ منع فرما دیتے ہیں ۔
آپ دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے کردار کی بلندیوں سے متأثر ہو کر لاکھوں لاکھ مسلمان آپ کے ہاتھوں بیْعَتْ کر کے حضور سیدنا غوث الاعظم دستگیر پیرانِ پیر شَیخ عبد القادرجیلانی قُدِّسَ سِرُّہُ النّوْرَانِی کے دامنِ کرم سے وابستہ ہو چکے ہیں ۔ اَولیائے کرام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلَام کے دامن سے وابستگان پر چونکہ ربّ کائنات کے بے شمار انعامات ہوتے ہیں کہ انہیں دیکھ کر عقل بھی دنگ رہ جاتی ہے ۔ چنانچہ اِس پُر فِتن دور میں گاہے بگاہے اُن خوش نصیب اسلامی بھائیوں اور بہنوں کو جنہیں امیر اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے دامن سے وابستگی کی حیرت انگیز بَرَکتیں حاصل ہوئیں ، کے متعلق یہ واقعات سننے اور دیکھنے میں آتے رہتے ہیں کہ انہیں نہ صرف وقتِ موت کلمہ طیبہ نصیب ہوا بلکہ جن خوش نصیبوں کی قبریں طویل مدت کے بعد کسی حاجتِ شدیدہ کے باعث کھولی گئیں تو ان کے نہ صرف جسم اور کفن سلامت تھے بلکہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ ان کی قبر وں سے خوشبو کی لپٹیں بھی آرہی تھیں ۔ چنانچہ،
شہیدِ دعوتِ اسلامی
۲۵ رَجَبُ الْمُرَجَّب ۱۴۱۶ھ رات تقریباً پونے گیارہ بجے مرکز الاولیاء لاہور کے پونچھ روڈ کا مارکیٹ ایریا شدید فائرنگ کی تڑ تڑ سے گونج اٹھا ۔ ہر طرف خوف و ہراس پھیل گیا اور دھڑا دھڑ دکانیں بند ہونے لگیں ۔ جب لوگوں کے حواس کچھ بحال ہوئے تو دیکھا کہ ایک کار شعلوں کی لپیٹ میں ہے ۔
دَرْاصْل تبلیغِ قرآن وسنّت کی عالمگیر غیر سیاسی تَحریک دعوتِ اسلامی کی عام مقبولیت اور اسلام کی حقیقی شان و شوکت کا عُروج برداشت نہ کرتے ہوئے ”کسی“ کے اشارے پر دَہشت گردوں نے شَیخِ طریقت، امیرِ اَہلسنّت، بانیٔ دعوتِ اسلامی ابوبلال حضرتِ مولانا محمد الیاس عطّار قادِری رَضَوی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی جان لینے کی ناکام کوشش کی تھی ۔ مگر ”جسے خدا رکھے اسے کون چکھے “ کے مصداق دشمن کا منصوبہ خاک میں مل گیا اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے سنتوں کی مزید خدمت لینے کے لئے اپنے پیارے حبیب کے عاشق کو آنچ نہ آنے دی ۔
اس فائرنگ کے نتیجے میں مبلغِ دعوت اسلامی محمد سجاد عطّار ی اور الحاج محمد اُحد رضا عطّاری جامِ شہادت نوش کر گئے ۔ دونوں شہیدانِ دعوت اسلامی کو مرکز الاولیاء لاہور کے مشہور مِیانی قبرستان میں سپردِ خاک کیا گیا ۔ تدفین کے تقریباً آٹھ ماہ بعد لاہور میں شدید بارشیں ہوئیں ۔ جس کے سبب شہیدِ دعوت اسلامی حاجی اُحد رضا عطّاری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِی کی قبر مُنْہَدَم ہو گئی ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع