30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
شیخِ طریقت امیرِ اہلِسنّت بانی دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد اِلیاس عطار قادِری دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے حصولِ علم کے ذرائع میں سے مطالعہ کتب اور صحبتِ علما کے ذریعے کو اختیار فرمایا ۔ اس سلسلے میں آپ دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے سب سے زیادہ اِستفادہ مفتیٔ اعظم پاکستان حضرت علامہ مفتی وقارُ الدین قادِری رَضَوی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی سے کیا اور مسلسل 22سال آپ دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ مفتیٔ اعظم پاکستان عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْحَنَّان کی صحبت بابَرَکت سے مستفیض ہوتے رہے حتی کہ مفتی وقارالدین قادِری رَضَوی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی نے امیرِ اَہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کورَجَبُ الْمُرَجب 1404ھ بمطابق اپریل 1984ء میں اپنے گھر سمن آباد گلبرگ ٹاؤن باب المدینہ کراچی میں اپنی خلافت واجازت سے بھی نوازا ۔ چنانچہ وقار الفتاویٰ میں امیرِ اہلسنت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے متعلق یہ اظہارِ خیال فرمانے کے بعد کہ میں انہیں عرصہ ۲۲ سال سے جانتا ہوں ، آپ فرماتے ہیں : وہ میرے خلیفہ بھی ہیں ، ان کے سنی ہونے میں کوئی شبہ نہیں ہے ، پکے سنی ہیں ، اعلیٰ حضرت کے شیدائی ہیں ۔ ([1])
امیرِ اَہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ خود اپنے متعلق دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃُ المدینہ کے مطبوعہ 52صَفحات پر مشتمل رسالے ، ”تذکرۂ صدر الشریعہ“ کے صَفْحَہ 2پر لکھتے ہیں : تبلیغِ قراٰن وسنّت کی عالمگیر غیرسیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کے قیام سے بہت پہلے میرے عہدِ طُفُولیت (یعنی بچپن یا لڑکپن) کا واقعہ ہے ۔ جب ہم بابُ المدینہ کے اندر گؤ گلی، اولڈ ٹاؤن میں رہائش پذیر تھے ، محلّے میں بادامی مسجِد تھی جو کہ کافی آباد تھی، پیش اِمام صاحِب بَہُت پیارے عالم تھے ، روزانہ نَمازِ عشا کے بعد نَماز کے دو ایک مسائل بیان فرما یا کرتے تھے (کاش ! ہر امامِ مسجِد روزانہ کم از کم کسی ایک نَماز کے بعد اسی طرح کیا کرے ) جس سے کافی سیکھنے کو ملتا تھا ۔ ایک دن میں اپنے بڑے بھائی جان (مرحوم) کے ساتھ غالِباً نَمازِ ظہر اِسی بادامی مسجِد میں ادا کر کے باہَر نکلا تھا، پیشِ امام صاحِب فارِغ ہو کر مسجِد کے باہَر تشریف لا چکے تھے ۔ کسی نے کوئی مسئلہ پوچھا ہو گا اِس پر انہوں نے کسی کو حکم فرمایا : بہارِ شریعت لے آؤ ۔ چُنانچِہ ایک کتاب ان کے ہاتھوں میں دی گئی اُس پر جلی حُرُوف سے بہارِ شریعت لکھا تھا، سرِوَرَق پر سورج کی کرنوں کے مُشابہ خوبصورت دھاریاں بنی ہوئی تھیں ، امام صاحِب نے وَرَق گردانی شروع کی، مجھے اُس وَقت خاص پڑھنا تو آتا نہیں تھا ۔ جگہ جگہ جلی جلی حُرُوف میں لفظِ مسئلہ لکھا تھا، چُونکہ مسائل سُن کر بَہُت سُکون ملتا تھا اِس لئے میرے منہ میں پانی آ رہا تھا کہ کاش! یہ کتاب مجھے حاصِل ہو جاتی! لیکن نہ میں نے مذہبی کتابوں کی کوئی دکان دیکھی تھی نہ ہی یہ شُعُور تھا کہ یہ کتاب خریدی بھی جا سکتی ہے ، خیر اگر مَول ملتی بھی تو میں کہاں سے خریدتا! اتنے پیسے کس کے پاس ہوتے تھے ! بَہَرحال بہارِ شریعت مجھے یاد رَہ گئی اور آخِر کار وہ دن بھی آہی گیا کہ اللہ رَبُّ الْعِزَّت کی رحمت سے میں بہارِشریعت خریدنے کے قابل ہو گیا ۔ اُن دنوں مکمَّل بہارِشریعت (دو جلدوں میں ) کا ہدِیَّہ پاکستانی 32روپیہ تھا جبکہ بِغیر جِلد کی 28روپیہ ۔ چُنانچِہ میں نے مکمَّل بہارِشریعت (غیرمُجلّد) 28روپے میں خریدنے کی سعادت حاصِل کی ۔ اُس وقت بہارِ شریعت کے 17حصے تھے ، البتَّہ اب 20ہیں ۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ میں نے بہارِ شریعت سے وہ فُیوض و بَرَکات حاصِل کئے کہ بیان سے باہَر ہیں ، مجھے اس کتاب کی برکات سے معلومات کا وہ اَنمول خزانہ ہاتھ آیا کہ میں آج تک اس کے گُن گاتا ہوں ۔
یوں بہارِ شریعت سے جس ذوقِ مطالعہ کا آغاز اور شوق پیدا ہوا اب باقاعدہ ایک کتاب گھر (یعنی کتب خانہ) کی شکل اختیار کر چکا ہے ، جس کی کتابوں میں رفتہ رفتہ اِضافہ ہوتا جا رہا ہے اور آج علمِ قراٰن وحدیث، عقائد، فقہ اور تصوف کے درجنوں موضوعات پر سینکڑوں کتب ورسائل آپ دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے کتاب گھر کی زینت ہیں جن میں ترجمۂ کنز الایمان مع تفسیر خزائن العرفان، فتاوٰ ی رضویہ شریف، بہارِ شریعت اور اِحیاء العلوم سرِفہرست ہیں ۔
د ینی مسا ئل پر امیر اہلسنّت کا عُبور :
شوقِ مطالعہ، غوروتفکر اورجیّد عُلَمَائے کِرام سے تَحْقِیق وتَدْقِیق کی وجہ سے امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کو مسائلِ شَرعیہ کی کافی معلومات ہیں ۔ آپ دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی تَحریر کردہ کُتُب مثلاً فیضانِ سنّت، نماز کے احکام، اسلامی بہنوں کی نماز، چندے کے بارے میں سوال جواب، رفیقُ الحَرَمین، رفیقُ المُعْتَمِرِین نیز کفریہ کلمات اور پردہ وغیرہ کے موضوعات پر آپ کی تالیفات تَفَقُّہ فِی الدِّین میں آپ کے اعلیٰ مقام کا پتا دیتی ہیں ۔ خلیفہ آستانہ عالیہ محدثِ اعظم پاکستان، حضرت علامہ مولانا مفتی محمد اشفاق صاحب مَدَّ ظِلُّہُ الْعَالِی لکھتے ہیں : آپ دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے کثرتِ مطالعہ، بحث وتمحیص اور اکابر علمائے کرام سے تحقیق وتدقیق کے ذریعہ سے مسائلِ شرعیہ پر عُبُور حاصل کر لیا ہے ۔ امامِ اہلسنت اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحمَۃُ رَبِّ الْعِزَّت کی کتب کا مطالعہ، اعلیٰ حضرت عظیم البرکت کے علمی فیضان کا ذریعہ ہے ۔ ان کے مسلک پر تَصَلُّب (یعنی مضبوطی) ، شریعتِ مطہرہ کی پابندی، رُوحانی عُرُوج کا سبب ہے ۔ حج وعمرہ کے مسائل پر آپ کی تحریر کردہ کتاب رَفِیْقُ الْحَرَمَین اور رَفیِقُ الْمُعْتَمِرِین فقہ میں آپ کی تحقیق وتدقیق کی غماز ہیں ، اصلاح وتربیت کے لئے قولِ حسن اور مثالی صلاحیت پر فیضانِ سنَّت شاہدِعدل ہے ، علمِ دین سے غایت دَرَجہ کا شغف باعمل علمائے کرام کے احترام اور مدارسِ دینیہ سے لگاؤ کا مُوجِب ہے ۔
آپ دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی وُسْعَتِ علمی دیکھنی ہوتو سُوالات وجوابات کے وہ اجتماعات سُن اور دیکھ لیجئے جو وقتاً فوقتاً منعقد ہوتے رہتے ہیں جنہیں مَدَنی مذاکرات کا نام دیا گیا ہے ۔ ان میں امیرِ اَہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ مختلف موضوعات مثلاً عقائد واعمال، شَرِیْعَت وطریقت، فقہ وطب، تاریخ وآثار، اَورادو وظائف، گھریلوو معاشرتی مسائل نیز تنظیمی مشکلات سے متعلق پوچھے گئے سینکٹروں سوالات کے جوابات ارشاد فرما چکے ہیں ۔ یہ مدنی مذاکرے مکتبۃُ المدینہ کے ذریعے کیسٹ و رَسائل اورسی ڈیز کی صورت میں منَظَرِ عام پر آنے کے ساتھ ساتھ مدنی چینل پر بھی نشر ہوتے رہتے ہیں ۔
علم کا سمندر ہونے کے باوجود آپ دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ آغاز میں شرکائے مَدَنی مذاکرہ سے کچھ اس طرح عاجزی بھرے اَلفاظ ارشاد فرماتے ہیں : ”آپ سوالات کیجئے ، یاد رہے کہ ہر سوال کا جواب وہ بھی باِلصَّواب (یعنی دُرُست) دے پاؤں یہ ضروری نہیں ، معلوم ہوا تو عرض کرنے کی کوشش کروں گا ۔ اگر مجھے بھول کرتا پائیں تو فوراً میری اِصلاح فرما دیجئے ، مجھے اپنے موقف پر
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع