30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی امیرِ اَہلسنّت پَر رَحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری مغفِرت ہو ۔
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
امیر اہلسنت کی امام اہلسنت سے محبت :
اعلیٰ حضرت، امام اہلسنت، مجدد دین و ملت، پروانۂ شمع رسالت، مولانا شاہ احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَحْمٰن اہلسنت کی شان بلکہ پہچان ہیں ، ان کے دامنِ کرم سے وابستہ ہونے والے ہر فرد کی طرح امیر اہلسنت بھی عشقِ رسول سے سرشار ہیں ، بلکہ آپ تو چہار سو چار دانگِ عالَم میں اعلیٰ حضرت کے نام کا ڈنکا بجانے والے اور آپ کی محبت کا دم بھرنے والے ہیں ۔ آپ جس محبت بھرے انداز میں اعلیٰ حضرت کا ذکر فرماتے ہیں وہ اپنی مثال آپ ہے ۔ چنانچہ آپ کی تحریروں اور تقریروں میں اعلیٰ حضرت کا تذکرہ کچھ یوں ملتا ہے : اِمامِ اَھْلِسُنّت، ولیِ نِعمت، عظیمُ البَرَکَت، عظیمُ المَرْتَبت، پروانۂِ شَمْعِ رِسالت، مُجَدِّدِ دین ومِلَّت، حامیِ سنّت، ماحِیِ بِدعت، عالِمِ شَرِیْعَت، پیرِ طریقت، باعثِ خَیْر و بَرَکت، امامِ عشق ومحبّت حضرتِ علامہ مولانا الحاج الحافِظ القاری شاہ امام اَحمد رَضا خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن ۔ اور ایک مقام پر تو آپ فرماتے ہیں : میں بِلا خوفِ لَومَۃِ لائِم (یعنی مَلامت کرنیوالے کی ملامت سے ڈرے بِغیر) کہتا ہوں کہ ربُّ العلی عَزَّ وَجَلَّ کی پہچان میٹھے میٹھے مصطَفے ٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ذَرِیعے ہوئی تو مجھے میٹھے میٹھے مصطَفے ٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی پہچان امام احمد رضا رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے سبب نصیب ہوئی ۔
امیر اہلسنت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے اعلیٰ حضرت کے وسیلے سے سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی محبت کا جو ابدی و سرمدی جام پیا، آپ نے اس کی لذتوں سے دوسروں کو بھی خوب آشنا کیا کہ ان کے دامن سے وابستہ ہونے والے کسی اسلامی بھائی اور اسلامی بہن پر گمراہی و بدعقیدگی کا کوئی حربہ کارگر ثابت نہیں ہو سکتا ۔ آپ نے بدعقیدگی کے اس عفریت کو بوتل میں بند کرنے کے لیے رات دن ایک کر دیئے ہیں ۔ چنانچہ اسلامی بھائیوں اور اسلامی بہنوں کو بدمذہبوں اور بدعقیدہ لوگوں کی صحبتِ بد سے دور رہنے کی تلقین کرتے ہوئے دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ 505 صَفحات پر مشتمل کتاب ’’غیبت کی تباہ کاریاں ‘‘ صَفْحَہ 62 پر فرماتے ہیں : بُری صُحبت سے ہمیشہ دُور رہیں اور فَقَط عاشقانِ رسول ہی کی صُحبت اپنائیں ۔ بدمذہبوں کی صُحبت ایمان کیلئے زہرِ قاتل ہے ، ان سے دوستی اور تعلُّقات رکھنے کی احادیثِ مبارکہ میں مُمانَعَت ہے ۔ چُنانچِہ سلطانِ عَرَب، محبوبِ رب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عبرت نشان ہے : ”جو کسی بد مذہب کو سلام کرے یا اُس سے بکُشادہ پیشانی ملے یا ایسی بات کے ساتھ اُس سے پیش آئے جس میں اُس کا دل خوش ہو، اس نے اس چیز کی تحقیر کی جو اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے محمد صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر اُتاری ۔ ([1]) رسولِ نذیر، سِراجِ مُنیر، محبوبِ ربِّ قدیر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ دِلپذیر ہے : ”جس نے کسی بد مذہب کی(تعظیم و) توقیر کی اُس نے دین کے ڈھا دینے پر مدد دی ۔ ([2])
میرے آقا اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحمَۃُ رَبِّ الْعِزَّت فتاوٰی رضویہ شریف جلد21 صَفْحَہ 184 پر فرماتے ہیں : سُنیّوں کو غیر مذہب والوں سے اِختِلاط (میل جول) ناجائز ہے خُصُوصاً یُوں کہ وہ (بدمذہب) افسر ہوں (اور) یہ (سُنّی) ماتحت ۔
قالَ اللہُ تعالٰی : (یعنی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے )
وَ اِمَّا یُنْسِیَنَّكَ الشَّیْطٰنُ فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّكْرٰى مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ(۶۸) (پ۷، الانعام۶۸)
ترجمۂ کنز الایمان : اور جو کہیں تجھے شیطان بُھلاوے تو یاد آئے پر ظالموں کے پاس نہ بیٹھ ۔
رحمتِ عالم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ معظَّم ہے : تم ان سے دُور رہو اور وہ تم سے دُور رہیں ، کہیں وہ تمہیں گمراہ نہ کر دیں اور فتنے میں نہ ڈال دیں ۔ ([3])
بدمذہب سے دینی یا دنیاوی تعلیم لینے کی مُمانَعَت کرتے ہوئے میرے آقا اعلیٰ حضرت، اِمامِ اَہلسنّت ، مولیٰنا شاہ امام اَحمد رَضا خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں : غیر مذہب والیوں (یا والوں ) کی صُحبت آگ ہے ، ذی عِلم عاقِل بالِغ مردوں کے مذہب (بھی) اس میں بگڑ گئے ہیں ۔ عمران بن حطان رقاشی کا قصّہ مشہور ہے ، یہ تابِعین کے زمانہ میں ایک بڑامُحدِّث تھا ، خارِجی مذہب کی عورت (سے شادی کرکے اس) کی صُحبت میں (رہ کر) مَعاذَ اللہ خود خارِجی ہو گیا اور یہ دعویٰ کیا تھا کہ (اس سے شادی کر کے ) اُسے سُنّی کرنا چاہتا ہے ۔ (یہاں وہ نادان لوگ عبرت حاصِل کریں جو بَزُعمِ فاسِد خود کو بَہُت ”پکّاسُنّی“ تصوُّر کرتے اور کہتے سنائی دیتے ہیں کہ ہمیں اپنے مسلک سے کوئی ہِلا نہیں سکتا، ہم بَہُت ہی مضبوط ہیں !) میرے آقا اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحمَۃُ رَبِّ الْعِزَّت مزید فرماتے ہیں : جب صُحبت کی یہ حالت (کہ اتنا بڑا محدِّث گمراہ ہو گیا) تو (بدمذہب کو) اُستاد بنانا کس دَرَجہ بدتر ہے کہ اُستاد کا اثر بَہُت عظیم اور نہایت جلد ہوتا ہے ، تو غیر مذہب عورت (یا مرد) کی سِپُردگی یا شاگِردی میں اپنے بچّوں کو وُہی دے گا جو آپ (خودہی) دین سے واسِطہ نہیں رکھتا اور اپنے بچّوں کے بَددین ہو جانے کی پرواہ نہیں رکھتا ۔ ([4])
محفوظ خدا رکھنا سدا بے ادَبوں سے
اور مجھ سے بھی سرزد نہ کبھی بے ادبی ہو
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع