دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Islami Zindagi | اسلامی زندگی

book_icon
اسلامی زندگی

وَ اِذَا بُشِّرَ اَحَدُهُمْ بِالْاُنْثٰى ظَلَّ وَجْهُهٗ مُسْوَدًّا وَّ هُوَ كَظِیْمٌۚ(۵۸)[1]

    بلکہ حق یہ ہے  کہ جس عورت کے  پہلے  لڑکی پیداہو وہ رب تعالیٰ کے  فضل سے  خوش نصیب ہے  کیوں کہ حضور سیِّدِ عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلّم کے  دولت خانہ میں اوّل دختر ہی پیدا ہوئی تو گویا رب تعالیٰ نے  سنّتِ نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلّم عطا فرمادی۔

   جو ان لڑکیوں کا گانا بجانا حرام ہے  کیوں کہ عورت کی آواز کا بھی نامحرموں سے  پردہ ہونا ضروری ہے ۔ اگر عورت نَماز پڑھ رہی ہو اور کوئی آگے  سے  گزرنا چاہے  تو یہ عورت سبحان اللہ عَزَّوَجَلَّ !کہہ کر اس کی اطِّلاع نہ دے  بلکہ تالی سے  خبر دے [2] جب آواز کی اس قدر پردہ داری ہے  تو یہ مروّجہ گانے  اور باجے  کا کیا پوچھنا۔

    فرزند کی پیدائش کی خوشی میں نوافل پڑھنا اور صدقہ خیرات کرنا کارِ ثواب ہے مگر برادری کے  ڈر، ناک کٹنے  کے  خوف سے  مٹھا ئی تقسیم کرنا بالکل بے  فائدہ ہے  اور اگر سُودی قرضہ لے  کر یہ کام کئے  تو آخرت کا   گناہ بھی ہے ، اسلئے  اس رسم کو بند کرنا چاہئے ۔

            ڈوم میراثی لوگو ں کو دینا ہر گز جائز نہیں کیونکہ ان کی ہمدردی کرنا دراصل ان کو گناہ پر دلیر کرنا ہے ۔ اگر ان موقعوں پر ان کو کچھ نہ ملے  تو یہ تما م لوگ ان حرام پیشوں کو چھوڑ کر حلال کمائی حاصِل کریں مجھے  تعجّب ہوتا ہے  کہ یہ قومیں یعنی زنانے  (خنثٰی)  ڈوم میراثی، رنڈیاں صرف مسلمان قوم ہی میں ہیں ۔ عیسائی، یہودی، ہندو، سکھ اور پارسی قوموں میں یہ لوگ نہیں ۔اس کی کیا وجہ ہے  ؟ وجہ صر ف یہ ہے  کہ مسلمانوں میں خرافات رسمیں زِیاد ہ ہیں اور ان لوگوں کی انہی رسموں کی وجہ سے  پرورش ہوتی ہے  اور دیگر قوموں میں نہ یہ رسمیں ہیں نہ اس قسم کے  لوگ اور یقینا ایسی پیشہ ور قومیں مسلم قوم کی پیشانی پر بدنُما داغ ہیں ، خدا کرے  یہ لوگ حلال روزی کماکر گزارہ کریں ۔

            بہن، بہنوئی یا دیگر اہل ِقرابت کی خدمت کرنا بے  شک کارِ ثواب ہے  مگر جبکہ اللہ ورسول عَلَیْہِ السَّلام کو خوش کرنے  کیلئے  کی جائے  اگر دنیا کے  نام و نمود اوردکھلاوے  کیلئے  یہ خدمتیں ہوں تو بالکل بے  کار ہے ۔ دکھلاوے  کی نماز بھی بے  فائدہ ہوتی ہے  اور اس موقعہ پر کسی کی نیّت رضائے  الٰہی نہیں ہوتی محض رسم کی پابندی اور دکھلاوے  کیلئے  سب کچھ ہوتا ہے  ورنہ کیا ضرورت ہے  کہ چھوچھک کے  آگے  باجا بھی ہودنیا کو بھی جمع کیا جائے  پھر مالدار آدمی اس خرچ کو برداشت کرلیتا ہے  مگر غریب مسلمان ان رسموں کو پورا کرنے  کیلئے  یا تو سودی قرض لیتا ہے  یا گھر رہن کرتا ہے  لہٰذا ان تمام مصارف کو بند کرنا نہایت ضروری ہے ۔ ہزارہا موقعوں پر اپنی لڑکیوں اور بہنوں کو اس لئے  دو کہ یہ رسولِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا حکم ہے  مگر ان رسموں کو مٹادو، زکام روکو تاکہ بخار جائے ۔ آج یہ حالت ہے  کہ اگر بچہ پیدا ہونے  پر دلہن کے  میکے  سے  یہ رسمیں پوری نہ کی جاویں تو ساس و نند کے  طعنوں سے  لڑکی کی زندگی وبال ہوجاتی ہے  اور ادھر خانہ جنگی شروع ہوجاتی ہے  اگر یہ رسمیں مٹ جائیں تو ان لڑائیوں کا دروازہ ہی بند ہوجائے ۔

اسلامی رسمیں

بچّہ کے  پیدا ہونے  پریہ کام کرنے  چاہئیں : بچہ پیدا ہوتے  ہی غسل دیا جائے ، نال کاٹا جائے  اور جس قدر جلدی ہوسکے  اس کے  داہنے  کان میں اذان اور بائیں کان میں تکبیر کہی جائے  خواہ گھر کا کوئی آدمی ہی اذان اور تکبیر کہہ دے  یا مسجِد کا مؤذن یا امام کہے  اور اگر اذان کہنے  پر خیرات و صدقہ کی نیّت سے  ان کی کوئی خدمت کردی جائے  تو بہت اچھّا ہے  کیونکہ یہ حق تعالیٰ کا شکر یہ ہے  پھر یہ کوشِش کی جاوے  کہ بچّے  کو پہلی گھٹّی(گڑتی ) کوئی نیک آدمی دے  کیوں کہ تفسیرِروح البیان میں ہے  کہ ’’بچہ میں پہلی گھٹی دینے  والے  کا اثر آتا ہے  اور اس کی سی عادات پیدا ہوتی ہیں ۔‘‘ بلکہ سنّت تو یہ ہے  کہ بچہ کی تَحْنِیْک کر دی جائے ، تَحْنِیْک اسے  کہتے  ہیں کہ کوئی نیک آدمی اپنے  منہ میں کھجور یا خرمہ چباکر بچے  کے  تالو سے  لگا دے  تاکہ بچے  کے  پیٹ میں سب سے  پہلے  جو غذا پہنچے  وہ خرمہ ہو اور کسی بزرگ کے  منہ کا لعاب۔ صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے  اپنے  بچوں کی تَحْنِیْک کرایا کرتے  تھے ۔ دائی کی اُجرت مقرر ہونی چاہئے  جو اس کام کے  بعد دے  دی جائے  اگر فرزند کی خوشی میں میلاد شریف یا فاتحہ بزرگان کردی جاوے  تو بہت اچھّا ہے  اس کے  سوا تمام رسومات بند کردی جائیں ۔چھوچھک و بھات کو مٹانا سخت ضروری ہے ۔

دوسرا باب

عقیقہ اورختنہ کی مروّجہ رسمیں

            عام طور پر عقیقہ اور ختنہ کے  موقع پر یہ رسمیں ہوتی ہیں ، بہت سی جگہ عقیقہ کرتے  ہی نہیں بلکہ چَھٹی کرتے  ہیں وہ یہ کہ بچہ کی پیدائش کے  چھٹے  دن، رات کے  وقت عورتیں جمع ہوکر مل کر گاتی بجاتی ہیں پھر زچہ کو کوٹھڑی سے  باہر لاکر تارے  دکھاکر گاتی ہیں پھر میٹھے  چاول تقسیم کئے  جاتے  ہیں ۔ گیت نہایت بیہودہ گائے  جاتے  ہیں یہ رسم خالص ہندوانی ہے  اور جو لوگ عقیقہ کرتے  بھی ہیں تو وہ اپنی برادری کے  لحاظ سے  جانور ذبح کرتے  ہیں میں نے  یہ دیکھا ہے  کہ بڑی برادری والے  لوگ چھ



[1]    (ترجمہ کنزالایمان)اورجب ان میں کسی کوبیٹی ہونے  کی خوشخبری دی جاتی ہے  تودن بھراس کامنہ کالارہتاہے  اوروہ غصہ کھاتاہے ۔(پ14، النحل58)

[2]    یعنی سیدھے  ہاتھ کی انگلیاں الٹے  ہاتھ کی پشت پر مارے ۔(ردالمحتارعلی الد   رالمختار، کتاب الصلاۃ، باب مایفسد الصلاۃ، ج۲، ص۴۸۶)

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن