30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اورٹھوکریں کھاتے پھرتے ہیں ۔ ایک نہایت شریف خاندانی رئیس نے اپنے باپ کے چالیسویں کی رو ٹی کے لئے ایک ہندو سے چار سور وپے قر ض لئے جس سے ستا ئیس سو روپے دے چکے ہیں اور پندرہ سواور باقی تھے ان کی جائیداد بھی قریباً ختم ہوچکی، اب وہ زندہ ہیں ، صاحب اولاد ہیں فاقہ سے گز ر کر رہے ہیں ۔
اپنی قوم کی اس مصیبت کو دیکھ کر میرا دل بھر آیا، طبیعت میں جوش پیدا ہوا کہ کچھ خدمت کرو ں ۔ رو شنائی کے یہ چند قطرے حقیقت میں میرے آنسوؤں کے قطرے ہیں خدا کرے کہ اس سے قوم کی اصلاح ہوجائے ۔ میں نے یہ محسوس کیا کہ بہت سے لوگ ان شادی بیاہ کی رسموں سے بیزار تو ہیں مگر برادری کے طعنوں اور اپنی ناک کٹنے کے خوف سے جس طر ح ہوسکتا ہے قرض ادھار لے کر ان جہالت کی رسموں کو پورا کرتے ہیں ۔ کوئی ایسا مردِ میدان نہیں بنتا جو بلا خوف ہر ایک کے طعنے برداشت کر کے تمام رسموں پرلات مار دے اور سنت کو زندہ کر کے دکھادے جو شخص سنت ِمُؤَکَّدَہ کو زندہ کرے اس کو سو شہیدوں کا ثواب ملتا ہے کیونکہ شہید تو ایک دفعہ تلوار کا زخم کھا کر مر جاتا ہے مگر یہ اللہ کا بندہ عمر بھر لوگوں کی زبانوں کے زخم کھاتا رہتاہے ۔
واضح رہے کہ مروجہ رسمیں دو قسم کی ہیں ایک تو وہ جو شرعاً نا جائز ہیں دوسری وہ جو تباہ کن ہیں اور بہت دفعہ ان کے پورا کرنے کے لئے مسلمان سودی قرض لیتے ہیں اور سود دینا بھی حرام ہے اور لینا بھی ۔ اس لئے یہ رسمیں حرام کا م کا ذریعہ ہیں اس رسالہ میں دو نوں قسم کی رسموں کا ذکر کیا جائے گا او ر بیان کا طریقہ یہ ہوگا کہ اس رسالے کے علیٰحدہ علیٰحدہ باب ہوں گے ، یعنی پیدا ئش کی رسموں کا ایک باب پھربیاہ شادی کی رسموں کا ایک باب پھر موت کی رسموں کا علیٰحدہ باب وغیرہ وغیرہ۔ ہر رسم کے متعلق تین باتیں عرض کی جائیں گی اول تو مروجہ رسم اور پھر اس کی خرابیاں پھر اس کا مسنون اور جائز طریقہ۔
اس کتاب کا نام ’’اسلامی زندگی‘‘ رکھتا ہوں اور رب کریم کے کرم سے امید ہے کہ وہ اپنے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے صدقہ میں اس کو اسم بامُسمّٰی بنائے اور قبول فرما کر مسلمانوں کو اس پر عمل کی تو فیق دے میرے لئے اس کو تو شہء آخرت اور صدقہ جاریہ بنادے ۔
اٰمِیْن اٰمِیْن یَا رَبَّ الْعٰـلَمِیْنَ بِجَاہِ رَسُوْلِکَ الرَّئُ وْفِ الرَّحِیْمِ وَ اٰلِہٖ وَاَصْحَابِہٖ اَجْمَعِیْنَ
ناچیز
احمد یار خان نعیمی اوجھانوی بدایونی
دوم صفر المظفر یوم جمعۃ المبارک ۱۳۶۳ ھ
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
بچہ کی پیدائش کے موقعہ پر مختلف ملکوں میں مختلف رسمیں ہیں مگر چند رسمیں ایسی ہیں جو تقریباً کسی قدر فرق سے ہر جگہ پائی جاتی ہیں وہ حسبِ ذیل ہیں :
{1}لڑکا پیدا ہونے پر عام طور پر زِیادہ خوشی کی جاتی ہے اور اگر لڑکی پیدا ہو تو بعض لوگ بجائے خوشی کے رنج و غم محسوس کرتے ہیں ۔
{2}پہلے بچہ پر زِیادہ خوشی کی جاتی ہے پھر اور بچوں پر خوشی منائی تو جاتی ہے مگر کم۔
{3}لڑکا پیدا ہوتو پیدائش کے چھ روز تک عورتیں مل کر ڈھول بجاتی ہیں ۔
{4}پیدائش کے دن لڈّو، یا کوئی مٹھائی اہلِ قرابت میں تقسیم ہوتی ہے ۔
{5}اس دن میراثی ڈوم، دوسرے گانے بجانے والے گھر گھیر لیتے ہیں اور بیہودہ گانے گاکر انعام کے خواستگار ہوتے ہیں ، منہ مانگی چیز لے کر جاتے ہیں ۔
{6}بہن، بہنوئی وغیرہ کوجوڑے روپیہ وغیرہ بہت سی رسموں کے ماتحت دیئے جاتے ہیں ، َلٹ دھلائی، گوند بنوائی وغیرہ۔
{7}دلہن کے ماں ، باپ، بھائی کی طرف سے چھوچَھک آنا ضروری ہوتا ہے جس میں کہ دولہا دلہن، ساس سسر، نند، نندوئی حتٰی کہ گھر کے بِہِشْتی، بھنگی کے لئے بھی کپڑوں کے میں (یہ ہے )کہ دولہادلہن، ساس سسر، نند نندوائی، حتٰی کہ گھر کے بہشتی بھنگی کیلئے بھی کپڑوں کے جوڑے نقدی اور اگر لڑکی پیدا ہوئی ہے تو بچّی کیلئے چھوٹا چھوٹا زیور ہونا ضَروری ہے غرضیکہ میکہ و سسرال کا دیوالیہ ہوجاتا ہے ۔
(۸) مالن اور بھٹیاری[1] گھر کے دروازے پر پتّوں کا سہرا یا کاغذ کے پھول باندھتی ہیں جس کے معاوضہ میں ایک جوڑا اور روپیہ کم از کم وصول کرتی ہیں ۔
لڑکی پیدا ہونے سے رنج کرنا کفّار کا طریقہ ہے ۔ جس کے متعلق قراٰنِ کریم فرماتا ہے :
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع