30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
یوں توہر مسلمان کو خوش خُلق ہونا لازم ہے مگر تا جر کو خصوصیت سے خوش خُلقی ضروری ہے ۔ مسلمان تا جرو ں کی نا کامی کا ایک سبب ان کی بد خُلقی بھی ہے کہ جو گا ہک ان کے پاس ایک با ر آگیا وہ ان کی بد خُلقی کی وجہ سے دوبا ر ہ نہیں آتا ۔ ہم نے ہندو تاجروں کو دیکھا کہ جب وہ کسی محلہ میں نئی دوکا ن رکھتے ہیں تو چھوٹے بچو ں کو جو سودا خرید نے آئیں کچھ رونک یا چو نگا بھی دیتے رہتے ہیں تا کہ بچے اس لا لچ میں ہمارے ہی یہاں سے سودا خریدیں ، بڑے سود اگر خاص گا ہکوں کی پان ، بیڑی، سگرٹ بلکہ کبھی کھانے سے بھی تواضع کرتے ہیں یہ سب با تیں گاہک کو ہلالینے کی ہیں اگر تم یہ کچھ نہ کر سکو تو کم از کم گاہک سے ایسی میٹھی بات کر و اور ایسی محبت سے بو لو کہ وہ تمہارا گر وید ہ ہوجائے ۔
تاجر کو نیک چلن ، دیا نتدارہونا ضروری ہے ، بد چلن ، بدمعاش ، حرام خور کبھی تجارت میں کامیاب نہیں ہوسکتا، اسے بد معا شی سے فر صت ہی نہ ملے گی تجارت کب کرے ، مشرکین وکفارتجارت میں بہت دیانتداری سے کام لیتے ہیں ، دیانتداری سے ہی بازار سے قرض مل سکتا ہے ، دیا نتداری سے ہی لوگ اس پر بھر وسہ کریں گے ، دیا نتداری سے ہی بنک اور کمپنیاں چلتی ہیں ۔ کم تو لنے والا ، جھوٹا، خائن کچھ دن تو بظاہر نفع کمالیتا ہے مگر آخر کا ر سخت نقصان اٹھاتا ہے ۔
یوں تو دنیا میں کوئی کام بغیر محنت نہیں ہوتا مگر تجارت تو سخت محنت ، چستی اور ہوشیاری چاہتی ہے ۔کاہل سست آدمی کبھی کسی کام میں کامیاب نہیں ہوسکتا مثل مشہور ہے کہ بغیر محنت تو لقمہ بھی منہ میں نہیں جاتا ، تا جر خواہ کتنا ہی بڑا آدمی بن جائے مگر سارے کام نوکروں پر ہی نہ چھو ڑدے بعض کام اپنے ہاتھ سے بھی کرے ، ہم نے بَنیوں کو اپنے ہاتھ سے دالیں دَلتے اور سود ا خود اٹھا کر لا تے ہوئے دیکھا ۔
تجارت کے چند اصول ہیں جس کی پابند ی ہر تا جر پر لازم ہے یعنی پہلے ہی بڑی تجارت شروع نہ کردو بلکہ معمولی کام کو ہاتھ لگاؤ ۔ آپ حدیث شریف سن چکے کہ حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ایک شخص کو لکڑیا ں کا ٹ کر فروخت کرنے کا حکم فرمایا۔
ایک شخص تجارت کرنا چاہتے تھے وہ کسی مشہور فر م کے مالک کے پاس مشورہ کے لئے پہنچے ۔ ان کا خیال تھا کہ تجارت میں نہایت پوشیدہ راز ہوں گے جنہیں معلوم کرتے ہی میں ایک دم لاکھ پتی بن جاؤں گا ۔ مالک فرم نے مشورہ دیا کہ آپ پانچ روپیہ کی دیا سلائی کی ڈبیاں لے کر بازار میں بیٹھ جائیں ، اگر شام کو پانچ آنے کے پیسے بھی کمائے تو آپ کامیاب ہیں جب اس کی بِکری کچھ بڑھ جائے تو اس کے ساتھ کچھ سگریٹ کی ڈبیاں بھی رکھ لیں جب یہ کام چل پڑے تو پان چھالیہ بھی رکھ لیں یہاں تک کہ ایک دن پورے پنواڑی بلکہ پورے پنساری بن جائیں گے ۔ دیکھو ہندوؤں کے بچے پہلے ہی مُنِیم نہیں بن جاتے بلکہ اولاً معمولی خوانچے بیچتے ہیں اسی خوانچہ سے ایک دن لکھ پتی بن جاتے ہیں ۔ ہم نے کا ٹھیا واڑ میں میمن تاجروں کو دیکھا کہ جب وہ کسی کو تجارت سکھاتے ہیں تو ایک سال با ور چی رکھتے ہیں ، دو سرے سال ادھار وصول کرنے پر ، تیسرے سال بِلٹیاں چھوڑا نے اور مال روانہ کرنے پر ، چوتھے سال خور دہ فر وشی پر، پھر دکان کی چابیاں سپر د کردیتے ہیں ۔
{1} ہر شخص اپنے مناسب طا قت تجارت کر ے ، قدرت نے ہر ایک کو علیٰحدہ علیٰحدہ کام کیلئے بنایا ہے کسی کو غلہ کی تجارت پھلتی ہے ، کسی کو کپڑے ، کسی کو لکڑی کی ، کسی کو کتابوں کی غرضیکہ تجارت سے پہلے یہ خوب سو چ لو کہ میں کس قسم کی تجارت میں کامیاب ہوسکتا ہوں ۔
میرا مشغلہ شر وع سے ہی علم کا رہا مجھے بھی تجارت کا شو ق تھا کہ میں نے غلہ کی مختلف تجارتیں کیں مگر ہمیشہ نقصان اٹھایا، اب کتا بو ں کی تجارت کو ہاتھ لگایا، رب تعالیٰ نے بڑا فائدہ دیا۔ معلوم ہواکہ علماء اور مدرسین کو علمی تجارت فائدہ مند ہوسکتی ہے ، ہم نے بعض ایسے ہندو ماسٹر بھی دیکھے جو پڑھاتے ہیں اور ساتھ ساتھ قلم ، دوات ، پنسل، کاغذ وغیرہ کی مدرسہ ہی میں تجارت بھی کرتے ہیں اس نفع سے اپنا ماہواری خرچ چلا کر تنخواہ ساری بچاتے ہیں غرضیکہ تجارت کیلئے انتخابِ کار کی بڑی سخت ضرورت ہے ۔
{2} کسی ایسے کام میں ہاتھ مت ڈالو جس کی تمہیں خبر نہ ہواور سب کچھ دوسروں کے قبضہ میں ہو۔
ایک سخت غلطی: اولاً تو مسلمان تجارت کرتے ہی نہیں اور کرتے بھی ہیں تو اصولی غلطیوں کی وجہ سے بہت جلد فیل ہوجاتے ہیں ، مسلمانوں کی غلطیاں حسب ذیل ہیں :
{1}مسلم دکانداروں کی بد خُلقی
کہ جو گا ہک ان کے پاس ایک دفعہ آتا ہے پھر ان کی بد مزاجی کی وجہ سے دوبارہ نہیں آتا ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع