دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Islami Zindagi | اسلامی زندگی

book_icon
اسلامی زندگی

السَّلَام سیر وسیاحت میں رہے  نہ کہیں مکان بنایا نہ نکاح کیا اور فرماتے  تھے  کہ جس نے  مجھے  ناشتہ دیاہے  وہ ہی شام کا کھانا بھی دے  گا۔

            حضور سید عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے  بکریاں بھی چرائی ہیں اور حضرت خدیجہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے  مال کی تجارت بھی فرمائی غرض ہر قسم کی حلال کمائیاں سنت ِانبیاء ہے  اس کو عار جاننا نادانی ہے ۔ (تفسیر نعیمی، عزیزی)

بہتر پیشہ

            افضل پیشہ جہاد پھر تجارت پھر کھیتی باڑی پھر صنعت وحرفت ہے  ، علمائے  کرام نے  فرمایا کہ جائز پیشو ں میں تر تیب ہے  کہ بعض سے  بعض اعلیٰ ہیں ۔

            جن پیشو ں سے  دین ودنیا کی بقا ہے  دو سرے  پیشو ں سے  افضل ہیں چنا نچہ بہتر صنعت دینی تصنیف اور کتا ب ہے  کہ اس سے  قرآ ن وحدیث او رسارے  دینی علوم کی بقا ہے  پھر آٹے  کی پسائی اور چاول کی صاف کرائی کہ اس سے  نفس انسان کی بقا ہے ، پھر روئی دھنائی، سو ت کتا ئی اور کپڑا بننا ہے  کہ اس سے  ستر پوشی ہے  پھر درزی گر ی کا پیشہ بھی کہ اس کا بھی یہی فا ئدہ ہے  پھر رو شنی کا سامان بنانا کہ دنیا کو اس کی بھی ضرورت ہے  پھر معماری ، اینٹ بنانا(بھٹہ) اورچونے  کی تیاری ہے  کہ اس سے  شہر کی آبادی ہے ۔ رہی زرگری ، نقاشی ، کار چو بی ، حلوہ سازی ، عطر بنانا یہ پیشے  جائزہیں مگر ان کا کوئی خاص درجہ نہیں کیونکہ فقط زینت کے  سامان ہیں ۔ خلاصہ یہ ہے  کہ بیکاررہنا بڑاجرم ہے  اور ناجائز پیشے  کرنا اس سے  بڑھ کر جرم، رب تعالیٰ نے  ہاتھ پاؤں وغیرہ بر تنے  کے  لئے  دیئے  ہیں نہ کہ بیکار چھوڑنے  کے  لئے ۔(تفسیر نعیمی، تفسیر عزیزی)

 ناجائز پیشے

             بے  مروتی کے  پیشے  مکروہ ہیں جیسے  ضرورت کے  وقت غلہ روکنا (احتکار)، غسالی، کفن دوزی کے  پیشے ، وکالت اور دلالی، ہاں بو قت ضرورت ان دو نوں میں حرج نہیں جبکہ جھوٹ وغیرہ سے  بچے ، حرام چیز وں کے  کارو بار حرام ہیں جیسے  گانا بجانا ، ناچنا، شکرے  بازی، بٹیر بازی وغیرہ، جھوٹی گواہی کے  پیشے ، ایسے  ہی شراب کی تجارت کہ شراب کھینچنا، کھچوانا، بیچنا، بکوانا، خریدنا، خریدوانا ، مزدوری پر خریدار کے  گھر پہنچا نا یہ سب حرام ہیں ، ایسے  ہی جانور کے  فو ٹو کی تجارت ناجائز ہے ، فو ٹو بھی کھینچنا ، کھچوانا سب ناجائز، جوئے  کے  کارو با ر حرام ، جوا کھیلنا ، کھلوانا، جوئے  کامال لینا سب حرام ہیں ، ایسے  ہی مسلمانوں سے  سودی کا رو با ر حرام ، سو د لینا ، دلوانا ، کھانا او راس کا گواہ بننا، وکالت کرنا سب حرام ہے  ۔

            علمائے  متقدمین امامت ، اذان ، مسجد کی خدمت ، علم دین کی تعلیم پر مزدوری لینے  کو مکروہ فرماتے  تھے  مگر علمائے  متاخرین نے  جب یہ دیکھا کہ ا س صورت میں مسجدیں ویران ہوجائیں گی، تعلیم ِدین بند اور امامت، اذان موقوف ہوجائیں گی لہٰذا اسے  بلا کراہت جائزفرمایا، تعویذ کی اجرت بلا کراہت جائز ہے ۔

خلاصہ یہ کہ حرام او ر مکروہ پیشو ں کے  سوا کسی جائز پیشہ میں عا ر نہیں جو لوگ پیشہ کو عار سمجھ کر قر ضدار ہوگئے  وہ دین ودنیا میں نقصان میں رہے  ۔ مسلمانوں کی عقل پر کہاں تک ماتم کیا جائے ، ان اللہ کے  بندوں نے  سو دلینا حرام جانا اور دینا حلال سمجھا، بلا ضرورت مقدمہ بازی ، شادی، غمی کی رسو م ادا کرنے  کے  لئے  بے  دھڑ ک سو دی قرض لے  کر برباد ہوتے  ہیں ۔

            خیال رکھو کہ سو د لینے  والا صرف گناہگار ہے  اور سود دینے  والا گناہگار بھی ہے  اور بیوقوف بھی کہ سود خور اپنی آخرت برباد کر کے  دنیا تو بنا لیتا ہے  مگر سود دینے  والا بیوقوف اپنے  دین ودنیا دونوں برباد کرتا ہے ۔ میں نے  ایک کتاب میں دیکھا کہ اس وقت ہندوستان کے  مسلمانوں پر دیگر قوموں کا ڈیڑھ ارب وہ سو دی رو پیہ قرض ہے  جن کے  مقدمات دائر ہیں اور یہ تو دیکھنے  میں بہت آتاہے  کہ مسلمانوں کے  محلّے  کے  محلّے ، مکانات ، دوکانیں ، جائیداد یں اس سود کی بدولت بَنیوں کے  پاس پہنچ گئیں ۔

            کا ش! اگر مسلمان سود دینے  کو سود خوری کی طر ح حرام سمجھتے  تو انہیں یہ روزِ بد دیکھنا نصیب نہ ہوتا ، کاش ! اب بھی مسلمانوں کی آنکھیں کھل جائیں اور اپنا مستقبل سنبھا لیں ، سمجھ لو کہ اگر تم زمین سے  محروم ہوگئے  تو ہندو ستا ن میں تمہاری حیثیت مسافر کی سی ہے  کہ کفار جب چاہیں تم سے  اپنی زمین خالی کرالیں ۔

معذور مسلمان

            عا م طو ر پر دیکھا گیا ہے  کہ مسلمانوں میں اندھے  ، اپا ہج لوگ اور بیوہ عورتیں ، یتیم بچے  بھیک پر گزارہ کرتے  ہیں ، جگہ جگہ ریلوں اور گھرو ں میں یتیم بچے  یتیم خانوں کے  نام پر بھیک مانگتے  پھرتے  ہیں مگر ہندونابینا، لولے  لنگڑے  اپنے  لائق محنت مزدوری کر کے  پیٹ پالتے  ہیں ۔ میں نے  بہت سے  اندھے  اور لنگڑے  ہندو سرخی کوٹتے ، تمباکو بناتے  او ر ایسی مزدوری کرتے  ہوئے  دیکھے  جو وہ نہ کرسکیں ، ان کے  یتیم بچو ں کے  لئے  آشرم اور پاٹھ شالے  ([1])کھلے  ہوئے  ہیں ۔

            امرتسر میں ایک گورد کل (دَارُ الْیَتَامٰی) ہے  جس میں ہندو یتیموں کو تعلیم دی جاتی ہے  وہاں کا طریقہ تعلیم یہ ہے  کہ صبح دو گھنٹے  پڑھائی اور دو گھنٹے  کسی ہنر کی



[1]    یعنی اسکول۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن