30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
خالص گھر والوں یا ان کے پردیسی مہمانوں کو کافی ہو اوراس میں سنت کی نیت کریں نہ کہ دنیا وی بدلہ اورنام ونمود کی، اگر تین روز تک تعزیت کے لئے میت والے مرد کسی جگہ بیٹھیں تو کوئی حرج نہیں مگراس میں حقہ کا دوربالکل نہ ہو بلکہ آنے والے فاتحہ پڑھتے آویں اور صبر کی ہدایت کرتے جاویں تین دن کے بعد تعزیت کے لیے کوئی نہ بیٹھے اورنہ کوئی آئے ہاں جو پردیسی قرابت دار سفر سے آئے تو جب بھی پہنچے میت والوں کی تعزیت کرے یعنی پُرسادے ، عورتیں جب کسی کے گھر پُرسا دینے آتی ہیں تو خواہ مخواہ میت والوں سے مل کرروتی ہیں چاہے آنسو نہ آویں مل کرآواز نکالناضروری ہوتا ہے یہ بالکل غلط طریقہ ہے ، ان کو صبر کی تلقین کرو اوردسواں اور چالیسواں اوربرسی وغیرہ ضرور کرنا چاہیے مگر اس میں دو باتوں کا خیال ضرورہے ، ایک تو یہ کہ جہاں تک ہوسکے میت کے مال سے نہ کریں ، اگر کوئی وارث بچہ ہے تب اس کے حق سے یہ خیرات کرنا حرام ہے لہٰذا کوئی قرابت دار کھانا پینا وغیرہ اپنے مال سے کرے اوردوسرے یہ کہ کھانا صرف فقراء اورغرباء کو کھلایا جائے ۔ عام برادری کی روٹی ہرگز ہرگز نہ کی جائے اور فقراء پراس قدر خرچ کیا جائے جتنی حیثیت ہو قرض لے کر تو حج اورزکوٰۃ دینا بھی جائز نہیں ، یہ صدقہ وغیرہ سے بڑھ کر نہیں ، اس کی پوری تحقیق کے لیے اعلیٰ حضرت قُدِّسَ سِرُّہٗ کی کتاب ’’جَلِیُّ الصَّوْتِ لِنَھْیِ الدَّعْوَۃِ عَنْ اَہْلِ الْمَوْتِ ‘‘(1) دیکھو، بلکہ دیکھنے والوں سے ہم کو معلوم ہوا ہے کہ اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ جب کسی کے یہاں پُرسا دینے جاتے تو اس کے گھر حقہ ، پانی بھی استعمال نہ کرتے تھے ، کسی نے عرض کیا کہ حضرت یہ تو دعوت نہیں فقط ایک تواضع ہے یہ کیوں نہیں استعمال فرماتے ، تو فرمایا کہ زکام کو روکو تاکہ بخار سے امن رہے ۔
ہماری اس گزارش کا مقصد یہ نہیں ہے کہ تیجہ ، دسواں ، چالیسواں وغیرہ نہ کرو یہ تو دیو بندی یا وہابی کہے گا، مقصد یہ ہے کہ اس کو اولیاء کے نام ونمودکے لئے نہ کرو بلکہ ناجائز اورفضول رسموں کو اس سے نکال دو، حق تعالیٰ توفیق عطافرماوے ۔ آمین
اسلامی قانون میں مسلمانوں کی ساری اولا دیعنی لڑکے لڑکیاں اپنے ماں باپ کے مرنے کے بعد اس کے مال سے میراث لیتے ہیں ۔ لڑکے کو لڑکی سے دوگنا حصہ ملتا ہے مگر ہندوؤں آریوں کے دھرم میں لڑکی باپ کے مال سے محروم ہوتی ہے اورسب مال لڑکا ہی لیتاہے یہ صاف ظلم ہے جب دونوں ایک ہی باپ کی اولاد ہیں تو ایک کو میراث دینا اورایک کونہ دینا اس کے کیا معنی ؟ لیکن کاٹھیاواڑاورپنجاب کے مسلمانوں نے اپنے لیے یہ ہندوانی قانون قبول کیا ہے اورحکومت کو لکھ کر دے دیاہے کہ ہم کو ہندوانی قانون منظورہے جس کے معنی یہ ہوئے کہ ہم زندگی میں تو مسلمان ہیں اور مرنے کے بعد نَعُوْذُ بِاللہ ہندو۔ یادرکھو! قیامت میں اس کا جواب دینا پڑے گا ۔
اگر اسلام کے اس قانون سے ناراضی ہے تو کفر ہے اوراگر اس کو حق جان کر اس پر عمل نہ کیا تو حق تلفی اور ظلم ہے ۔ لڑکے تم کو کیا بخش دیتے ہیں اورلڑکیا ں کیا چھین لیتی ہیں ؟ جب تم مرہی گئے تو اب تمہارا مال کوئی بھی لے تم کو کیا ؟تم بیٹے کی محبت میں اپنی آخرت کیوں تباہ کرتے ہو؟تمہارا یہ خیال بھی غلط ہے کہ لڑکی تمہارا مال برباد کردے گی، ہم نے تو یہ دیکھا ہے کہ اپنے باپ کی چیز کا درد جتنا لڑکی کوہو تا ہے اتنا لڑکے کو نہیں ہوتا۔ ایک جگہ لڑکو ں نے اپنے باپ کا مکان فروخت کیا لڑکے تو خوشی سے فروخت کر رہے تھے مگر لڑکی بہت روتی چلاتی تھی کہ یہ میرے مَرے باپ کی نشانی ہے اس کو دیکھ کر اپنے باپ کو یاد کرلیتی ہوں میں اپنا حصہ فروخت نہ کروں گی اس کے رونے سے دیکھنے والے بھی رونے لگے ۔ اوربڑھاپے میں جتنی ماں باپ کی خدمت لڑکی کرتی ہے اتنی خدمت لڑکا نہیں کرتا پھراس غریب کو کیوں محروم کرتے ہو؟ لڑکے تو مرنے کے بعد قبر پر فاتحہ کو بھی نہیں آتے لہٰذاضروری ہے کہ لڑکی اور لڑکے کو پوراحصہ دو ۔ کاٹھیا واڑ میں ایک قوم ہے آغاخوانی خوجہ، اگر ان کے دو بیٹے ہوں تو ایک کا نام قاسم بھائی اور دوسرے کا نال رام لعل یا مول جی اورکہتے ہیں کہ اگر قیامت کے دن مسلمانوں کی بخشش ہوئی تو قاسم بھائی بخشوالے گا اور اگر ہندوؤں کی نجات ہوئی تو رام لعل ہاتھ پکڑے گا۔ کیا یہ ہی ہم نے بھی سمجھ رکھا ہے کہ زندگی میں اسلامی کام کریں اورمیراث میں ہندوؤں کے قانون اختیار کریں تاکہ دونوں قومیں خوش رہیں ؟
اگر مسلمانوں کو یہی فکر ہے کہ ہماری اولاد ہمارا مال برباد کردے گی تو چاہیے کہ اپنی جائیداد، مکانات، دوکانیں وغیرہ اپنی اولاد پر وقف کریں ، اس کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ ہمارے بعد ہماری اولاد ہماری جائیداد اورمکانات سے ہر طرح نفع اٹھائے اور اس میں رہے اس کا کرایہ کھائے اورحصہ رسد کرایہ کو آپس میں تقسیم کرے مگر اس کو رہن (گروی)نہ کرسکے ، اس کو بیچ نہ سکے ، اس سے ان شاءَاللہ عَزَّوَجَلَّ تمہاری جائیداد اور مکانات محفوظ ہوجائیں گے کسی کے ہاتھ فروخت نہ ہوسکیں گے اور تم گناہ سے بھی بچ جاؤ گے ۔ اگر مسلمان اس قانون پر عمل کرتے تو آج ان کی جائیدادیں ، ہندوؤں کے پاس نہ پہنچ جاتیں ۔ وقف َعلَی ا لْاولادکرنے کا طریقہ کسی عالم سے پوچھ لینا چاہیے اور میراث کے لیے ہم نے ایک کتاب اردوزبان میں لکھ دی ہے جس کا نام ہے : ’’عِلْمُ الْمِیْرَاث‘‘ اس کا مطالعہ کرو۔
ہمارے بعض دوستوں کی فرمائش تھی کہ کتاب کے آخر میں فائدہ مند وظیفے اوراعمال روزانہ پڑھنے کے بھی اورمتبرک تاریخوں اوربڑی راتوں کے بھی بیان کر دئیے جائیں کیونکہ لوگ ان سے بے خبر ہیں ۔ میں مسلمانوں کے فائدے کے لیے وہ اعمال جو کہ بفضلہ تعالیٰ سو فیصدی کامیاب ہیں اورجس کی مجھ کو میرے ولی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع