30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
انسان کے لئے نزع کا وقت بہت سخت وقت ہے کہ عمر بھر کی کمائی کا نچوڑ اس وقت ہورہا ہے ، اس وقت قرابت داروں کا وہاں دنیاوی باتیں کرنا سخت غلطی ہے کیونکہ اس سے میت کا دھیان ہٹنے کا اندیشہ ہے فقط آنکھوں سے آنسو بہیں یا معمولی آواز منہ سے نکلے اورکچھ صبر وغیرہ کے لفظ بھی منہ سے نکل جاویں تو کوئی حرج نہیں مگر پیٹنا، منہ پر طمانچہ مارنا ، بال نوچنا ، کپڑے پھاڑنا، بے صبری کی باتیں منہ سے نکالنا نوحہ ہے اور نوحہ حرام ، نوحہ کرنے والے سخت گنہگار ہیں ، یہ سمجھ لو کہ نوحہ کرنے اورنوچنے ، پیٹنے سے مردہ واپس نہیں آجاتابلکہ صبرکاجوثواب ملتاہے وہ بھی جاتارہتا ہے ، دوہی وقت امتحان کے ہوتے ہیں : ایک خوشی کا دوسرا غم کا، جوان دو وقتوں میں قائم رہا وہ واقعی مرد ہے مصیبت کے وقت یہ خیال رکھو کہ جس رب نے عمر بھر آرام دیا اگر وہ کسی وقت کوئی رنج یا غم بھیج دے تو صبر کرنا چاہئے ۔ کسی قرابت دار کے آنے کے انتظار میں میت کے دفن میں دیر لگانا سخت منع ہے اوراس میں ہر طرح کا خطرہ ہی ہے اگر زیادہ دیر رکھنے سے میت کا جسم بگڑ جاوے یا کسی قسم کی بو وغیرہ پیدا ہوجاوے یا کسی قسم کی خرابی وغیرہ پیدا ہوجاوے تو اس میں مسلمان میت کی توہین ہے ، قرابت دار آکر میت کو زندہ نہیں کرلیں گے اور منہ دیکھ کر بھی کیا کریں گے اس لیے دفن میں جلدی کرنا ضروری ہے ، چند چیزوں میں بلاوجہ دیر لگانا منع ہے : لڑکی کی شادی ، قرض کا ادا کرنا، نماز کا پڑھنا ، توبہ کرنا، میت کو دفن کرنا، نیک کام کرنا۔ کسی کے مرنے سے محلہ میں روٹی پکانا یا کھانا منع نہیں ہوجاتا، ہاں چونکہ میت کے خاص رشتہ دار دفن میں مشغول ہونے اور زیادہ رنج وغم کی وجہ سے کھانا نہیں پکاتے ان کے لئے کھانا تیار کرنا بلکہ انہیں اپنے ساتھ کھلانا سنت ہے مگر خیال رہے کہ کھانا صرف ان لوگوں کے لئے پکایا جائے اوروہی لوگ کھائیں جو رنج وغم کی وجہ سے گھر میں نہ پکا سکیں محلہ والوں اوربرادری کو رسمی طریقہ پر کھلانا بھی ناجائز ہے اورکھانا بھی۔
غم اور رنج دعوتوں کا وقت نہیں ، میت کے ساتھ دیگ یا کچھ غلہ لے جانے میں حرج نہیں مگر دو باتوں کا ضرور خیال رہے : اول یہ کہ لوگ اس خیرات کو اتنا ضروری نہ سمجھ لیں کہ نہ ہو تو قرض لے کرکر یں اگر میت کے وارثوں میں سے کوئی وارث بچہ ہو یا کوئی سفر میں ہوتو میت کے مال سے یہ خیرات نہ کریں بلکہ کوئی شخص اپنی طرف سے کردے ، دوسرے یہ کہ قبرستان میں تقسیم کرتے وقت یہ خیال رکھا جاوے کہ فقراء و غربا قبروں کو پاؤں سے نہ روندیں اوریہ کھانا یا غلہ نیچے نہ گرے ، بہتر تو یہی ہے کہ گھر پر ہی خیرات کردی جائے کیونکہ یہ دیکھا گیا ہے کہ خیرات لینے والے فقراء غلہ لینے کے لیے قبروں پر کھڑے ہوجاتے ہیں اورچاول وغیرہ بہت خراب کرتے ہیں ۔
جان کنی کی نشانی یہ ہے کہ بیمار کی ناک ٹیڑھی پڑ جاتی ہے اورکنپٹی نیچے بیٹھ جاتی ہے جب یہ علامت بیمار میں دیکھ لی جائے تو فوراًاس کا منہ کعبہ شریف کو کردیا جائے یا تواس کی چارپائی قبر کی طرح رکھی جائے یعنی شمال کو سر اورجنوب (دکن)کوپاؤں اورمیت کو سیدھی کروٹ پر لٹا دیا جائے مگر اس سے جان نکلنے میں دشواری ہوتی ہے ۔ بہتر ہے کہ میت کے پاؤں قبلہ کی طرف کرد یے جائیں اوراس کو چت لٹا دیا جائے تا کہ کعبہ کو منہ ہوجائے کروٹ کی ضرورت نہ رہے ۔چند جگہ کعبہ کی طرف پاؤں کرنا جائز ہیں ۔ (۱)لیٹ کر نماز پڑھتے وقت(۲)جان نکلنے کے وقت (۳)میت کو غسل دیتے وقت(۴)اورقبرستان لے جاتے وقت جبکہ قبرستان مشرق کی طرف ہو، اس کے پاس بیٹھنے والے کوئی دنیاوی بات نہ کریں اوراس وقت خود بھی نہ روئیں بلکہ سب لوگ اس قدرآوازسے کلمہ طیبہ پڑھیں کہ میت کے کان میں وہ آواز پہنچتی رہے اورکوئی شخص اس وقت منہ میں پانی ڈالتا رہے کیونکہ اس وقت پیاس کی شدت ہوتی ہے اگر گرمی زیادہ پڑ رہی ہو تو کوئی پنکھے سے ہوا بھی کرتا رہے ۔ سورہ یٰسن شریف پڑھیں تاکہ اس کی مشکل آسان ہو اوررب تعالیٰ سے دعاکریں کہ یااللہ عزوجل! اس کا اورہم سب کا بیڑا پارلگا ئیو۔
اَللّٰھُمَّ رَبَّنَاارْزُقْنَاحُسْنَ الْخَاتِمَۃِ
جب جان نکل جائے تو کسی کو رونے سے نہ روکیں کیونکہ زیادہ غم پر نہ رونا سخت بیماری پیدا کرتا ہے ۔ ہاں یہ حکم دیں کہ نوحہ نہ کریں یعنی منہ پر تھپڑنہ لگائیں اوربے صبری کی باتیں نہ بکیں ۔ غسل اورکفن سے فارغ ہوکر نعت خوانی کرتے ہوئے یا بلند آواز سے درود شریف اورکلمہ طیبہ پڑھتے ہوئے میت کو لے چلیں کیونکہ آج کل اگر ذکر الہٰی آواز سے نہ ہوتو لوگ دنیا کی باتیں کرتے ہوئے جاتے ہیں اوریہ منع ہے نیز اس نعت خوانی اوردرود شریف کی آواز سے گھروں میں لوگ سمجھ جاتے ہیں کہ کوئی میت جارہی
کہ کوئی میت جارہی ہے تو آکر نماز اوردفن میں شریک ہوجاتے ہیں ۔ نماز جناز ہ پڑھ کر کم از کم تین بارقُلْ ھُوَاللہُ اورسورہ فلق، سورہ ناس اورسورۂ فاتحہ پڑھ کر میت کو ثواب بخشیں کہ جنازہ کی نماز کے بعد دعاکرنا سنت رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اورسنت صحابہ رِضْوَانُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہِم اَجْمَعِین ہے ۔([1]) (دیکھو ہماری کتاب جاء الحق)
دفن سے فارغ ہوکر قبر کے سرہانے سے سورہ بقرکی شروع کی آیتیں مفلحون تک اورقبر کے پاؤں کی طرف سورہ بقر کا آخری رکوع پڑھ کر میت کو ثواب بخشیں ۔ جب دفن سے فارغ ہوکر لوگ لوٹ جائیں تب قبر کے سرہانے کی طرف کھڑے ہوکر اذان کہہ دیں تو اچھا ہے کہ اس سے عذاب قبر سے نجات ہے اورمردہ کو نکیرین کے سوالات کا جواب بھی یا دآجائے گا ۔ پھر قرابت دار میت کے صرف گھروالوں کو کھانا کھلادیں بلکہ بہتر یہ ہے کہ پکا کرلانے والا خود بھی ان کے ساتھ کھالے اور ان کو مجبور کر کے کھلائے ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع