30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
دوستو! دِق کی وجہ کچھ اور ہے یاد رکھو!تندرستی کے دوبڑ ے اصول ہیں ان کی پابندی کرو۔ ان شاءَاللہ عَزَّوَجَلَّ تندرست رہو گے ۔اوّل یہ کہ بھوکے ہوکر کھاؤ اور پیٹ بھر کر نہ کھاؤ بلکہ روٹی سے بھوکے اُٹھو اور دوسرے یہ کہ تھک کر سوؤ۔ پہلے عورتیں چائے کو جانتی بھی نہ تھیں گھر میں محنت مشقّت کے کام کرتی تھیں ، چکی پیسنا، غلّہ صاف کرنا، خوب پسینہ آتا تھا، بھوک کھل کر لگتی تھی اور رات کو چارپائی پر خوب بے ہوشی کی نیند آتی تھی اس لئے تندرست رہتی تھیں ، آج ہم دیکھتے ہیں کہ پردہ والی عورتیں ہشاش بشاش معلوم ہوتی ہیں ، ان کے چہرے ترو تازہ ہوتے ہیں مگر آوارہ اور بے ہودہ عورتیں ایسی معلوم ہوتی ہیں جیسے کہ اس پھول کو لُو لگ گئی ہے ۔ دوستو!یہ سب بہانہ ہیں ضروری ہے کہ مکان کُھلے ، ہوا دار، صاف ہوں ، اپنے مکانوں کے صحن بڑے بڑے اور کھلے ہوئے ہوا دار رکھو او رعورتوں بچوں کو چائے اور دوسری خشک چیزوں سے بچاؤ اور دودھ گھی وغیرہ کا استعمال رکھو، عورتوں کو آرام طلب نہ بناؤ۔
عورت کا جسم سر سے پاؤں تک ستر ہے جس کا چھپانا ضروری ہے سوا چہرے اور کلائیوں تک ہاتھوں اور ٹخنے سے نیچے تک پاؤں کے کہ ان کا چھپانا نماز میں فرض نہیں باقی حصّہ اگر کُھلا ہوگا تو نماز نہ ہوگی لہٰذا اُس کا لباس ایسا ہونا چاہئے جو سرسے پاؤں تک اس کو ڈھکا رکھے اور اس قدر باریک کپڑا نہ پہنے جس سے سرکے بال یا پاؤں کی پنڈلیاں یا پیٹ اوپر سے ننگامعلوم ہو، گھر میں اگر اکیلی یا شوہر یا ماں باپ کے سامنے ہو تو دوپٹہ اتار سکتی ہے لیکن اگر داماد یا دوسرا قرابت دار ہو تو سر باقاعدہ ڈھکا ہوا ہونا ضروری ہے اور شوہر کے سوا جو بھی گھر میں آوے وہ آواز سے خبر کرکے آوے ۔ اجنبی عورت کو سوائے چند صورتوں کے دیکھنا منع ہے : {1}طبیب مریضہ کے مرض کی جگہ کو {2}جس عورت کے ساتھ نکاح کرنا ہے اس کو چھپ کر دیکھ سکتا ہے {3}گواہ جو عورت کے متعلق گواہی دینا چاہے {4}قاضی جو عور ت کے متعلق کوئی حکم دینا چاہے وہ بھی بقدرِ ضرور ت دیکھ سکتا ہے ، آوارہ عورتوں سے بھی شریف عورتیں پردہ کریں ۔(در مختار)([1])
عورت کو اپنے گھر سے نکلنا بھی منع ہے سوائے چند موقعہ کے
{1}’’قَابِلَہ‘‘ یعنی دائی پیشہ کرنے والی عورت گھر سے نکل سکتی ہے {2}’’شَاہِدَہ‘‘ گواہی دینے کیلئے عورت قاضی کے دربارمیں جاسکتی ہے {3}’’غَاسِلَہ‘‘ جو عورت مردہ عورتوں کو غسل دیتی ہے وہ بھی اس ضرورت سے نکل سکتی ہے {4}’’کَاسِبَہ‘‘ جس عورت کاکوئی کمائی کرنے والا نہ ہو وہ روزی حاصل کرنے کیلئے گھر سے نکل سکتی ہے {5}’’زَائِرَہ‘‘ والدین اور خاص اہلِ قرابت سے ملنے کے لئے بھی گھر سے نکل سکتی ہے وغیرہ۔ اگر اس کی پوری تحقیق کرنا ہو تو اعلیٰ حضرت قُدِّسَ سِرُّہٗ کی کتاب ’’مُرُوْجُ النَّجَا لِخُرُوْجِ النِّسَائ‘‘ کا مطالعہ کرو۔ہم نے جو کہا کہ ان موقعوں میں عورت گھر سے نکل سکتی ہے اس کے معنی یہ ہیں کہ پردہ سے نکلے اس طرح نہ نکلے جیسے آج کل رواج ہے کہ یا تو بے برقع باہر پھرتی ہیں یا اگر برقع ہے تو منہ کھلا ہوا اور برقع بھی نہایت خوش نما اور چمکدار کہ دوسرے مردوں کی اس پر خواہ مخواہ نظر پڑے یہ جائز نہیں ، یہ احکام تھے گھر سے باہر نکلنے کے اب رہا سفر کرنا اس کے متعلق یہ ضرور یاد رکھو کہ عورت کو اکیلے یا کسی اجنبی مرد کے ساتھ سفر کرنا حرام ہے ، ضروری ہے کہ اس کے ساتھ کوئی محرم ہو، آجکل جو رواج ہوگیا ہے کہ گھر کو خط لکھ دیا کہ ہم نے اپنی بیوی کو فلاں گاڑی پر سوار کردیا ہے تم اسٹیشن پر آکر اتار لینا، یہ ناجائز بھی ہے اور خطر ناک بھی۔ دیور اور بہنوئی وغیرہ سے بڑے بڑے گھروں میں بھی پردہ نہیں بلکہ بعض عورتیں تو کہتی ہیں کہ ان سے پردہ کرنے کی ضرورت ہی نہیں ، یہ محض غلط ہے حدیث ِپاک میں ارشاد ہوا کہ ’’اَلْحَمْوُ الْمَوْتُ‘‘ دیور تو اور بھی زیادہ موت ہے ۔([2])
بعض جگہ ان سے ہنسی اور مذاق تک کیا جاتا ہے خیال رکھو کہ جس عورت سے کبھی بھی نکاح ہوسکے اس سے پردہ ضروری ہے کہ وہ اجنبی ہے اور جس سے کبھی بھی نکاح جائز نہ ہو جیسے داماد، رضاعی بیٹا، باپ، بھائی، خسروغیرہ۔ان سے پردہ ضروری نہیں اگر ان لوگوں سے باقاعدہ پردہ نہ ہوسکے تو کم ازکم گھونگھٹ سے رہنا اور اُن کے سامنے حیا اور شرم سے رہنا ضروری ہے ، ایسا باریک لباس نہ پہنو جس سے ننگی معلوم ہو
اور ایسا لباس نہ پہنو جو پنڈلیوں سے بالکل چمٹ جاتا ہو اور جس سے بدن کا اندازہ ہوتا ہو ہاں اگر اس گھر میں سوائے شوہر وغیرہ کے کوئی اجنبی نہ آتا ہو تو کوئی مضائقہ نہیں مگر ایسے گھر آج کل مشکل سے ملیں گے ۔ڈاکٹر اقبال نے خوب کہاہے ؎
چو زہرا باش از مخلوق روپوش
کہ در آغوش شبّیرے بہ بینی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع