دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Islami Zindagi | اسلامی زندگی

book_icon
اسلامی زندگی

کے  بال بچے  ہیں اس کو بلاوجہ باہر نہ لاؤ ورنہ مرجھا جائے  گی۔

{3}عورت کا دل نہایت نازک ہے  بہت جلد ہر طرح کا اثر قبول کرلیتا ہے  اس لئے  اس کو کچی شیشیاں فرمایا گیا، ہمارے  یہاں بھی عورت کو صنف نازک کہتے  ہیں اور نازک چیز وں کو پتھروں سے  دور رکھتے  ہیں کہ ٹوٹ نہ جائیں ، غیروں کی نگاہیں اس کے  لئے  مضبوط پتھر ہے  اس لئے  اس کو غیروں سے  بچاؤ۔

{4}عورت اپنے  شوہر اور اپنے  باپ دادا بلکہ سارے  خاندان کی عزت اورآبرو ہے  اور اس کی مثال سفید کپڑے  کی سی ہے  ، سفید کپڑے  پر معمولی سا داغ دھبہ دور سے  چمکتا ہے  اور غیروں کی نگاہیں اس کے  لئے  ایک بد نما داغ ہے  اس لئے  اس کو ان دھبوں سے  دور رکھو۔

{5}عورت کی سب سے  بڑی تعریف یہ ہے  کہ اس کی نگاہ اپنے  شوہر کے  سوا کسی پر نہدیکھے ۔(دیکھو شامی باب الستر)([1])

    حضرت فاطمہ زہرارَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَانے  وصیت فرمائی تھی کہ مجھے  رات میں دفن کیا جائے  کیوں ؟اسلئے  کہ اگر دن میں دفن کیاگیا تو کم ازکم دفن کرنے  والوں کو میرے  جسم کا اندازہ تو ہوجائے  گا۔یہ بھی منظور نہیں غرضیکہ پردہ کی وجہ سے  شریعت نے  بہت سے  حکم عورتوں سے  اُٹھالئے  ۔

غور تو کرو:کہ جب عورتوں کو مسجد میں جانے  کی اجازت نہیں قبرستان جانے  کی اجازت نہیں عیدگاہ میں جاکر عید پڑھنے  کی اجازت نہیں تو بازاروں ، کالجوں اور کمپنی باغوں میں سیر کیلئے  جانیکی اجازت کیونکر ہوگی۔کیا بازار کالج اور کمپنی باغ مسجدوں اور مکّہ شریف سے  بڑھ کر ہیں ؟

نوٹ ضروری:جن احادیث میں عورتوں کا باہر نکلنا آتا ہے  وہ یا تو پردہ فرض ہونے  سے  پہلے  تھایا کسی ضرورت کی وجہ سے  پردہ کے  ساتھ تھا۔ان احادیث کو بغیر سوچے  سمجھے  بوجھے  بے  پردگی کیلئے  آڑ بنانا محض نادانی ہے  اسی طرح اس زمانہ میں عورتوں کا جہادوں میں شرکت کرنا اس وجہ سے  تھا کہ اسوقت مردوں کی تعداد تھوڑی تھی اب بھی اگر کسی جگہ مسلمان مرد تھوڑے  ہوں اور کفّار زیادہ اور جہاد فرض عین ہوجائے  تو عورتیں جہاد میں ضرور جائیں ان جہادوں کو اس زمانہ کی بے  حیائی کیلئے  آڑ نہ بناؤ۔ اب جہادکے  بہانہ سے  عورتوں کو مردوں کے  سامنے  ننگا پریڈ کرایا جاتا ہے  بعض دفعہ مجاہدین نے  ضرورتاً گھوڑوں کے  پیشاب پئے  ، درختوں کے  پتے  کھائے  ، کیا اب بھی بلا ضرورت یہ کام کرائے  جائیں گے ۔اللہ تعالیٰ وہ وقت نہ لائے  جب جہاد میں عورتوں کی ضرورت پڑے ۔یہاں تک تو نقلی دلائل سے  ہم نے  پردہ کی ضرورت ثابت کردی اب عقلی دلیلیں بھی سنيئے ۔

    (۱)عورت گھر کی دولت ہے  اور دولت کو چھپا کر گھر میں رکھا جاتا ہے  ہر ایک کودکھانے  سے  خطرہ ہے  کہ ٖکوئی چوری کرلے ۔اسی طرح عورت کو چھپانا اور غیروں کو نہ دکھانا ضروری ہے ۔

    (۲)عورت گھر میں ایسی ہے  جیسے  چمن میں پھول اور پھول چمن میں ہی ہر ابھرا رہتا ہے  اگر توڑ کر باہر لایا گیا تو مرجھا جائیگا۔اسی طرح عورت کا چمن اس کا گھر اور اسکے  بال بچے  ہیں اسکو بلاوجہ باہر نہ لاؤ ورنہ مرجھا جائے  گی۔

    (۳)عورت کا دل نہایت نازک ہے  بہت جلد ہر طرح کا اثر قبول کرلیتا ہے  اسلئے  اس کو کچی شیشیاں فرمایا گیا۔ہمارے  یہاں بھی عورت کو صنِف نازک کہتے  ہیں اور نازک چیز وں کو پتھروں سے  دور رکھتے  ہیں ۔کہ ٹوٹ نہ جائیں ، غیروں کی نگاہیں اس کیلئے  مضبوط پتھر ہے  اسلئے  اس کو غیروں سے  بچاؤ۔

     (۴) عورت اپنے  شوہر اور اپنے  باپ دادا بلکہ سارے  خاندان کی عزت اور آبرو ہے  اور اس کی مثال سفید کپڑے  کی سی ہے  ، سفید کپڑے  پر معمولی سا داغ دھبہ دور سے  چمکتا ہے  اور غیروں کی نگاہیں اس کے  لئے  ایک بد نما داغ ہیں ، اس لئے  اس کو ان دھبوں سے  دور رکھو۔

    (۵) عورت کی سب سے  بڑی تعریف یہ ہے  کہ اس کی نگاہ اپنے  شوہر کے  سوا کسی پر نہ ہو، اسلئے  قرآن کریم نے  حوروں کی تعریف میں فرمایا قٰصِرٰتُ الطَّرْفِۙ      ([2])

    اگر اس کی نگاہ میں چند مرد آگئے  تو یوں سمجھو کہ عورت اپنے  جوہر کھوچکی ، پھر اسکا دل اپنے  گھر بار میں نہ لگے  گا جس سے  یہ گھر آخر تباہ ہوجائیگا۔

اعتراض:بعض لوگ پردہ کے  مسئلہ پر دو اعتراض کرتے  ہیں اوّل یہ کہ عورتوں کا گھروں میں قید رکھنا ان پر ظلم ہے  جب ہم باہر کی ہوا کھاتے  ہیں تو انکو اس نعمت سے  کیوں محروم رکھا جائے  دوسرے  یہ کہ عورت کو پردے  میں رکھنے  کی وجہ سے  اس کو تپِ دق ہوجاتی ہے  اس لئے  ضروری ہے  کہ ان کو باہر نکالا جائے ۔

جواب:اوّل سوال کا جواب تو یہ ہے  کہ گھر عورت کیلئے  قید خانہ نہیں بلکہ اس کا چمن ہے  گھر کے  کاروبار اور اپنے  بال بچّوں کودیکھ کر وہ ایسی خوش رہتی ہیں جیسے  چمن میں بُلبل، گھر میں رکھنا اس پر ظلم نہیں ، بلکہ عزت وعصمت کی حفاظت ہے  اس کو قدرت نے  اسی لئے  بنایا ہے  بکری اسی لئے  ہے  کہ رات کو گھر رکھی جائے  اور شیر چیتا اور محافظ کتا اسلئے  ہے  کہ انکو آزاد پھرایا جائے  اگر بکری کو آزاد کیا تو اس کی جان خطرے  میں ہے  اسکو شکاری جانور پھاڑ ڈالیں گے ۔

    دوسرے  سوال کا جواب میں کیا دوں ، خود تجربہ دے  رہا ہے  وہ یہ کہ عورت کیلئے  پردہ تپ دق کا سبب نہیں ہماری پرانی بزرگ عورتیں گھر کے  دروازے  سے  بھی بے  خبر تھيں مگر وہ جانتی بھی نہ تھیں کہ تپ دق کسے  کہتے  ہیں اور آج کل بے  پردگی میں اوّل نمبر دو صوبہ ہیں ایک کاٹھیاواڑ ، دوسراپنجاب، مگر اللہ تعالیٰ کی شان ہے  کہ ان ہی دونوں  صوبوں میں دِق زیادہ ہے ، یو۔پی میں عام طورپر شریفوں کی بہو بیٹیاں پردہ نشین ہیں اللہ تعالیٰ کے  فضل سے  ان میں دِق بہت ہی کم ہے  بلکہ اگر کہا جائے  کہ دِق ہے  ہی نہیں تو بھی بے  جا نہ ہوگا۔جناب اگر پردہ سے  دِق پیدا ہوتی ہے  تو مردوں کو دِق کیوں ہوتی ہے ۔

 



[1]    الدر المختارورد المحتار ، کتاب الحج ، مطلب فی قولھم ۔۔۔۔۔۔ الخ ، ج۳ ، ص ۵۳۱

  [2]       ترجمۂ کنزالایمان : وہ عورتیں ہیں کہ شوہر کے  سوا کسی کو آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھتیں ( الرحمن :56)

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن