30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ٹوپی سر پر رکھنے اور جوتا پاؤں میں پہننے کے لئے ہے جو جوتا سر پر باندھ لے اور ٹوپی پاؤں میں لگالے وہ دیوانہ ہے ، گلاس پانی پینے اور اگالدان تھوکنے کے لئے ہے جو کوئی اگالدان میں پانی پئے اور گلاس میں تھوکے وہ پورا پاگل ہے ، بیل کی جگہ گھوڑا اور گھوڑے کی جگہ بیل کام نہیں دے سکتا، اسی طرح انسان کے دو گروہ کئے گئے ہیں ایک عورت دوسرے مرد۔عورت کو گھر میں رہ کر اندرونی زندگی سنبھالنے کیلئے بنایا گیا ہے اور مرد کو باہر پھر کر کھانے اور باہر کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے بنایا ۔
مثل مشہور ہے کہ پچاس عورتوں کی کمائی میں وہ برکت نہیں جو ایک مرد کی کمائی میں ہے اور پچاس مرد وں سے گھر میں رونق نہیں جو ایک عورت سے ہے ، اسی لئے شوہر کے ذمہ بیوی کا سارا خرچ رکھا ہے اور بیوی کے ذمہ شوہر کا خرچہ نہیں کیونکہ عورت کمانے کیلئے بنی ہی نہیں اسی لئے عورتوں کو وہ چیزیں دیں جس سے اس کو مجبوراً گھر میں بیٹھنا پڑے اور مردوں کو اس سے آزاد رکھا۔جیسے بچے جننا، حیض و نفاس آنا، بچوں کو دودھ پلانا وغیرہ اسی لئے بچپن سے ہی لڑکوں کو بھاگ دوڑ، اُچھل کود کے کھیل پسند ہیں جیسے کبڈی، کسرت، ڈنڈلگانا وغیرہ اور لڑکیوں کو قدرتی طورپر وہ کھیل پسند ہیں جن میں بھاگنا دوڑنا نہ ہو بلکہ ایک جگہ بیٹھارہنا پڑے جیسے گڑیاسے کھیل، سینا پرونا، چھوٹی چھوٹی روٹیاں پکانا۔ آپ نے کسی چھوٹی بچی کو کبڈی کھیلتے ، ڈنڈ لگاتے نہ دیکھا ہوگا اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قدرت نے لڑکوں کو باہر کیلئے اور لڑکیوں کو گھر کے اندر کے لئے پیدا کیا ہے ۔
اب جو شخص عورتوں کو باہر نکالے یا مردو ں کو اندر رہنے کا مشورہ دے وہ ایسا ہی دیوانہ ہے جیسا کہ جو ٹوپی پاؤں میں اور جوتا سر پر رکھے ۔
جب آپ نے اتنا سمجھ لیا کہ مرد اور عورت ایک ہی کام کے لئے نہ بنے بلکہ علیٰحدہ علیٰحدہ کاموں کیلئے تو اب جو کوئی ان دونوں فریقوں کو ایک کام سپرد کرنا چاہے وہ قدرت کا مقابلہ کرتا ہے اس کو کبھی بھی کامیابی نہ ہوگی گویا یوں سمجھو کہ عورت اور مرد زندگی کی گاڑی کے دوپہیے ہیں ، اندرونی اور گھریلو دونوں کے لئے عورت اور مرد باہر کے لئے اگر آپ نے عورت اور مرد دونوں کو باہر نکال دیا تو گویا آپ نے زندگی کی گاڑی کا ایک پہیہ نکال دیا تویقینا گاڑی نہ چل سکے گی۔
اب ہم عقلی اور نقلی دلائل پر دہ کے متعلق عرض کرتے ہیں :
{1}سب مسلمان جانتے ہیں کہ نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بیویاں مسلمانوں کی مائیں ہیں ایسی مائیں کہ تمام جہان کی مائیں ان کے قدم پاک پر قربان اگر وہ بیویاں مسلمانوں سے پردہ نہ کرتیں تو ظاہراً کوئی حرج نہیں معلوم ہوتا تھا کیونکہ اولاد سے پردہ کیسا، مگر قرآن کریم نے ان پاک بیویوں سے خطاب کرکے فرمایا:
وَ قَرْنَ فِیْ بُیُوْتِكُنَّ وَ لَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِیَّةِ الْاُوْلٰى([1])
یعنی اے نبی کی بیویو!تم اپنے گھروں میں ٹھہری رہاکرو۔اوربے پردہ نہ رہو۔جیسے اگلی جاہلیت کی بے پردگی۔(پ22، الاحزاب 33)
اس میں تو ان بیویوں سے کلام تھا۔اب مسلمانوں سے حکم ہورہا ہے ۔
وَ اِذَا سَاَلْتُمُوْهُنَّ مَتَاعًا فَسْــٴَـلُوْهُنَّ مِنْ وَّرَآءِ حِجَابٍؕ-([2])
یعنی اے مسلمانو!جب تم نبی کی بیویوں سے کوئی استعمال کی چیز مانگو، توپردے کے باہر سے مانگو۔(پ22، الاحزاب:53)
دیکھو بیویوں کو اُدھر گھروں میں روک دیا اور مسلمانوں کو باہر سے کوئی چیز مانگنے کا یہ طریقہ سکھایا۔
(۲)مشکوٰۃبابُ النظرالی لمخطوبہ میں ہے کہ ایک دن رسول اللہ عزوجل و صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اپنی دو بیویوں حضرتِ امِ سلمہ اور میمونہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاکے پاس تشریف فرما تھے کہ اچانک حضرت عبد اللہ ابن مکتوم جو کہ نابینا تھے آگئے حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ان دونوں بیویوں سے فرمایا:کہ اِحْتَجِبَامِنْہُ ان سے پردہ کرو۔انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ عزوجل و صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ یہ تو نابینا ہیں فرمایا تم تو نابینا نہیں ہو۔([3]) جا مع التر مذی ، کتاب الادب ، باب ماجاء ۔۔۔۔۔۔ الخ ، الحدیث ۲۷۸۷ ، ج۷ ، ص ۳۵۲
اس سے معلوم ہوا کہ صرف یہ ہی ضروری نہیں کہ مرد عورت کو نہ دیکھے بلکہ یہ بھی ضروری ہے کہ اجنبی عورت غیر مرد کو نہ دیکھے ۔دیکھو یہاں مرد نابینا ہیں مگر پردہ کا حکم دیا گیا۔
{3}ایک لڑائی میں حضور انور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تشریف لے جارہے ہیں آگے آگے حضرت اَ نجشہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کچھ گیت گاتے ہوئے جارہے ہیں لشکر کے ساتھ کچھ باپردہ عورتیں بھی ہیں ، حضرت اَ نجشہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ بہت خوش آواز تھے ، ارشاد فرمایا: ’’اے اَ نجشہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اپنا گیت بند کرو کیونکہ میرے ساتھ
[1] ترجمۂ کنزالایمان:اوراپنے گھروں میں ٹھہری رہو اور بے پردہ نہ رہو جیسے اگلی جاہلیت کی بے پردگی۔(پ۲۲، الاحزاب:۳۳)
[2] ترجمۂ کنزالایمان:اور جب تم ان سے برتنے کی کوئی چیز مانگو تو پردے کے باہر سے مانگو۔ (پ۲۲، الاحزاب:۵۳)
[3] مشکاۃالمصابیح، کتاب النکاح، باب النظرالی المخطوبۃ۔۔۔الخ، الحدیث:۳۱۱۶، ج۱، ص۵۷۳
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع