30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جو آم کابیج بودے اور اس کی تمام شاخيں وغيرہ کاٹ ڈالے جس طرح وہ بیوقوف پھل سے محروم رہے گا اسی طرح یہ مسلمان اسلا م کے پھلوں سے محروم رہے گا (۶)پکا رنگ وہ ہوتا ہے جو کسی پانی یا دھوبی سے نہ چھوٹے اور کچا رنگ وہ جو چھوٹجائے ۔تو اے مسلمانو!تم اللہ عزوجل! کے رنگ میں رنگ ہوئے ہو۔
صِبْغَةَ اللّٰهِۚ-وَ مَنْ اَحْسَنُ مِنَ اللّٰهِ صِبْغَةً٘-([1])
گر تم کفار کو دیکھ کر اپنے رنگ کو کھو بیٹھے تو جان لو کہ تمہارا رنگ کچّا تھا۔اگر پکا رنگ ہوتا تو اوروں کو رنگ آتے ۔ مسلمانوں کے عذر
ہم مسلمانوں کے وہ عذر بھی پیش کردیں جو کہ وہ بیان کرتے ہیں اور جس سے اپنی مجبور یوں کا اظہار کرتے ہیں ۔
{1}خدا دِل کو دیکھتا ہے شکل کو نہیں دیکھتا، دل صاف چاہئے ، حدیث میں ہے : ’’اِنَّ اللہَ لَا یَنْظُرُ اِلٰی صُوَرِِکُمْ بَلْ یَنْظُرُ اِلٰی قُلُوْبِکُمْ ‘‘([2])یہ عذر پڑھے لکھے مسلمان کرتے ہیں ۔
جواب :اچھا صاحب اگر ظاہر کا کوئی اعتبار نہیں دل کا اعتبار ہے تو آپ میرے گھر کھانا کھاؤ یا شربت پیؤ اور میں نہایت عمدہ بادام کا شربت یا عمدہ بریانی کھلاؤں پلاؤں مگر گلاس یا رکابی میں اوپر کی طرف خوب اچھی طرح گندگی پلیدی لگادوں ، آپ اس برتن میں کھالو گے ؟ہر گز نہیں ، کیوں جناب !برتن کا کیا اعتبار ؟ اس کے اندر کی چیز تو اچھی ہے جب تم بُرے برتن میں اچھی غذا نہیں کھاتے پیتے تو رب تعالیٰ تمہاری بُری صورتوں کے ساتھ اچھے اعمال کیونکر قبول فرماوے گا۔اگر قرآن شریف پڑھو تو لطف جب ہے کہ منہ میں قرآن شریف ہو، اور صورت پر اس کا عمل ہو، اگرتمہارے منہ میں قرآن ہے اور صورت قرآن شریف کے خلاف تو گویا اپنے عمل سے تم خود جھوٹے ہو۔بادشاہ کے آنے کے لئے گھر اور گھر کا دروازہ دونوں صاف کرو کیونکہ بادشاہ دروازے سے آوے گا اور گھر میں بیٹھے گا اسی طرح قرآن شریف کیلئے دل اور صورت دونوں سنبھالو، حدیث کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ صرف تمہاری صورتوں کونہیں دیکھتا بلکہ صورتوں کے ساتھ دل کو بھی دیکھتا ہے اگر اس کا وہ مطلب ہوتا جو تم سمجھتے ہو تو پھر سر پر چوٹی، کان میں جنیوا([3])اور پاؤں میں دھوتی باندھ کر نماز پڑھنا جائز ہونا چاہئے تھاحالانکہ فُقَہَا فرماتے ہیں کہ چوٹی رکھنا، زنار باندھنا کفر ہے ۔([4])
{2}اسلامی شکل سے ہماری عزت نہیں ہوتی، جب ہم انگریزی لباس میں ہوتے ہیں تو ہماری عزت ہوتی ہے کیونکہ وہ ترقی یافتہ قوم کا لباس ہے ۔
جواب :آدمی کی عزت لباس سے نہیں بلکہ لباس کی عزت آدمی سے ہے اگر تمہارے اندر کوئی جوہر ہے یا اگر تم عزت اور ترقی والی قوم کے فرد ہوتو تمہاری ہر طرح عزت ہوگی، کوئی بھی لباس پہنو، اگر ان چیزوں سے خالی ہو تو کوئی لباس پہنو عزت نہیں ہوگی۔ ابھی کچھ دن پہلے گاندھی اور اس کے دوسرے ساتھی گول میز کانفرنس میں شریک ہونے کیلئے لندن گئے جب خاص پارلیمنٹ کے دفتر پہنچے تو مسٹر گاندھی اسی چوٹی اور اسی لنگوٹی میں تھے جو ان کا اپنا قومی لباس ہے ۔ سوبھاش چندر بوس نے ایک بارلندن کا سفر کیا تو اپنی گائے اور اپنی دھوتیا، لٹیا اپنے ساتھ لے گئے ۔ کہئے کیا اس لباس سے ان کی عزت گھٹ گئی؟ آج مسلمانو ں کے سوا تمام قومیں سکھ، ہندوبلکہ کاٹھیاواڑ میں بُہرے اور خوجہ ہمیشہ اپنے قومی لباس میں رہتے ہیں ۔ سکھ کے منہ پر داڑھی، سرپر بال، ہاتھ میں لوہے کا کڑا ہر جگہ رہتا ہے ۔ کیوں صاحب !کیاوہ دنیا میں ذلیل ہیں سچ ہے کہ جوان کی اس لباس میں عزت ہے وہ تمہاری بوٹ سوٹ میں نہیں ، دوستو!اگر عزت چاہتے ہو تو سچے مسلمان بنو اور اپنی مسلم قوم کو ترقی دو۔
{3}آخر داڑھی میں فائدہ کیا ہے کہ مولوی اس کے اتنے پیچھے پڑے ہیں ؟
جواب : داڑھی اورتمام اسلامی لباس کی خوبیاں ہم بیان کرچکے ہیں اب بھی عرض کرتے ہیں کہ اسلام کے ہر کام میں صدہا حکمتیں ہیں ، سنو!مسواک سنّت ہے اس میں بہت فائدے ہیں دانتوں کو مضبوط کرتی ہے ، مسوڑھوں کو فائدہ مند ہے ، منہ کو صاف کرتی ہے ، گندہ د ہنی کی بیماری کو فائدہ مند ہے ، معدہ درست کرتی ہے یعنی ہضم کرتی ہے ، آنکھوں کی روشنی بڑھاتی ہے ، زبان میں قوت پیدا کرتی ہے ، دانتوں کو صاف رکھتی ہے ، جانکنی کو آسان کرتی ہے ، بلغم کو کاٹتی ہے ، پِت دور کرتی ہے ، سَر کی رگوں کو مضبوط کرتی ہے ، موت کے وقت کَلِمَہ یاد دلاتی ہے غرضکہ اس کے فائدے 36 ہیں دیکھو شامی اور طب کی کتابیں ۔
[1] ترجمۂ کنزالایمان:ہم نے اللّٰہ کی رینی لی اور اللّٰہ سے بہترکس کی رینی (رنگ)۔
یعنی جس طرح رنگ کپڑے کے ظاہر وباطن میں نفوذ کرتا ہے اس طرح دین ِالہٰی کے اعتقادات حقہ ہمارے رگ و پے میں سما گئے ہمارا ظاہر و باطن قلب و قالب اسکے رنگ میں رنگ گیا ہمارا رنگ ظاہری رنگ نہیں جو کچھ فائدہ نہ دے بلکہ یہ نفوس کو پاک کرتا ہے ۔ ظاہر میں اسکے آثار اوضاع و افعال سے نمودار ہوتے ہیں نصاریٰ جب اپنے دین میں کسی کو داخل کرتے یا انکے یہاں کوئی بچہ پیدا ہوتا تو پانی میں زرد رنگ ڈال کر اس میں اس شخص یا بچہ کو غوطہ دیتے اور کہتے کہ اب یہ سچا نصرانی ہوا اس کا اس آیت میں رد فرمایا کہ یہ ظاہری رنگ کسی کام کا نہیں ۔(خزائن العرفان، پ۱، البقرۃ:۱۳۸)
[2] ترجمہ: یعنی اللہ تعالیٰ تمہاری صورتیں نہیں بلکہ تمہارے دل دیکھتا ہے ۔(صحیح مسلم، کتاب البروالصلۃ۔۔۔الخ، باب تحریم ظلم المسلم۔۔۔الخ، الحدیث:۲۵۶۴، ص۱۳۸۷)
[3] ہندوؤں کا مخصوص دھاگہ
[4] البحر الرائق شرح کنز الدقائق، کتاب السیر، باب احکام المرتدین، ج۵، ص۲۰۸
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع