دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Islami Zindagi | اسلامی زندگی

book_icon
اسلامی زندگی

تو برخاست کردیا جاتا ہے  اسی طرح ہم بھی محکمہ اسلام اور سلطنت ِمصطفوی اور حکومت الٰہیہ کے  نوکر ہیں ہمارے  لئے  علیٰحدہ شکل مقرر کردی کہ اگر لاکھوں کافروں کے  بیچ میں کھڑے  ہوں تو پہچان لئے  جائیں کہ مصطفی عَلَیْہِ السَّلَام کا غلام وہ کھڑا ہے  اگر ہم نے  اپنی وردی چھوڑ دی تو ہم بھی سزا کے  مستحق ہوں گے ۔

{2}قدرت نے  انسان کی ظاہری صورت اور دل میں ایسا رشتہ رکھا ہے  کہ ہر ایک کا دوسرے  پر اثر پڑتا ہے  اگر آپ کا دل غمگین ہے  تو چہرہ پر اداسی چھا جاتی ہے  اور دیکھنے  والا کہہ دیتا ہے  کہ خیر تو ہے  چہرہ کیوں اداس ہے ، دل میں خوشی ہے  تو چہرہ بھی سرخ و سپید ہوجاتا ہے ، معلوم ہوا کہ دل کا اثر چہرہ پر ہوتا ہے  اسی طرح اگر کسی کو دِق کی بیماری ہے  تو حکیم کہتے  ہیں کہ اس کو اچھی ہوا میں رکھو، اچھے  اور صاف کپڑے  پہناؤ ، اس کو فلاں دوا کے  پانی سے  غسل دو، کہئے  بیماری تو دل میں ہے  یہ ظاہری جسم کا علاج کیوں ہورہا ہے  اسی لئے  کہ اگر ظاہر اچھا ہوگا تو اندر بھی اچھا ہوجائے  گا۔

            تندرست آدمی کو چاہئے  کہ روزانہ غسل کرے ، صاف کپڑے  پہنے ، صاف گھر میں رہے  تو تندرست رہے  گا، اسی طرح غذا کا اثر بھی دل پر پڑتا ہے ، سؤر کھانا شریعت نے  اسی لیے  حرام فرمادیا کہ اس سے  بے  غیرتی پیدا ہوتی ہے  کیونکہ سؤر بے  غیرت جانور ہے  اور سؤر کھانے  والی قومیں بھی بے  غیرت ہوتی ہیں جس کا تجربہ ہورہا ہے ۔ اگر چیتے  یا شیر کی چربی کھائی جائے  تو دل میں سختی اور بربریت پیدا ہوتی ہے ، چیتے  اور شیر کی کھال پر بیٹھنا اسی لئے  منع ہے  کہ اس سے  غرورپیدا ہوتا ہے ، غرضکہ ماننا پڑے  گا کہ غذا اور لباس کا اثر دل پر ہوتا ہے  تو اگر کافروں کی طرح لباس پہناگیا یا کفار کی سی صورت بنائی گئی تو یقینا دل میں کافروں سے  محبت اور مسلمانوں سے  نفرت پیدا ہوجاوے  گی غرضکہ یہ بیماری آخر میں مہلک ثابت ہوگی اس لئے  حدیث پاک میں آیا ہے : ’’مَنْ تَشَبَّہَ بِقَوْمٍ فَہُوَ مِنْہُمْ ‘‘ جو کسی دوسری قوم سے  مشابہت پیدا کرے  وہ ان میں سے  ہے ۔([1])

             خلاصہ یہ کہ مسلمانوں کی سی صورت بناؤ تاکہ مسلمانوں ہی کی طرح سیرت پیدا ہو۔

{3}ہندوستان میں اکثر ہندو مسلم فساد ہوتا رہتا ہے  اور بہت جگہ سننے  میں آیا کہ فساد کی حالت میں بعض مسلمان مسلمانوں کے  ہاتھوں مارے  گئے  کیونکہ پہچانے  نہ گئے  کہ یہ مسلمان ہیں یا ہندو چنانچہ تیسرے  سال جو بریلی اورپیلی بھیت میں ہندو مسلم فساد ہوا اس جگہ سے  خبریں آئیں کہ بہت سے  مسلمانوں کو خود مسلمانوں نے  ہندو سمجھ کر فنا کردیا، یہ اس نئے  فیشن کی برکتیں ہیں ۔ میرے  ولی نعمت، مرشد برحق، حضرت صدر الافاضل مولانا محمد نعیم الدین صاحب قبلہ دَامَ ظِلُّہُمْ نے  فرمایا کہ ایک دفعہ ہم ریل میں سفر کررہے  تھے  کہ ایک اسٹیشن سے  ایک صاحب سوار ہوئے  جو بظاہر ہندو معلوم ہوتے  تھے  گاڑی میں جگہ تنگ تھی ایک لالہ جی سے  ان کا جگہ لینے  کیلئے  جھگڑا ہوگیا، لالہ جی کے  ساتھی زیادہ تھے  اس لئے  لالہ جی نے  ان حضرت کو خوب پیٹا، مسلمان مسافر بیچ بچاؤ میں زیادہ نہ پڑے  کیونکہ سمجھتے  تھے  کہ ہندو آپس میں لڑرہے  ہیں ہمارا زیادہ زور دینا خلاف مصلحت ہے ، بے  چارے  شامت کے  مارے  پٹ کٹ کر ایک طرف کھڑے  ہوگئے  جب اگلے  اسٹیشن پر اترے  تو انہوں نے  کہا: اَلسَّلَامُ عَلَیْکُم، تب معلوم ہوا کہ یہ حضرت مسلمان ہیں ، تب ہم نے  افسو س کیا اور ان سے  عرض کیا کہ حضرت آپ کے  فیشن نے  آپ کو اس وقت پٹوایا۔

            میں جب کبھی بازار وغیرہ جاتا ہوں تو سوچتا ہوں کہ سلام کسے  کروں معلوم نہیں کہ ہندوکون ہے  اور مسلمان کون؟ بہت دفعہ کسی کو کہا: اَلسَّلَامُ عَلَیْکُم انہوں نے  فرمایا: بندگی صاحب۔([2]) ہم شرمندہ ہوگئے ، میرا ارادہ یہ ہوتا ہے  کہ جہاں تک ہوسکے  مسلمان کی دکان سے  چیز خریدوں مگر دوکاندار کی شکل ایسی ہوتی ہے  کہ پہچان نہیں ہوتی کہ یہ کون ہیں اگر دوکان پر کوئی بورڈ لگا ہے  جس کے  نام سے  معلوم ہوگیا کہ یہ مسلمان کی دوکان ہے  تو خیر ورنہ بہت دشواری ہوتی ہے  غرضکہ مسلمانوں کو چاہئے  کہ شکل اور لباس میں کفار سے  علیٰحدہ رہیں ۔

{4}کسی کو نہیں معلوم کہ اس کی موت کہاں ہوگی، اگر ہم پردیس میں مرگئے  جہاں ہمارا جان پہچان والا کوئی نہ ہو تو سخت مشکل درپیش ہوگی، لوگ پریشان ہوں گے  کہ ان کو دفن کریں یا آگ میں جلادیں کیونکہ صورت سے  پہچان نہ پڑے  گی چنانچہ چند سال پیشتر علی گڑھ کے  ایک صاحب کا ریل میں انتقال ہوگیاخبر ہونے  پر رات میں نعش اتار لی گئی مگر اب یہ فکر ہوئی کہ یہ ہے  کون ؟ہندو یا مسلمان اس کو سپرد خا ک کریں یاآگ میں ڈالیں آخر ان کا ختنہ دیکھا گیا تب پتہ لگا کہ یہ مسلمان ہیں ۔خلاصہ یہ ہے  کہ کفار کی سی شکل اور ان کا سا لباس زندگی میں بھی خطرناک ہے  اور مرنے  کے  بعد بھی۔

 {5}زمین میں جب بیج بویا جاتا ہے  تو اولاً ایک سیدھی سی شاخ ہی نکلتی ہے  پھر آکر ہر طرف پھیلتی ہے  پھر اس میں پھل نکلتے  ہیں اگر کوئی شخص اس کی چوطرف کی شاخوں اورپتوں کو کاٹ ڈالے  تو پھل نہیں کھاسکتا۔اسی طرح کلمہ طیبہ ایک بیج ہے  جو مسلمان کے  دل میں بویا گیا، پھر صورت اور ہاتھ پاؤں ، آنکھ، ناک کی طرف اس درخت کی شاخيں چلیں کہ اس کلمہ نے  مسلمان کی آنکھ کو غیر صورتوں سے  علیٰحدہ کردیا۔ہاتھ کو حرام چیز کے  چھونے  سے  روک دیا۔صورت پر ایمانی آثار پیدا کردیئے  کان کو غیبت سننے  اور زبان کو جھوٹ بولنے  غیبت کرنے  سے  روکا جو شخص دل سے  مسلمان تو ہو مگرکافروں کی سی صورت بنائے  اپنے  ہاتھ، پاؤں ، زبان، آنکھ، ناک، کان کو حرام کاموں سے  نہ روکے  وہ اسی شخص کی طرح ہوگا



[1]    المعجم الاوسط للطبرانی، من اسمہ موسیٰ، الحدیث:۸۳۲۷، ج۶، ص۱۵۱

[2]    یعنی آداب، تسلیم۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن