30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
دسویں ، گیارھویں ، بارھویں ، تیرھویں ، باقی احکام کے لئے بہارِ شریعت دیکھو۔فضول خرچیوں کو بند کرو، اور اس سے جوپیسہ بچے اس سے اپنے قرابت داروں اور محلے والوں ، یتیم خانوں اور دینی مدرسوں کی مدد کرنا چاہئے یقین جانو کہ مسلم قوم کی عید جب ہی ہوگی جب ساری قوم خوش حال، ہنرمند اورپرہیز گار ہو، اگر تم نے اپنے بچوں کو عید کے دن کپڑوں سے لاددیا لیکن تمہاری مسلم قوم کے غریب بچے اس دن در بدر بھیک مانگتے پھرے تو سمجھ لو کہ یہ عید قوم کی نہیں ، حق تعالیٰ مسلم قوم کو سچی عید نصیب فرماوے ۔امین
نئے تعلیم یافتہ لوگوں نے مسلمانوں کی موجودہ پستی اور ان کی بیماریوں کا علاج یہ سوچا ہے کہ مسلمان مغربی تہذیب میں اپنے آپ کو فنا کرڈالیں اس طرح کہ مرد تو داڑھیاں منڈوادیں مونچھیں لمبی کریں ، نیکر(جانگھیا)، کوٹ، پتلون، ہیٹ استعمال کریں ، نماز کو خیر باد کہہ دیں اور اپنے کو ایسا ظاہر کریں کہ یہ کسی انگریز کے فرزندہیں اور عورتوں کو گھروں سے باہر نکالیں ، پردہ توڑدیں ، اپنی بیویوں کو ساتھ لے کر بازاروں ، کمپنی باغوں ([1]) اور تفریح گاہوں میں گھومتے پھریں ، رات کو بیگم کولے کر سینما جائیں بلکہ کالج اور اسکولوں میں لڑکے لڑکیاں ایک ساتھ بیٹھ کر تعلیم حاصِل کریں بلکہ مردو عورتیں مل کر ٹینس، ہاکی وغیرہ کھیلیں ، یہ بھوت ان عقلمندوں پر ایساسوار ہوا ہے کہ جوان کو سمجھاتا ہے اس کے یہ دشمن ہیں اس کو ملاں یا مسجد کا لوٹا یا پرانی ٹائپ کا بڈھاکہہ کر اس کا مذاق اڑا کر رکھ دیتے ہیں ۔ اخباروں اور رسالوں میں برابر پردہ کے خلاف مضامین چھپ رہے ہیں ، قرآنی آیتوں اور احادیث شریفہ کو کھینچ تان کر پردہ کے خلاف چسپاں کیا جارہا ہے ۔ میں تو اب تک نہ سمجھ سکا کہ ان حرکتوں سے مسلم قوم ترقی کیوں کرسکے گی اور جن صاحبوں نے اپنے گھروں میں پیرس اور لندن کا نمونہ پیدا کیا ہے انہوں نے اب تک کتنے ملک جیتے اور انہوں نے مسلمانوں کو اپنی ذات سے کیافائدے پہنچائے ہم اس باب کی دوفصلیں کرتے ہیں پہلی فصل میں نئے فیشن کی خرابیاں اور دوسری فصل میں پردے کے فائدے اور بے پردگی کے نقلی اور عقلی نقصانات بیان کریں گے ۔ حق تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے قبول فرمائے اور مسلمانوں کو عمل کی توفیق دے ۔
قرآن کریم فرماتا ہے :
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا ادْخُلُوْا فِی السِّلْمِ كَآفَّةً۪- ([2])
انسان کو قدرت نے دوقسم کے اعضاء دیئے ہیں ایک ظاہری دوسرے چھپے ہوئے ظاہری عُضو تو صورت چہرا آنکھ، ناک، کان وغیرہ ہیں اور چھپے ہوئے عضو دل، دماغ، جگروغیرہ .مسلمان کا مل ایمان والا جب ہوسکتا ہے کہ صورت میں بھی مسلمان ہوا اور دل سے بھی یعنی اسلام کا اس پر ایسا رنگ چڑھے کہ صورت اور سیرت دونوں کو رنگ دے دل میں اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ عَزَّوَجَلَّ وَصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی اطاعت کا جذبہ موجیں ماررہا ہو اس میں ایمان کی شمع جل رہی ہو اور صورت ایسی ہو جو اللہ عزوجل! کے محبوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو پسند تھی یعنی مسلمان کی سی اگر دل میں ایمان ہے مگر صورت بھگوان داس کی سی تو سمجھ لو کہ اسلام میں پورے داخل نہ ہوئے سیرت بھی اچھی بناؤ اور صورت بھی، غور سے سنو!حضرت مغیرہ ابن ِشعبہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ جو کہ صحابی رسول اللہ ہیں ، ایک باران کی مونچھیں کچھ بڑھ گئی تھیں حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا کہ اے مغیرہ !تمہاری مونچھیں بڑھ گئیں ، کاٹ لو۔ انہوں نے خیال کیا کہ گھر جاکر قینچی سے کاٹ دوں گا، مگر سرکا ری فرمان ہوا کہ ہماری مسواک لو، اس پر بڑھے ہوئے بال رکھ کر چھری سے کاٹ دو۔([3]) یعنی اتنی بھی مہلت نہ دی کہ گھر جاکر قینچی سے کاٹیں ’’نہیں یہاں ہی کاٹ دو‘‘ جس سے معلوم ہوا کہ بڑی مونچھیں حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو ناپسند تھیں ، دنیا میں ہزاروں پیغمبر تشریف لائے مگر کسی نبی نے نہ داڑھی منڈائی اور نہ مونچھیں رکھائیں ، لہٰذا داڑھی فطرت یعنی سنت ِانبیاء ہے ، حدیث پاک میں ہے : داڑھیاں بڑھاؤ اورمونچھیں پست کرو اور مشرکین کی مخالفت کرو۔([4])
اس کے علاوہ بہت سی نقلی دلیلیں دی جاسکتی ہیں مگر ہمارے نئے تعلیم یافتہ لوگ نقلی دلائل کے مقابلے میں عقلی باتوں کو زیادہ مانتے ہیں گویا گلاب کے پھول کے مقابلے میں گیندے کے پھول ان کو زیادہ پیارے ہیں اس لئے عقلی باتیں بھی عرض کرتا ہوں سنو! اسلامی شکل اور اسلامی لباس میں اتنے فائدے ہیں :
{1}گورنمنٹ نے ہزاروں محکمے بنادیئے ہیں ، ریلوے ، ڈاکخانہ، پولیس، فوج اور کچہری وغیرہ اور ہر محکمے کے لئے وردی علیٰحدہ علیٰحدہ مقرر کردی کہ اگر لاکھوں آدمیوں میں کسی محکمہ کا آدمی کھڑا ہو تو صاف پہچان میں آجاتا ہے ، اگر کوئی سرکاری نوکر اپنی ڈیوٹی کے وقت اپنی وردی میں نہ ہو تو اس پر جرمانہ ہوتا ہے اگر بار بار کہنے پر نہ مانے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع