دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Islami Zindagi | اسلامی زندگی

book_icon
اسلامی زندگی

            ان مہینوں میں کیا کام کرنے  چاہئیں یہ تو ہم ان شاءَاللہ اس کتاب کے  آخر میں عرض کریں گے ، کچھ ضروری باتیں یہاں بتاتے  ہیں : محرم کی دسویں تاریخ کو حلیم (کھچڑا)پکانا بہت بہتر ہے  کیونکہ جب حضرت نوح عَلَیْہِ السَّلَام اس دن اپنی کشتی سے  زمین پر آئے  تو کوئی غلہ نہ رہا تھا کشتی والوں کے  پا س جو کچھ غلہ کے  دانے  تھے  وہ سب ملاکر پکائے  گئے ۔(تفسیر روح البیان، پارہ بارھواں ، آیت قصہ نوح) ([1])

            اور حدیث شریف میں آیا کہ جو کوئی عاشورہ کے  دن اپنے  گھر کھانے  میں وسعت کرے  یعنی خوب پکائے  اور کھلائے  تو سال بھر اس کے  گھر میں برکت رہے  گی۔(شامی)([2])

  (کشفالخفاء، الحدیث ۲۶۴۱، ج ۲، ص۲۵۳)

   اور کھچڑے (حلیم)میں  ہرکھانا پڑتا ہے  لہٰذا اُمید ہے  کہ ہر کھانے  میں سال بھر تک برکت رہے  گی۔صدقہ وخیرات کرے ، اپنے  گھر اور محلہ میں ذکر شہادت امام حسین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی مجلس کرے  جس میں اگر رونا آئے  تو  آنسوؤں سے  روئے  کپڑے  پھاڑنا ماتم کرنا منہ پیٹنا، سوگ کرنا حرام ہے  رافضیوں کی مجلسوں میں ہرگز نہ جاؤ کہ وہاں اکثر تبرّاہوتا ہے  یعنی صحابہ کرام رِ ضْوانُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِین کو گالیاں دیتے  ہیں ربیع الاول میں مہینہ بھر تک جب چاہومحفلِ میلاد شریف کرو مگر اس کے  پڑھنے  والے  یا    تو مردہوں یا چھوٹی لڑکیاں اور اگر جوان لڑکیاں اور عورتیں پڑھیں تو اتنی نیچی آواز سے  روائتیں پڑھیں کہ ان کی آواز باہر نہ جائے  اور محفل میلاد شریف میں روزے  نماز اور پردے  وغيرہ کے  احکام بھی سنائے  جائیں تاکہ نعت شریف کے  ساتھ احکامِ اسلام کی بھی تبلیغ ہو اور جس قدر خوشی مناؤ، عطرملو، گلاب چھڑکو، ہارپھول ڈالوبہت ثواب ہے  حضورعَلَیْہِ الصَّلَاۃُوَالسَّلَام کی پیدائش اللہ عَزَّوَجَلَّ! کی رحمت ہے  اور اللہ عَزَّوَجَلَّ! کی رحمت پر خوشی منانا۔قرآن کریم کا حکم ہے  قرآن شریف فرماتا ہے ۔

قُلْ بِفَضْلِ اللّٰهِ وَ بِرَحْمَتِهٖ فَبِذٰلِكَ فَلْیَفْرَحُوْاؕ-([3])

بلکہ ہر خوشی وغم کے  موقعہ پر میلاد شریف کرو، شادی بیاہ، موت، بیماری ہر وقت ان کے  گیت گاؤ کیونکہ

ان کے  نثار کوئی کیسے  ہی رنج میں ہو

جب یاد آگئے  ہیں سب غم بھلا دیئے  ہیں

رجب کے  مہینہ میں 22 تاریخ کو کونڈوں کی رسم بہت اچھی اور برکت والی ہے  مگر اس میں سے  یہ قید نکال دو کہ فاتحہ کی چیز باہر نہ جائے  اور لکڑی والے  کا قصّہ ضرور پڑھا جائے ۔

شبِ برات میں رات بھرجاگو، قبروں کی زیارت کرو، رات بھر نفل پڑھو، حلوے  پر فاتحہ پڑھ کر خیرات کرو اور باقی اس کے  احکام آخر میں لکھے  جائیں گے ۔

رمضان شریف میں جو کوئی کسی عذر کی وجہ سے  روزہ نہ رکھے  وہ بھی کسی کے  سامنے  نہ کھائے  پئے ۔ چار وجہ سے  روزہ معاف ہے : عورت کو حیض یا نفاس آنا، ایسی بیماری جس میں روزہ نقصان کرے ، سفر۔ مگر ان سب صورتوں میں قضا کرنی پڑے  گی۔

ستائیسویں رمضان غالباً شبِ قدر ہے  اس رات کو ہوسکے  تو ساری رات جاگ کر عبادت کرو، ورنہ سحری کھاکر پھر نہ سوؤ صبح تک قرآن مجید اور نفل پڑھو، رمضان شریف میں ہرنیک کام کا ثواب ستر گنا ملتا ہے  اس لئے  پورا ماہ رمضان قرآن مجید کی تلاوت اور نوافل پڑھنے  اور صدقہ وخیرات میں گزار دو۔

 عید کے  دن

            اچھے  کپڑے  پہننا، غسل کرنا، خوشبو ملنا سنّت ہے ، ایک دوسرے  کو مبارک باد دو، اگر تمہارے  پاس 56 روپے  نقد([4])یا اس قیمت کا کوئی تجارتی مال یا ساڑھے  باون تولے  چاندی یا ساڑھے  سات تولے  سونا ہے  اور قرض وغیرہ نہیں ہے  تو اپنی طرف سے ، اپنے  چھوٹے  بچوں کی طرف سے  فطرہ ادا کرو۔فطرہ خواہ رمضان میں دے  دو یا عید کی نماز سے  پہلے  عید کے  دن دے  دو۔ فطرہ ایک شخص کی طرف سے  175 روپیہ اٹھنی بھر([5])  گیہوں یا اس سے  دو گنا  َجو، یا اس کی قیمت کا باجرہ، چاول وغیر ہ ہے  ، پھر کچھ خرمے  کھا کر عید گاہ کو جاؤ، راستہ میں آہستہ آہستہ تکبیر کہتے  جاؤ ایک راستے  سے ، واپس آؤ دوسرے  راستہ سے ۔

بقرعید کے  دن یہ کام کرو

             غسل کرنا، کپڑے  بدلنا، خوشبو لگانا مگر اس دن بغیر کچھ کھائے  عیدگاہ کو جاؤ، راستہ میں بلند آواز سے  تکبیر کہتے  ہوئے  جاؤ اور اگر تمہارے  پاس اتنا مال ہے  جو فطرے  کے  لئے  بیان کیا گیا تو بعد نماز کے  اپنی طرف سے  قربانی کردو۔یاد رکھو کہ سال بھر میں پانچ دن روزہ رکھنا منع ہے : ایک عید الفطر کا اور چار دن بقر عید کے  یعنی



[1]    تفسیرروح البیان، ھود، تحت الایۃ:۳۸، ج۴، ص۱۴۲

[2]    رد المختار علی الدرالمختار، کتاب الصوم ، باب ما یفسد الصوم وما لایفسد ، مطلب فی حدیث التوسعۃ علی العیال ۔۔۔الخ ، ج۳، ص۴۵۷، وکشف الخفا ء، حرف المیم الحدیث :۲۶۴۱، ج۲، ص۲۵۳

[3]    ترجمہ کنزالایمان:تم فرماؤاللہ ہی کے  فضل اور اسی کی رحمت اوراسی پرچاہیے  کہ خوشی کریں ۔(پ11، یونس، 58)

[4]    نقد رقم یا مال تجارت کی مالیت کا اعتبار ساڑھے  باون تولے  چاندی کی قیمت سے  کیا جائے  گا، اُس دور میں ساڑھے  باون تولے  چاندی کی قیمت 56روپے  ہوگی۔

[5]    یعنی دو سیر تین چھٹانک آدھا تولہ، یا دو کلو اور تقریباً پچاس گرام۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن