30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جب کافر ابولہب کو حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی پیدائش کی خوشی کا کچھ نہ کچھ فائدہ مل گیا تو مسلمان اگر ان کی خوشی منائے تو ضرور ثواب پائے گا، لیکن یہ خیال رہے کہ جوان عورتوں کا اس طرح نعتیں پڑھنا کہ ان کی آواز غیر مردوں کو پہنچے حرام ہے کیونکہ عورت کی آواز کا غیر مردوں سے پردہ ہے ۔ اسی طرح ربیع الاول میں جلوس نکالنا بہت مبارک کام ہے جب حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم مدینہ منورہ میں ہجرت کرکے تشریف لائے تو مدینہ پاک کے جوان وبچے وہاں کے بازاروں ، کوچوں اور گلیوں میں ’’یا رسو َل اللہ ! ‘‘ کے نعرے لگاتے پھرتے تھے اور جلوس نکالے گئے تھے ۔(مسلم) ([1])
اور اس جلوس کے ذریعہ سے وہ کفار اور دوسری قومیں بھی حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے مبارک حالات سن لیں گے جو اسلامی جلسوں میں نہیں آتے ان کے دلوں میں اسلام کی ہیبت اور بانی ء اسلام عَلَیْہِ السَّلَام کی عزت پیدا ہوگی مگر جلوس کے آگے با جہ وغیرہ کا ہونا یا ساتھ میں عورتوں کا جانا حرام ہے ۔
اس مہینہ کی 22 تاریخ کوہندو پاک میں کونڈے ہوتے ہیں یعنی نئے کونڈے منگائے جاتے ہیں اور سو ا پاؤ میدہ، سوا پاؤشکر، سوا پاؤگھی کی پوریاں بناکر حضرت امام جعفر صادق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی فاتحہ کرتے ہیں ، اس رسم میں صرف دو خرابیاں پیدا کردی گئی ہیں ایک تو یہ کہ فاتحہ دلانے والوں کا عقیدہ یہ ہوگیا ہے اگر فاتحہ کے اوّل لکڑی والے کا قصہ نہ پڑھا جائے تو فاتحہ نہ ہوگی اور یہپوریاں گھر سے باہر نہیں جاسکتیں اور بغیر نئے کونڈے کے یہ فاتحہ نہیں ہوسکتی، یہ سارے خیال غلط ہیں فاتحہ ہر کونڈے پر اور ہر برتن میں ہوجائے گی، اگرصرف زیادہ صفائی کے لئے نئے کونڈے منگالیں تو حرج نہیں ، دوسری فاتحہ کے کھانوں کی طرح اس کو بھی باہر بھیجا جاسکتا ہے ، رجبی شریف بھی حقیقت میں حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی معراج کی خوشی ہے اس میں کوئی حرج نہیں مگر اس میں بھی جو ان عورتوں کو نعتیں بلند آواز سے پڑھنا کہ جس سے باہَر آواز پہنچے حرام ہے ۔
شبِ برات کی رات بہت مبارک ہے اس رات میں سال بھر میں ہونے والے سارے انتظامات فرشتوں کے سپردکردیئے جاتے ہیں کہ اس سال میں فلاں فلاں کی موت ہے ، فلاں فلاں جگہ اتنا پانی برسایا جاوے گا، فلاں کو مالدار اور فلاں کو غریب بنایا جائے گا، اور جو اس رات میں عبادت کرتے ہیں ان کو عذاب الٰہی سے چھٹکار ا یعنی رہائی ملتی ہے اس لئے اس رات کا نام شبِ برات ہے ، عربی میں برات کے معنی رہائی اور چھٹکارا ہیں یعنی یہ رات رہائی کی رات ہے قرآن کریم فرماتا ہے : فِیْهَایُفْرَقُ كُلُّ اَمْرٍ حَكِیْمٍۙ(۴) ([2])
اس رات کو زمزم کے کنوئیں میں پانی بڑھایا جاتا ہے اس رات حق تعالیٰ کی رحمتیں بہت زیادہ اترتی ہیں ۔(تفسیرِ روح البیان ، ، سورہ دخان)([3])
اس رات کو گناہ میں گزارنا بڑی محرومی کی بات ہے آتشبازی کے متعلق مشہور یہ ہے کہ یہ نمرودبادشاہ نے ایجاد کی جبکہ اس نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں ڈالا اور آگ گلزار ہوگئی تواس کے آدمیوں نے آگ کے اناربھرکران میں آگ لگا کر حضرت خلیل اللہ علٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلَاۃُوَالسَّلَام کی طرف پھینکے ۔ کاٹھیا واڑ میں ہندولوگ ہولی اور دیوالی کے موقع پر آتشبازی چلاتے ہیں ۔ ہندو پاک میں یہ رسم مسلمانوں نے ہندوؤں سے سیکھی، مگر افسوس کہ ہندو تو اس کو چھوڑ چکے ہیں مگر مسلمانوں کا لاکھوں روپیہ سالانہ اس رسم میں برباد ہوجاتا ہے اور ہر سال خبریں آتی ہیں کہ فلاں جگہ سے اتنے گھر آتشبازی سے جل گئے اور اتنے آدمی جل کر مر گئے ۔اس میں جان کا خطرہ اور مال کی بربادی مکانوں میں آگ لگنے کا اندیشہ ہے اپنے مال میں اپنے ہاتھ سے آگ لگانا اور پھر خدا تعالیٰ کی نافرمانی کا وبال سرپر ڈالنا ہے ، خدا عزوجل کیلئے اس بیہودہ اور حرام کام سے بچو۔ اپنے بچّوں اور قرابت داروں کو روکو جہاں آوارہ بچے یہ کھیل کھیل رہے ہوں وہاں تماشا دیکھنے کیلئے بھی نہ جاؤ۔آتشبازی بنانااس کابیچنا۔ اس کا خریدنا اور خریدوانا اس کا چلانا یا چلوانا سب حرام ہے ۔
میں دن کو سب کے سامنے کھانا، پیناسخت گناہ اور بے حیائی ہے پہلے زمانہ میں ہندو اور دوسرے کفار بھی رمضان میں بازاروں میں کھانے پینے سے بچتے تھے کہ یہ مسلمانوں کے روزے کا زمانہ ہے مگر جب مسلمانوں نے خود ہی اس مہینہ کا ادب چھوڑ دیا تو دوسروں کی شکایت کیا ہے ۔
بھی عبادت کے دن ہیں ان میں بھی مسلمان گناہ اور بے حیائی کرتے ہیں اگر مسلمان قوم حساب لگائے تو ہندو پاک میں ہزارہا روپیہ روزانہ سینماؤں ، تھیٹروں اور دوسری عیاشی میں خرچ ہورہا ہے ۔ اگر قوم کا یہ روپیہ بچ جائے اور کسی قومی کا م میں خرچ ہو تو قوم کے غریب لوگ پل جائیں اور مسلمانوں کے دن بدل جائیں غرضکہ ان دنوں میں یہ کام سخت گناہ ہیں ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع