دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Islami Zindagi | اسلامی زندگی

book_icon
اسلامی زندگی

تمام باتیں اس لئے  ہوتی ہیں کہ مسلمانوں میں مشہور یہ ہے  کہ آخری چہار شنبہ کو نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے  غسل صحت فرمایا اور تفریح کے  لئے  مدینہ منورہ سے  باہر تشریف لے  گئے  تھے ۔

             ربیع الاول میں عام مسلمان محفلِ میلاد شریف کی مجلسیں کرتے  ہیں جن میں حضورانور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی پیدائش پاک کاذکر اور قیام، نعت خوانی، درود شریف کی کثرت ہوتی ہے  اور بارھویں ربیع الاول کو جلوس نکالا جاتا ہے  اور ربیع الآخر شریف میں گیارھویں شریف حضور غوث پاک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی مجلسیں کرتے  ہیں جس میں حضرت غوثِ پاک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے  حالات پڑھ کر سامعین کو سناتے  ہیں اور بعد فاتحہ تقسیم شرینی کرتے  ہیں یا مسلمانوں کو کھانا کھلاتے  ہیں ، مگر اس زمانہ کے  مسلم نما مرتدین یعنی دیوبندی وہابی ان پاک مجلسوں کو بدعت کہہ کر روکتے  ہیں چنانچہ پنجاب کے  اکثر علاقہ میں یہ رسمیں بالکل بند کردی گئی ہیں ۔

            رجب میں 27 تاریخ کو مسلمان عید معراج النبی کی تقریب میں جلسے  کرتے  ہیں جس کو رجبی شریف کہتے  ہیں اسے  کفار روکتے  ہیں ، شبِ برا ت یعنی پندرھویں شعبان کو مسلمان بچے  اس قدر آتشبازی چلاتے  ہیں کہ راستہ چلنا مشکل ہوتا ہے  اور بہت جگہ اس سے  آگ لگ جاتی ہے ۔

            رمضان شریف میں بعض بے  غیرت مسلمان روزہ داروں کے  سامنے  اور سرِ عام بازار وں میں کھاتے  پیتے  ہیں بلکہ روٹی کی دکانوں میں بھی پردہ ڈال کر کھانا کھاتے  ہیں ۔

            عید اور بقر عیدکے  دن عید کی نماز پڑھ کر سارا دن کھیل کود میں گزارتے  ہیں  اور شہروں میں ان دنوں میں عید، بقر عید کی خوشی میں سینما کے  چار چار شو ہوتے  ہیں سینما کے  ہال مسلمانوں سے  کھچا کھچ بھرے  رہتے  ہیں اور جن کی نئی شادی ہو وہ پہلی عید ضرور سسرال میں کرتے  ہیں ، جن لڑکوں کی منگنی ہوگئی ہے  ان کے  گھر سے  دلہن کے  گھر جوڑا جانا ضروری ہے ۔

ان رسموں کی خرابیاں

            محرم کا مہینہ نہایت مبارک مہینہ ہے ، خاص کر عاشورہ کا دن بہت ہی مبارک ہے  کہ دسویں محرم جمعہ کے  دن حضرت نوح عَلَیْہِ السَّلَام کشتی سے  زمین پر تشریف لائے  اور اسی تاریخ اور اسی دن حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام نے  فرعون سے  نجات پائی اور فرعون غرق ہوا، اسی دن اور اسی تاریخ میں سَیِّدُ الشُّہَدَاء امام حسین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے  کربلا کے  میدان میں شہادت پائی اور اسی جمعہ کا دن اور غالباًاسی دسویں محرم کو قیامت آئے  گی۔غرضکہ جمعہ کا دن اور دسویں محرم بہت مبارک دن ہے  اسلام میں سب سے  پہلے  صرف عاشورہ کا روزہ فرض ہواپھر رمضان شریف کے  روزوں سے  اس روزے  کی فرضیّت تو منسوخ ہوگئی مگر اس دن کا روزہ اب بھی سنت ہے ۔ لہٰذا ان دنوں میں جس طرح نیک کام کرنے  کا ثواب زیادہ ہے  اسی طرح گناہ کرنے  کا عذاب بھی زیادہ تعزیہ داری اور َعلَم نکالنا، کودنا، ناچنایہ وہ کام ہیں جو یزیدی لوگوں نے  کئے  تھے  کہ امام حسین ودیگر شہدائے  کربلا رَضِیَ اللہِ تَعَالٰی عَنْہُمْ اَجْمَعِیْن کے  سر نیزوں پر رکھ کر انکے  آگے  کودتے  ناچتے  خوشیاں مناتے  ہوئے  کربلاسے  کوفہ اور کوفہ سے  دمشق یزید پلید کے  پاس لے  گئے ۔ باقی اہلِ بیت نے  نہ کبھی تعزیہ داری کی اور نہ َعلَم نکالے ، نہ سینے  کوٹے  نہ ماتم کئے  لہٰذا اے  مسلمانو! ان مبارک دنوں میں یہ کام ہرگز نہ کرو ورنہ سخت گنہگار ہوگے ، خو د بھی ان جلوسوں اور ماتم میں شریک نہ ہو اور اپنے  بچوں اپنی بیویوں ، دوستوں کو بھی روکو، رافضیوں کی مجلس میں ہرگز شرکت نہ کروبلکہ خود اپنی سنّیوں کی مجلسیں کرو جس میں شہادت کے  سچے  واقعات بیان ہوں ۔آخری چہار شنبہ ماہ صفر کے  متعلق جو روایت مشہور ہے  کہ حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے  اس تاریخ غسلِ صحت فرمایا، وہ محض غلط ہے ، 27 صفر کو مرض شریف یعنی درد سر اور بخار شروع ہوا، اور بارھویں ربیع الاول دو شنبہ کے  دن وفات ہوگئی، درمیان میں صحت نہ ہوئی، فاتحہ اور قرآن خوانی جب بھی کرو حرج نہیں مگر گھڑے ، برتن پھوڑنا مال کو برباد کرنا ہے  جو حرام ہے ۔ ربیع الاول میں محفلِ میلاد شریف اور ربیع الثانی میں مجلس گیارھویں شریف بہت بابرکت مجلسیں ہیں ان کو بند کرنا بہت نادانی ہے  تفسیر روح البیان میں ہے  کہ محفلِ میلادشریف کی برکت سال بھر تک گھر میں رہتی ہے ۔ ([1])

       اس کے  لئے  ہماری کتاب ’’جَاءَ الْحَق‘‘ دیکھو۔ ان مجلسوں کی و جہ سے  مسلمانوں کو نصیحت کرنے  کا موقعہ مل جاتا ہے  اور مسلمانوں میں حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی محبت پیدا ہوتی ہے  جوایمان کی جڑ ہے ۔

            بخاری شریف میں ہے  کہ ابولہب نے  حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے  پیدا ہونے  کی خوشی میں اپنی لونڈی ثویبہ کو آزاد کیا تھا، اس کے  مرنے  کے  بعد اس کو کسی نے  خواب میں دیکھا، پوچھا: تیرا حال کیا ہے ؟ اس نے  کہا: حال تو بہت خراب ہے  مگر سو موار(پیر)کے  دن عذاب میں کمی ہوجاتی ہے  کیونکہ میں نے  حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے  پیدا ہونے  کی خوشی کی تھی۔([2])

 



[1]    تفسیر روح البیان، الفتح، تحت الایۃ:۲۹، ج۹، ص۵۷

[2]    صحیح البخاری، کتاب النکاح، باب وامھاتکم۔۔۔الخ، الحدیث:۵۱۰۱، ج۳، ص۴۳۲ وعمدۃ القاری شرح صحیح البخاری ، کتاب النکاح، باب وامھاتکم۔۔۔الخ، تحت الحدیث:۵۱۰۱، ج۱۴، ص۴۵

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن