دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Islami Zindagi | اسلامی زندگی

book_icon
اسلامی زندگی

سکھالیں غرضکہ اس کے  ساتھ وہ سلوک کریں جو اپنی اولاد سے  کرتے  ہیں یا اپنی بیٹی کیلئے  ہم خود چاہتے  ہیں وہ بھی تو کسی کی بچی ہے  جو چیز اپنی بچی کیلئے  گوارانہ کرو وہ دوسرے  کی بچی سے  بھی گوارانہ کرو اور کسی پر بلاوجہ بدگمانی کرنا حرام ہے ، اس بدگمانی نے  صدہا گھروں کو تباہ کرڈالا، دلہنوں کو چاہئے  کہ اس کا خیال رکھیں کہ زبان شیریں سے  ملک گیری ہوتی ہے ۔ نرم زبان سے  انسان جانوروں کو قبضے  میں کرلیتا ہے  یہ ساس، نندیں تو پھر انسان ہیں ، خیا ل رکھو کہ قدرت نے  پکڑنے  کیلئے  دوہاتھ، چلنے  کیلئے  دوپاؤں ، دیکھنے  کے  لئے  دو آنکھیں اور سننے  کیلئے  دوکان دیئے  مگر بولنے  کیلئے  زبان صرف ایک ہی دی جس کا مقصد صرف یہ ہے  کہ بولو کم مگر کام زیادہ کرو، اگر تم اپنے  ماں باپ کی بڑائی سب کو جتلاتی پھر و تو بیکار ہے  لطف تو جب ہے  کہ تمہاری رفتار، گفتار، خوش خُلقی، کام دھندا، اچھے  اخلاق ایسے  ہوں کہ ساس نند اور شوہر یا کہ ہر دیکھنے  والا تم کو دیکھ کر تمہارے  ماں باپ کی تعریف کریں کہ دیکھو تو لڑکی کو کیسی عمدہ تعلیم تربیت دی۔ سسرال میں کیسی ہی لڑائی ہوجاوے  ماں باپ کو ہرگز اس کی خبر نہ کرو، اگر کوئی بات تمہاری مرضی کے  خلاف بھی ہوجائے  تو صبر سے  کام لو، کچھ دنوں میں یہ ساس، سسر، نندیں اور شوہر سب تمہاری مرضی پر چلیں گے ، ہم نے  وہ لائق شریف لڑکیاں بھی دیکھی ہیں جنہوں نے  سسرال میں پہلے  کچھ دشواری اٹھائی پھر اپنے  اخلاق سے  سسرال والوں کو ایسا گرویدہ بنالیا کہ انہوں نے  سارے  کے  سارے  اختیاردولہن کو دے  دیئے  اور کہنے  لگے  کہ بیٹی گھر بار تو جانے ، ہم کو تودووقت جو تیرا جی چاہے  پکا کر دے  دیا کرو۔اور خیال رہے  کہ تمہا رے  شوہر کی رضا میں اللہ      تعالیٰ اور رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی رضا مندی ہے ۔

             حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے  فرمایا ہے  کہ اگر خدا کے  سوا کسی کو سجدہ کرنا جائز ہوتا تو میں عورتوں کو حکم دیتا کہ وہ اپنے  شوہروں کو سجدہ کریں ۔ ([1])

            اور اے  شوہرو!تم یاد رکھو کہ دنیا میں انسان کے  چارباپ ہوتے  ہیں ایک تو نسبی باپ، دوسرے  اپنا سسر، تیسرے  اپنا استاد، چوتھے  اپنا پیر۔اگر تم نے  اپنے  سسر کو براکہا تو سمجھ لو کہ اپنے  باپ کو برا کہا، حضور عَلَیْہِ السَّلَام نے  فرمایاہے :’’ بہت کامیاب شخص وہ ہے  جس کی بیوی بچے  اس سے  راضی ہوں ۔‘‘

            خیال رکھو کہ تمہاری بیوی نے  صرف تمہاری وجہ سے  اپنے  سارے  میکے  کو چھوڑا بلکہ بعض صورتوں میں دیس چھوڑ کر تمہارے  ساتھ پردیسی بنی اگر تم بھی اس کو آنکھیں دکھاؤ تو وہ کس کی ہوکر رہے ، تمہارے  ذمہ ماں باپ، بھائی بہن، بیوی بچے  سب کے  حق ہیں کسی کے  حق کے  ادا کرنے  میں غفلت نہ کرو اور کوشش کرو کہ دنیا سے  بندوں کے  حق کا بوجھ اپنے  پر نہ لے  جاؤ، خدا کے  تو ہم سب گنہگار ہیں مگر مخلوق کے  گنہگار نہ بنیں ، حق تعالیٰ میرے  ان ٹوٹے  پھوٹے  لفظوں میں تاثیر دے  اور مسلمانوں کے  گھروں میں اتفاق پیدا فرماوے  اور جو کوئی اس رسالے  سے  فائدہ اٹھائے  وہ مجھ فقیر کے  لئے  دعائے  مغفرت اور حُسنِ خاتمہ کرے ۔

             دوباتیں اور بھی یاد رکھو! ایک تو یہ کہ جیسا تم اپنے  ماں باپ سے  سلوک کروگے  ویسا ہی تمہاری اولاد تمہارے  ساتھ سلوک کرے  گی، جیسا کہ تم دوسرے  کی اولاد کے  ساتھ سلوک کروگے  ویسا ہی دوسرے  تمہاری اولاد سے  سلوک کریں گے  یعنی اگر تم اپنے  ساس سسر کو گالیاں دو گے  تمہارے  دامادتم کو دیں گے ۔

            دوسرے  یہ کہ حدیث شریف میں ہے  کہ ’’قرابت داروں سے  سلوک کرنے  سے  عمر اور مال بڑھتے  ہیں ۔ ‘‘([2]) مسلمانوں کو چاہئے  کہ نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم کی زندگی پاک معلوم کرنے  کے  لئے  حضورپاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی سوانح عمریاں پڑھیں ، جن سے  پتہ لگے  کہ اہل ِقرابت کے  ساتھ کیسا برتاواکرنا چاہئے ۔

پانچواں باب

محرم ، شب برا ت ، عید ، بقر عید کی رسمیں

مروّجہ رسمیں

            ہمارے  ملک میں ان مبارک مہینوں میں حسبِ ذیل رسمیں ہوتی ہیں محرم کے  پہلے  دس دن اور خاص کر دسویں محرم یعنی عاشورہ کا دن کھیل کود، تماشہ اور میلوں کا زمانہ سمجھاگیا ہے ۔ کاٹھیاواڑمیں اس زمانہ میں تعزیہ داری کے  ساتھ کتے ، گدھے ، بندر کی سی صورتیں بناکر مسلمان تعزیوں کے  آگے  کودتے  ہوئے  نکلتے  ہیں اور سبیلوں کی خوب زیبائش کرتے  ہیں اور شرابیں پی پی کر چوکاروں میں کھڑے  ہوکر ماتم کے  بہانے  سے  کودتے  ہیں اور یو۔پی میں مسلمان ان دس دنوں میں برابر رافضیوں کی مجلسوں میں مرثیے  سننے  اور مٹھائی لینے  پہنچ جاتے  ہیں ، پھر آٹھویں تاریخ کو َعلَم اور نویں تاریخ کو تعزیوں کی گشت اور دسویں کو تعزیوں کا جلوس خود بھی نکالتے  ہیں اور رافضیوں کے  تعزیوں کے  جلوس میں بھی شرکت کرتے  ہیں ، بعض جاہل لوگ ماتم بھی کرتے  ہوئے  جاتے  ہیں پھر بارھویں محرم کو تعزیوں کا تیجہ اور 20 صفر کو تعزیوں کا چالیسواں نکالا جاتا ہے  جس میں چند طرح کے  جلوس نکلتے  ہیں ، صفر کے  آخری بدھ کو مسلمانوں کے  گھر پوریاں پکائی جاتی ہیں خوشی منائی جاتی ہے  اور کاٹھیاواڑ میں لوگ عصر کے  بعد ثواب کی نیّت سے  جنگل میں تفریح کرنے  جاتے  ہیں اور یو۔پی میں بعض جگہ اس دن پرانی مٹی کے  برتن پھوڑ کر نئے  خریدتے  ہیں یہ



[1]    سنن ابن ماجہ، کتاب النکاح ، باب حق الزوج علی المراۃ ، الحدیث:۱۸۵۲، ج۲، ص۴۱۱

[2]    سنن الترمذی، کتاب البر والصلۃ، باب ماجاء فی تعلیم النسب، الحدیث:۱۹۸۶، ج۳، ص۳۹۴

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن