دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Islami Zindagi | اسلامی زندگی

book_icon
اسلامی زندگی

            بعد نماز ظہر ایک چوکی پر دولہن دولہا آمنے  سامنے  بیٹھے ، وہ لڈو جو دولہا کی طرف سے  لائے  گئے  ہیں آس پاس پھکوائے  گئے  یعنی دولہا نے  دولہن کی طرف پھینکا اور دولہن نے  دولہا کی طرف جب سات چکر پورے  ہوگئے  تب وہ طوفان بدتمیزی برپا ہوتا ہے  کہ شیطان بھی دم دبا کر بھاگ جائے ۔وہ ترکاریاں اور آلو، شلغم، بینگن وغیرہ جو دولہا والے  ساتھ لائے  تھے  اب ان کے  دو حصّے  کئے  جاتے  ہیں ایک حصّہ دولہا والوں کا اور دوسرا حصّہ دولہن والوں کا پھر ایک دوسرے  کو اس سے  مارلگاتے  ہیں اس کے  بعد جو اور ترقی ہوتی ہے  وہ بیان کے  قابل نہیں ، یہ تو چوتھی ہوئی اب آگے  چلئے  جب دولہن کو واپس سسرال لے  گئے ، تب کنگنا کھولنے  کی رسم ادا ہوئی وہ اس طرح کہ دولہن سے  کنگنا کھلوایا گیا، ادھر سے  دولہا نے  اس کی گانٹھیں سخت کر رکھی ہیں ادھر سے  دولہن کی پوری کوشش ہے  کہ اس کو کھول ڈالے  جب یہ بمشکل تمام کھولا جا چکاتب آپس میں ایک دوسرے  پر پانی پھینکا اور اس میں بڑا ہر([1])وہ مانا جاتا ہے  جو کسی شریف آدمی کو دھوکے  سے  بلاکراس کو بھگودے  اور جب وہ خفا ہو تو ادھر سے  خوشی میں تالیاں بجیں ۔سہرا کھولنے  کی یہ رسم ہے  کہ جب سہرا کھولا گیاتو کسی قریب کے  دریا میں اور اگر دریا موجود نہ ہو تو کسی تالاب میں اور اگر تالاب بھی نہ ہو تو کسی غیر آباد کنوئیں میں ڈال دیا جائے  مگر یہ سہرا اگر ڈالنے  کے  لئے  عورتیں جائیں تو گاتی بجاتی ہوئی اور واپس ہوں تو گاتی بجاتی ہوئی اور اگر مرد جاکر ڈالیں تو پڑھے  لکھے  تو ویسے  ہی پھینک آتے  ہیں اور جاہل لوگ دریا کو سلام کرکے  اس میں ڈالتے  ہیں پھر کچھ میٹھے  چاول پکا کر خوا    جہ خضر کی فاتحہ نیاز ہوتی ہے ، لیجئے  جناب آج ان رسموں نے  پیچھا چھوڑا۔

 ان رسموں کی خرابیاں

            یہ رسمیں ساری ہندوانی ہیں جس میں عورتوں مردوں کا اختلاط یعنی میل جول ہے  یہ بھی حرام اور کھیر اورترکاریوں کی بربادی ہے  یہ بھی حرام ہے ، مسلمانوں کے  کپڑے  خراب کرکے  ان کوتکلیف پہنچانی یہ بھی حرام پھر چوتھی میں ایک دوسرے  کی مرمت کرنا ایذا دینا یہ بھی حرام کہ اس میں دل شکنی بھی ہے  اور سرشکنی بھی، دریا کو اور پانی کوسلام کرنا یہ بھی حرام بلکہ مشرکوں کا کام ہے ، گانا بجانا یہ بھی حرام ہے ۔

ان کی اصلاح

            ان رسموں کی اصلاح یہ ہے  کہ ازاوّل تا آخر یہ تمام رسمیں بالکل بند کردی

جائیں ، بعض جگہ یہ بھی رواج ہے  کہ دلہن سُسرال میں کام نہیں کرتی اور جب پہلا کام کرتی ہے  تو اس سے  پوریاں پکوا کر تقسیم کرائی جاتی ہیں یہ بھی بالکل فضول ہے  اس سے  کوئی فائدہ نہیں اگر اس وقت برکت کیلئے  اس کے  ہاتھ کا پہلا کھانا پکواکر حضور غوثِ پاک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی فاتحہ دی جائے  تاکہ برکت رہے  تو بہت ہی اچھا ہے ۔

ضروری ہدایات

            سسرال کی لڑائیاں چند وجہ سے  ہوتی ہیں کبھی تو دولہن تیز زبان اور گستاخ ہوتی ہے  ساس نند کو سخت جواب دیتی ہے  اس لئے  لڑائی ہوتی ہے ، کبھی شوہر کی چیزوں کو حقیر جانتی ہے  اور وہاں اپنے  میکے  کی بڑائی کرتی رہتی ہے  کہ میرے  باپ کے  گھر یہ تھا وہ تھا، کبھی ساس نند یں دولہن کے  ماں باپ کو اس کی موجودگی میں بُر ابھلا کہتی ہیں ، جس کو وہ برداشت نہیں کرسکتی، کبھی سسرال کے  کام سے  جی چراتی ہے  کیونکہ میکے  میں کام کرنے  کی عادت نہ تھی، کبھی میکے  بھیجنے  پر جھگڑاہوتاہے  کہ دولہن کہتی ہے  کہ میں میکے  جاؤں گی سسرال والے  نہیں بھیجتے  پھر دولہن اپنی تکلیفیں اپنے  میکے  والوں سے  جاکر کہتی ہے  تو وہ اس کی طرف سے  لڑائی کرتے  ہیں یہ ایسی آگ لگتی ہے  کہ بجھائے  نہیں بجھتی کبھی ساس نندیں بلاوجہ دلہن پر بدگمانی کرتی ہیں کہ دولہن ہماری چیزوں کی چوری کرکے  میکے  پہنچاتی ہے ۔

             یہ وہ شکایات ہیں جنکی وجہ سے  ہمارے  یہاں خانہ جنگیاں رہتی ہیں اور ان شکایات کی جڑ یہ ہے  کہ ایک دوسرے  کے  حقوق سے  بے  خبر ہیں ، دولہن کو نہیں معلوم کہ مجھ پر شوہر اور ساس کے  کیا حق ہیں اور ساس اور شوہر کو نہیں خبر کہ ہم پر دولہن کے  کیا حق ہیں ؟ساسوں اور شوہروں کو یہ خیال چاہئے  کہ نئی دولہن ایک قسم کی چڑیا ہے  جو ابھی ابھی قفس(پنجرے )میں پھنسی ہے  تو پھڑپھڑاتی بھی ہے  اور بھاگنے  کی بھی کوشش کرتی ہے  مگر شکاری اور پالنے  والا اس کو کھانے  پانی کا لالچ دے  کر پیارکرکے  بہلاتا اور اس کے  دل لگانے  کی کوشش کرتا ہے  پھر آہستہ آہستہ اُس کا دل لگ جاتا ہے ، اسی طرح ساس، نندوں اور شوہروں کو چاہئے  کہ اس کے  ساتھ ایسا اچھا برتاوا کریں کہ وہ جلد ان سے  ہل مل جائے ۔ دوستو! چار دن توقبر کے  بھی بھاری ہوتے  ہیں اور خیال رکھو کہ لڑکی سب کچھ سن سکتی ہے  مگر اپنے  ماں باپ بہن بھائی کی برائی نہیں سن سکتی، اسکے  سامنے  اس کے  ماں باپ کو ہرگز بُرا نہ کہو، دیکھو ابوجہل کا فرزند عکرمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ جب ایمان لائے  تو حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے  صحابہ کرام رِضْوَانُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن کو حکم دیا کہ عکرمہ کے  سامنے  کوئی بھی ان کے  باپ ابوجہل کو برا نہ کہے ۔(مدارج النبوۃ) ([2])

            یہ کیوں تھا صرف ا س لئے  کہ ہر شخص کی فطری عادت ہے  کہ اپنے  ماں باپ کی برائی نہ سن سکے ، اگر لڑکی کو کسی کام کاج میں مہارت نہ ہو تو آہستگی سے  



[1]    یعنی بڑاماہر۔

[2]    مدارج النبوت، قسم سوم، وصل:عزیمتِ سفربسوئے  مکہ، ذکرعکرمہ بن ابی جہل، ج۲، ص۲۹۸

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن