دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Islami Zindagi | اسلامی زندگی

book_icon
اسلامی زندگی

پاس کافی روپیہ چاہیے  اور بہت دفعہ ایسا ہو ا کہ مقدمہ چلا، شوہر نے  ادائے  مہر کے  جھوٹے  گواہ کھڑے  کر دیئے  کہ میں نے  مہر دے  دیا ہے  یا اُس نے  معاف کر دیا ہے ، اس کی بھی مثالیں موجود ہیں ۔ اگر کوئی مکان وغیرہ نام کر الیا تو بھی بیکار کیونکہ جب مرد عورت سے  آنکھ پھیر لیتا ہے  تو پھر مکان یا تھوڑی زمین کی پرواہ نہیں کرتا اگر وہ مکان چھوڑ بیٹھے  تو کیا عورت مکان چاٹے  گی۔ ایسے  ہی اگر شو ہر سے  کچھ ما ہوار تنخواہ لکھوالی تو اولاً تو وصول کرنا مشکل، اگر شو ہر غائب ہوگیا یا وہ غریب آدمی ہے  تو کس طر ح ادا کرے  اور اگر تنخواہ ملتی بھی رہی تو جوانی کی عمر کیوں کر گزارے ۔ دوستو ! یہ سارے  علاج غلط ہیں اس کا صرف ایک علاج ہے  وہ یہ کہ نکاح کے  وقت ’’کابین نامہ‘‘ شوہر سے  لکھوالیا جائے ، ’’کابین نامہ‘‘ یہ ہے  کہ ایک تحریر لکھی جائے  جس میں شوہر کی طر ف سے  لکھا ہو کہ اگر میں لاپتہ ہوجاؤں یا اس بیوی کی موجودگی میں دوسرا نکاح کر کے  اس پر ظلم کرو ں یا اس کے  حقوق شرعی ادا نہ کرو ں وغیرہ وغیرہ تو اس عورت کو طلاق بائنہ لینے  کا حق ہے ، لیکن یہ تحریر نکاح کے  ایجاب وقبول کے  بعد کرائی جائے  یا نکاح خواں قاضی ایجاب تو مرد کی طرف سے  کرے  اور عورت اس شرط پر قبول کرے  کہ مجھ کو فلاں فلاں صورت میں طلاق لینے  کا حق ہوگا پھر ان شاءَاللہ شوہر کسی قسم کی بدسلوکی نہ کر سکے  گا اور اگر کرے  تو عورت خود طلاق لے  کر مرد سے  آزاد ہوسکے  گی۔

            اس میں شرعاً کچھ حرج نہیں اور یہ علاج بہت مفید ثابت ہوا، اس سے  یہ مقصود نہیں ہے  کہ مسلمانوں کے  گھر بگڑیں بلکہ میں یہ چاہتاہوں کہ بگڑنے  سے  بچیں مرد اس ڈر سے  عورتوں کے  ساتھ بد سلو کی کرنے  سے  بازر ہیں ۔

دوسری ہدایت

            پنجاب اورکاٹھیا واڑ میں طلاق کابہت رواج ہے  معمولی سی باتوں پر تین طلاقیں دے  دیتے  ہیں اور ہندو محرروں سے  طلاق نامہ لکھواتے  ہیں جو اسلامی مسائل سے  بالکل جاہل ہیں پھر بعد میں پچھتا کر مفتی صاحب کے  پاس روتے  ہوئے  آتے  ہیں کہ مولوی صاحب خدا کے  لئے  کوئی صورت نکالو کہ میری بیوی پھر نکاح میں آجاوے  میں چونکہ فتو وں کا کام کرتا ہوں اس لئے  مجھے  ان واقعات سے  بہت سابقہ پڑتا رہتا ہے  پھر بہانہ یہ بتا تے  ہیں کہ غصہ میں ایسا ہوگیا۔

دوستو! طلاق غصہ میں ہی دی جاتی ہے ، خوشی میں کون دیتا ہے  پھر یہ حیلہ کرتے  ہیں کہ وہابیوں سے  مسئلہ لکھواتے  ہیں کہ ایک دم تین طلاقیں ایک طلاق ہوتی ہے ، اس میں رجوع جائز ہے ۔ دو ستو ! یہ حیلہ بہانہ بالکل بے  کار ہے  اگر تم وہابی کیا عیسائی، آریہ سے  بھی لکھوالاؤ کہ طلاق نہ ہوئی، کیا اس سے  شرعی حکم بد ل جائے  گا ہر گز نہیں ، (اس کی تحقیق کہ طلاقیں ایک ہوتی ہیں یا نہیں ہمارے  فتا ویٰ میں دیکھو جس میں اس مسئلہ کی پوری تحقیق کردی گئی ہے  اورمسلم کی حدیث سے  جو د ھو کا دیا جاتا ہے  اس کو بھی صاف کردیا گیا ہے ۔)

       لہٰذا میر امشورہ یہ ہے  کہ اوّل تو طلاق کانام ہی نہ لو، یہ بہت بری چیز ہے ، ’’ اَبْغَضُ الْمُبَاحَاتِ الطَّلَاقُ ‘‘۔([1])

            اگر ایسا کرنا ہی ہو تو صرف ایک طلاق دوتا کہ اگر بعد کو اور دو بارہ نکاح کی گنجائش رہے  اور ہمیشہ طلاق نامہ مسلمان واقف کا ر محر ر یا کسی عالم دین کی رائے  سے  لکھواؤ۔

تیسری فصل

نکاح کے  بعد کی رسمیں

مروّجہ رسمیں

            شادی کے  بعد بھی مختلف قسم کی رسمیں قریب قریب ہرجگہ موجود ہیں لیکن نکاح کے  بعد کی رسموں میں یو۔پی کا علاقہ سب ملکوں سے  آگے  بڑھاہوا ہے  یو۔پی میں تین طرح کی رسمیں جاری ہیں ، ایک چوتھی، دوسری کنگنا اور سہراکھولنے  کی رسم، تیسری کھیر کی رسم، چوتھی کو یہ ہوتاہے  کہ رخصت کے  دوسرے  دن دولہن کے  میکے  سے  تیس یا چالیس آدمی یا کچھ کم وبیش چوتھی لوٹانے  کیلئے  دولہا کے  گھر جاتے  ہیں ، جہاں ان کی پر تکلّف دعوت ہوتی ہے  کھانا کھا کر میٹھے  چاولوں کے  تھال میں اپنی حیثیت سے  زیادہ روپیہ رکھتے  ہیں یہ روپیہ بھی دولہن والوں کی طرف سے  چندہ ہوکر بطورنیوتا جمع ہوتا ہے  بعض بعض جگہ اس وقت تھال میں سو یا دو سو یا کچھ زیادہ روپیہ ڈالے  جاتے  ہیں پھر لڑکی کو اپنے  ہمراہ لے  آتے  ہیں چوتھے  دن دولہاکی طرف سے  کچھ عورتیں اور کچھ مرد دولہن کے  میکے  جاتے  ہیں اپنے  ساتھ سبز ترکاریاں آلو، بینگن وغیرہ اور کچھ مٹھائی جس میں لڈّو      ضرور ہوں لے  جاتے  ہیں ۔وہاں  ان کی تواضع خاطرکے  لئے  پتلی پتلی کھیر تیار ہوتی ہے ۔ایک ٹوٹی کرسی پر کھیر کی تھالی بھری ہوئی رکھ کر اوپر سے  سفید چادر ڈال دیتے  ہیں دولہا کو بیٹھنے  کیلئے  وہ کرسی پیش کی جاتی ہے  دولہا میاں بے  خبراس پربیٹھتاہے ، بیٹھتے  ہی تمام کپڑے  کھیر میں خراب ہوجاتے  ہیں اور ہنسی اڑتی ہے  پھر دولہن والے  دولہا والوں کے  کپڑے  اور منہ خوب اچھی طرح خراب کرنے  کی کوشش کرتے  ہیں وہ اپنا بچاؤ کرتے  ہیں اس میں خوب دل لگی رہتی ہے  جب اس شیطانی رسم سے  نجات ہوئی تب کھانا کھلایا۔

 



[1]    یعنی جائز چیزوں میں سب سے  ناپسندیدہ شے  طلاق ہے  ۔

                                                                          (فتح القدیر ، کتاب الطلاق، ج۳، ص۴۴۴)

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن