دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Islami Zindagi | اسلامی زندگی

book_icon
اسلامی زندگی

فَاِنَّ السِّوَاکَ مَطْہَرَۃٌ لِلْفَمِ مَرْضَاۃٌ لِلرَّبِّ یعنی  مسواک کرو کیونکہ مسواک منہ کی پاکیزگی اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کی خوشنودی کا سبب ہے ۔

(سنن ابن ماجہ، کتاب الطہارۃ وسننہا، باب السواک، الحدیث۲۸۹، ج۱، ص۱۸۶)

 

 

جہیز

            جہیز کیلئے  بھی کوئی حد ہونی چاہئے  کہ جس کی ہر امیر وغریب پابندی کرے ۔ امیر لوگ اورموقعوں پر اپنی لڑکیوں کو جوچاہیں دیں مگر جہیز وہ دیں جو مقرر ہوگیا یا د رکھو اگر تم جہیز سے  دولہا کا گھر بھی بھر دو گے  تو بھی تمہارا نام نہیں ہوسکتا کیونکہ بعض جگہ بھنگی چمارو ں نے  اتنا جہیز دے  دیا ہے  کہ مسلمان بڑے  مالدار بھی نہیں دے  سکتے ۔ چنا نچہ چند سال گزرے  کہ آگر ے  میں ایک چمار نے  اپنی لڑکی کو اتنا جہیز دیا کہ وہ برات کے  ساتھ جلوس کی شکل میں ایک میل میں تھا، اس کی نگرانی کے  لئے  پولیس بلانی پڑی جب اس سے  کہا گیا کہ اتنا جہیز رکھنے  کے  لئے  دولہا کے  پاس مکان نہیں ہے  تو فوراً چھ چھ ہزار یعنی بارہ ہزار روپے  کے  مکان خرید کر دولہا کو دے  دیئے  چنانچہ اب ہم نے  خود دیکھا کہ جو مسلمان اپنی جائیداد ومکان فروخت کر کے  اتنا اچھاجہیز دیتے  ہیں تو دیکھنے  والے  اس چمار کے  جہیز کا ذکر شروع کرتے  ہیں اور کہتے  ہیں کہ بھائی وہ چمار جہیز کا ریکارڈ توڑ گیا اس مسلمان بیچا رے  کا نام نہ تعریف، لہٰذا اے  مسلمانو!ہوش کرو اس ناموری کی لالچ میں اپنے  گھر کو آگ نہ لگاؤیا در کھو کہ نام اور عزت تو اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی پیروی میں ہے ۔ لہٰذا جو جہیز ہم عرض کرتے  ہیں اس سے  زیادہ ہر گز نہ دو:

            بر تن 11عدد، چا ر پائی درمیانی ایک عد د، لحاف ایک عد د، توشک (گدیلا) ایک عد د، تکیہ ایک عد د، چا در ایک عدد، دلہن کو جوڑے  چا ر عدد، جس میں دو عدد سوتی ہوں اور دو ریشمی۔ دولہا کو جوڑے  دو عدد، دولہا کے  والد کو جوڑا ایک عدد، دولہا کی ماں کو جوڑا  ماں کو جوڑا ایک عدد، مصلی (جائے  نماز) ایک عدد، قرآن شریف مع رحل ایک عدد، زیور بقدرہمت مگر اس میں بھی زیادتی نہ کرو۔ اگر ہو سکے  تو اس کے  علاوہ نقد روپیہ لڑکی کے  نام میں جمع کر ادو اور اگر تم کو اللہ عزوجل! نے  دیا ہے  تو لڑکی کو کوئی مکان، دوکان، جائیداد کی شکل میں خرید دو لڑکی کے  نام رجسٹری ہو۔ یہ بھی یا د رکھو کہ تمام لڑکیوں میں برابری ہونا ضروری ہے  لہذا اگر نقدی روپیہ یا جائیداد ایک کودی ہے  تو سب کو دو ورنہ گنہگار ہو گئے ۔ جو اولاد میں برابر ی نہ رکھے  حدیث شریف میں اس کو ظالم کہا گیا ہے ۔([1])

     اور اپنی لڑکیوں کو سکھا دو کہ اگر ان کی ساس یانند طعنہ دیں تو وہ جواب دیں کہ میں سنت طریقہ اور حضرت خاتون جنت کی غلامی میں تمہارے  گھر آئی ہوں ۔ اگر تم نے  مجھ پر طعنہ کیا تو تمہارا یہ طعنہ مجھ پر نہ ہوگا بلکہ اسلام اور بانئی اسلام عَلَیْہِ السَّلام پر ہوگا۔ ساس نند بھی خوب یادرکھیں کہ اگر انہوں نے  یہ جواب سن کربھی زبان نہ روکی۔ تو ان کے  ایمان کا خطرہ ہے ۔

لطیفہ:     حضر ت امام محمدرَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے  پاس ایک شخص آیا اور عرض کرنے  لگا۔ کہ میں نے  قسم کھائی تھی کہ اپنی بیٹی کو جہیز میں ہر چیز دو ں گا۔ اب کیا کرو ں کہ قسم پوری ہو۔ کیونکہ ہر چیز تو بادشاہ بھی نہیں دے  سکتا۔ آپ نے  فرمایا کہ تو اپنی لڑکی کو جہیز میں قرآن شریف دے  دے  کیونکہ قرآن شریف میں ہر چیز ہے  اور آیت پڑھ دیوَ لَا رَطْبٍ وَّ لَا یَابِسٍ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ مُّبِیْنٍ(۵۹)([2]) (روح البیان پارہ گیارھواں سورۂ یونس کی پہلی آیت ) ([3])

لہٰذا لڑکیوں اور ان کی ساس نندوں کو یاد رکھنا چاہیے  کہ جس نے  قرآن شریف جہیز میں دیدیا اس نے  سب کچھ دے  دیا، کیا چکی، چولہا اور دنیاکی چیزیں قرآن شریف سے  بڑھ کر ہیں ۔

            اور اگر برات دوسرے  شہر سے  آئی ہے  تو برات میں آنے  والے  آدمی مرد اور عورت 25 سے  زیادہ نہ ہوں اور ان مہمانوں کو لڑکی والا کھانا کھلائے  مگر یہ کھانا مہمانی کے  حق کا ہوگانہ کہ برات کی رو ٹی۔ اس طر ح دولہن والے  کے  گھر جو اپنی برادری اور بستی کی عام دعوت ہوتی ہے  وہ بالکل بند کردی جائے ، ہاں باہر کے  مہمان اور برات کے  منتظمین ضرور کھانا کھائیں ، مقصود صرف یہ ہے  کہ دولہن کے  گھر عام برادری کی دعوت نہ ہو کہ یہ بلاوجہ کا بوجھ ہے  جہاں تک ہوسکے  لڑکی والے  کا بوجھ ہلکا کردو۔

            جب دولہن خیر سے  گھر پہنچے  تو رخصت کے  دو سرے  دن یعنی شبِ عروسی کی صبح کو دولہا کے  گھر دعوت ولیمہ ہونی چاہیے ، یہ دعوت اپنی حیثیت کے  مطابق ہو کہ یہ سنت ہے  مگر اس کی دھوم دھام کے  لئے  سودی قرضہ نہ لیا جائے  اور مالدارو ں کے  ساتھ کچھ غربا اور مساکین کوبھی اس دعوت میں بلایا جائے  یا در کھو کہ جس شادی میں خرچہ کم ہوگا ان شاءَاللہ عَزَّوَجَلَّ وہ شادی بڑی مبارک اور دولہن بڑی خوش نصیب ہوگی، ہم نے  دیکھا کہ زیادہ جہیز لے  جانے  والی لڑکیاں سسرال میں تکلیف سے  رہیں اورکم جہیز لانے  والیاں بڑے  آرام سے  گزارا کر رہی ہیں ۔

            ہم نے  حضرت فا طمہ زہرا رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کی شادی اور ان کاجہیز اور ان کی خانگی زندگی شریف نظم میں لکھی ہے ، آؤ ! آپ کو سنائیں ، سنو اور عبر ت پکڑو۔

 



[1]    صحیح مسلم، کتاب الھبات، باب کراہیۃ تفضیل۔۔۔۔الخ، الحدیث۱۶۲۳، ۱۶۲۴، ص۸۷۷

[2]    ترجمہ کنزالایمان:اور نہ کوئی تراور نہ خشک جوایک روشن کتاب میں نہ لکھا ہو(پ۷، الانعام ـ ۵۹)

[3]    رو ح البیان، پ ۱۱، یونس : تحت۱، ج ۴، ص ۴

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن