دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Islami Zindagi | اسلامی زندگی

book_icon
اسلامی زندگی

کچھ ثواب  نہیں پاتے  اور جب ان شاءَاللہ عبادت کی نیت سے  آیاکریں گے  تو جیسے  اب لوگ عید کی نماز کیلئے  عید گاہ میں جاتے  ہیں تب ان شاءَاللہ رونق ہی کچھ اور ہوگی اور بہار ہی کچھ اور آوے  گی، ابھی یہاں گجرات میں بھائی فضل الٰہی صاحب کے  گھر ایسی ہی سیدھی سادی شادی ہوئی اس قدر مجمع تھا کہ میں نے  آج تک کسی برات میں ایسا مجمع نہ دیکھا بہت سے  مسلمان تو وضو کرکے  درودشریف پڑھتے  ہوئے  اس سارے  جلوس میں شریک ہوئے ۔

            پانچواں بہانہ یہ کرتے  ہیں کہ لوگ ہم پر طعنہ کریں گے  کہ خرچ کم کر نے  کے  لئے  یہ رسمیں بند کی ہیں اور بعض لوگ یہ کہیں گے  کہ یہ ماتم کی مجلس ہے  یہاں ناچ نہیں  باجہ نہیں گویا تیجہ پڑھا جارہا ہے ۔ یہ عذر بھی بیکار ہے ۔ ایک سنّت کو زندہ کرنے  میں سو شہیدوں کا ثواب ملتا ہے  کیا یہ ثواب مفت میں مل جائے  گا ؟لوگوں کے  طعنے  عوام کے  مذاق، اوّل اوّل برداشت کرنے  پڑیں گے  اور دوستو! اب بھی لوگ طعنے  دینے  سے  کب با ز آتے  ہیں ، کوئی کھانے  کا مذاق اڑاتا ہے ، کوئی جہیز کا، کوئی اورطرح کی شکایت کرتا ہے  غرضکہ لوگوں کے  طعنے  سے  کوئی کسی وقت نہیں بچ سکتا، لوگوں نے  تو خدا تعالیٰ اور اس کے  رسولوں کو عیب لگائے  اور طعنے  دیئے  تم ان کی زبان سے  کس طرح بچ سکتے  ہو، یہ بھی یاد رکھو کہ پہلے  تو کچھ مشکل پڑے  گی مگر بعد میں ان شاءَاللہ وہ ہی طعنے  دینے  والے  لوگ تم کو دعائیں دیں گے  اور غریب و غربا کی مشکلیں آسان ہوجائیں گی۔ اللہ اور حضور عَلَیْہِ السَّلام بھی راضی ہوں گے  اور مسلمان بھی، مضبوطی سے  قائم رہنا شرط ہے ۔

بیاہ شادی کی اسلامی رسمیں

            سب سے  بہتر تو یہ ہوگا کہ اپنی اولاد کے  نکاح کے  لئے  حضرتِ خاتونِ جنّت شاہزادی اسلام فاطمہ زہرا رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے  نکاحِ پاک کو نمونہ بناؤ اور یقین کرو کہ ہماری اولاد ان کے  قدم پاک پر قربان اور یہ بھی سمجھ لو کہ اگر حضور نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم کی مرضی ہوتی کہ میری لختِ جگر کی شادی بڑ ی دھوم دھام سے  ہو اور صحابہ کرا م رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْسے  اس کے  لئے  چندہ (نیوتا) وغیرہ کیلئے  حکم فرمادیا جاتا تو عثمانِ غنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا خزانہ موجود تھا۔ جو ایک ایک جنگ کیلئے  نو نو سو اونٹ اور نو نو سو اشرفیاں حاضر کردیتے  تھے ، لیکن چونکہ منشا یہ تھا کہ قیامت تک یہ شادی مسلمانوں کیلئے  نمونہ بن جائے  اس لئے  نہایت سادگی سے  یہ اسلامی رسم ادا کی گئی۔ لہٰذا مسلمانو! اوّلاً تو اپنی بیاہ برات سے  ساری حرام رسمیں نکال ڈالو، باجے ، آتشبازی، عورتوں کے  گانے ، میراثی ڈوم وغیرہ کے  گیت، رنڈیوں کے  ناچ، عورتوں اور مردوں کا میل جول، پھول پتی کا لٹانا ایک دم اللہ کا نام لے  کر مٹادو، اب رہی فضول خرچی کی رسمیں ان کو یاتو بند ہی کردو اگر بند نہ کرسکو تو ان کے  لئے  ایسی حد مقرر کردو جس سے  فضول خرچی نہ رہے  اور گھر کی بربادی نہ ہو۔ جنہیں امیر و غریب سب بے  تکلف پورا کرسکیں لہٰذا ہماری رائے  یہ ہے  کہ اس طریقہ سے  نکاح کی رسم ادا ہونی چاہئے :

            بھات (نانکی چھوچھک) کی رسم بالکل بند کردی جائے  اگر دولہا دولہن کا ماموں ، نانا کچھ امداد کرنا چاہیں تو رسم بناکر نہ کریں بلکہ محض اس لئے  کہ قرابت داروں کی مدد کرنا رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا حکم ہے  اس لئے  بجائے  کپڑوں کے  نقد روپیہ دے  دیں جو کہ پچیس روپیہ سے  زیادہ ہرگز نہ ہوں یعنی کم تو ہوں مگر اس سے  زِیادہ نہ ہوں اور یہ امداد خفیہ کی جاوے  دکھلاوے  کو اس میں دخل نہ ہو، تا کہ رسم نہ بن جائے ۔ دولہا دولہن نکاح سے  پہلے  اوپٹن یا خوشبو کا استعمال کریں مگر مہندی اور تیل لگانے  اور اوپٹن کی رسم بند کردی جائے  یعنی گانا باجا عورتوں کا جمع ہونا بند کردو۔ اب اگر برات شہر کی شہر میں ہے  تو ظہر کی نماز پڑھ کر برات کا مجمع دولہا کے  گھر جمع ہو اور دولہن والے  لوگ دولہن کے  گھر جمع ہوں ۔ دولہن کے  یہاں اس وقت نعت خوانی یا وعظ یا درود شریف کی مجلس گرم ہو۔ ادھر دولہا کو اچھا عمدہ سہرا باندھ کر یا پیدل یا گھوڑے  پر سوار کرکے  اس طرح برات کا جلوس روانہ ہو کہ آگے  آگے  عمدہ نعت خوانی ہوتی جاوے ، تمام بازاروں میں یہ جلوس نکالا جائے ۔ جب یہ برات دولہن کے  گھر پہنچے  تو دولہن والے  اس برات کو کسی قسم کی روٹی یا کھانا ہر گز نہ دیں کیونکہ حضرت زہرا رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے  نکاح میں حضور عَلَیْہِ السَّلَام نے  کوئی کھانا نہ دیا غرضکہ لڑکی والے  کے  گھر کھانا نہ ہو بلکہ پان یا خالی چائے  سے  تو اضع کر دی جائے  پھر عمدہ طریقہ سے  خطبہ نکاح پڑھ کر نکاح ہوجائے  اگر نکاح مسجد میں ہو تو اور بھی اچھا ہے  نکاح کا مسجد میں ہونا مستحب ہے  اور اگر لڑکی کے  گھر ہو تب بھی کوئی حرج نہیں ۔ نکاح ہوتے  ہی براتی لوگ واپس ہوجائیں یہ تمام کام عصر سے  پہلے  ہوجاویں اور بعد مغر ب کو دولہن کو رخصت کر دیا جائے  خواہ رخصت ٹا نگہ میں ہو یا ڈولی وغیرہ میں مگر اس پر کسی قسم کا نچھاور اور بکھیر بالکل نہ ہو کہ بکھیر کر نے  میں پیسے  گم ہو جاتے  ہیں ۔ہاں نکاح کے  وقت خرمے  لٹا نا سنت ہے  اور اگر نکاح کے  وقت دو چا ر گو لے  چلادیئے  جائیں یا اعلان کی نیت سے  جہاں نکاح ہوا ہے  وہاں ہی کوئی نقارہ یا نوبت اس طر ح بغیر گیت کے  پیٹ دی جائے  جیسے  سحری کے  وقت اٹھانے  کے  لئے  رمضان شریف میں پیٹی جاتی ہے  تو بھی بہت اچھا ہے  یہ ہی ضرب دف کے  معنٰی ہیں ۔

مسواک کی فضیلت

    حضرت سیدنا ابو امامہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے  روایت ہے ، نبی مکرم، نور مجسم، رسول اکرم، شہنشاہ بنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ برکت نشان ہے ، تَسَوَّکُوْا

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن