دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Islami Zindagi | اسلامی زندگی

book_icon
اسلامی زندگی

            دوسرے  یہ کہ یہ سارے  کام اپنے  نام کے  لئے  کئے  جاتے  ہیں ، مگر دوستو ! سوائے  بدنامی کے  کچھ بھی حاصل نہیں ہوتا۔ کھانے  والے  تو کھانے  میں عیب نکالتے  ہوئے  جاتے  ہیں کہ اس میں گھی ولایتی تھا، نمک زِیادہ تھا، مرچ اچھی نہ تھی اور دولہا والے  ہمیشہ شکایت ہی کرتے  دیکھے  گئے ، لڑکی کیلئے  وہاں طعنے  ہی طعنے  ہوتے  ہیں ۔

لطیفہ: یہ عجیب بات ہے  کہ ہمارے  گھر یہ براتی عمد ہ عمدہ مزیدار مال کھاکر جائیں مگر ان کا منہ سیدھا نہیں ہوتاکھانے  میں عیب نکالتے  ہیں مگر اولیاء اللہ اور پیر مرشدوں کے  گھرسوکھی روٹیاں اور دال دلیہ خوشی سے  کھا کر تبرّک سمجھ کر تعریفیں کرتے  ہیں ۔ وہ سوکھی روٹیاں اپنے  بچوں کو پردیس میں بھیجتے  ہیں ، جاکر دیکھو اجمیر شریف کا دلیہ اور بغداد شریف اور دوسرے  آستانوں کی دال روٹیاں ، اس کی وجہ کیا ہے  ؟

دوستو! وجہ صرف یہ ہے  کہ یہ کھانے  مخلوق کو راضی کرنے  کیلئے  ہیں اور وہ خشک روٹیاں خالق کیلئے  اگر ہم بھی شادی بیاہ کے  موقع پر کھانا، جہیز وغیرہ فقط سنّت کی نیّت سے  سنّت طریقہ پر کریں تو کبھی کوئی اعتراض ہوسکتا ہی نہیں ۔ ہمارے  دوست سیٹھ عبد الغنی صاحب ہرسال بقر عید کے  موقعہ پر حضور نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی طرف سے  قربانی کرتے  ہیں اور پلاؤ پکا کر عام مسلمانوں کی دعوت کرتے  ہیں ۔

            میں نے  دیکھا ہے  کہ وہ معز ز مسلمان جوکسی کی شادی بیاہ میں بڑے  نخرے  سے  جاتے  ہیں وہ بغیر بلائے  یہاں آجاتے  ہیں اور اگر آخری ایک اثر بھی پالیتے  ہیں تو تبرک سمجھ کر کھاتے  ہیں ، ابھی قریب میں ہی انجمن خُدَّامُ الصُّوْفِیَہ کے  صدر فضل الٰہی صاحب پگانوالہ رئیس گجرات نے  ولیمہ کی دعوت سنّت نیت سے  کی نہ کسی کو شکایت پیدا ہوئی اور نہ کسی نے  عیب نکالا۔ عرض یہ ہے  کہ حضور نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا نام پاک عیب پوش ہے  جس چیز پر ان کا نام آجائے  اس کے  سب عیب چھپ جاتے  ہیں اگر ہم لوگ ولیمہ کا کھانا سنّت کی نیّت سے  کریں تواگر دال روٹی بھی مسلمانوں کے  سامنے  رکھ دیں گے  وہ بھی مسلمان برکت کی نیت سے  سیر ہوکر کھائیں گے ۔

            تیسری خرابی ان رسموں میں یہ ہے  کہ ان کی وجہ سے  شریف غریبوں کی لڑکیاں بیٹھی رہتی ہیں اور مالداروں کی لڑکیاں ٹھکانے  لگ جاتی ہیں کیونکہ لوگ اپنے  بیٹوں کا پیغام وہاں ہی لے  جاتے  ہیں جہاں زیادہ جہیز ملے  اگر ہر جگہ کیلئے  جہیز مقرر ہوجائے  کہ امیر و غریب سب اتنا ہی جہیز وغیرہ دیں تو ہر مسلمان کی لڑکی جلد ٹھکا نے  لگ جائے ۔

            چوتھی خرابی یہ ہے  کہ ان رسموں کی وجہ سے  مسلمانوں کو اپنی اولاد وبالِ جان معلوم ہونے  لگی کہ اگر کسی کے  لڑکی پیدا ہوئی سمجھا کہ یا تو اب میرے  مکان کی خیر نہیں یا جائیداد و دکان چلی، اسی لئے  لو گ لڑکی پیدا ہونے  پر گھبراتے  ہیں یہ ان رسموں کی ’’برکت ‘‘ہے ۔

            پانچویں خرابی یہ ہے  کہ نکاح سے  مقصود ہوتا ہے  دوقوموں کا مل جانا یعنی لڑکے  والے  لڑکی والے  کے  قرابت دار اور محب بن جاویں اور لڑکی والے  لڑکے  والے  کے ، اسی لئے  اس کا نام نکاح ہے ، نکاح کے  معنیٰ ہیں مل جانا تو یہ نکاح قبیلوں اور جماعتوں کو ملانے  والی چیز ہے ۔ مثل مشہو ر ہے  کہ نکاح میں لڑکی دے  کر لڑکا لیتے  ہیں اور لڑکا دے  کر لڑکی حاصل کرتے  ہیں مگر اب مسلمانوں نے  سمجھ لیا کہ نکاح مال حاصل کرنے  کا ذریعہ ہے  جس کے  چار فرزند ہوگئے  وہ سمجھا کہ میر ی چار جائیدادیں ہوگئیں کہ ان کو بیاہوں گا، جہیز وں سے  گھر بھرلوں گا۔ اب جب دولہن خاطر خواہ جہیز نہ لائی لڑائی قائم ہوگئی اوراب عام طور پر نکاح لڑائی کی جڑ بن کر رہ گیا ہے  کہ اپنے  عزیزوں میں لڑکی دو تو آپس کا پرانا رشتہ بھی ختم ہوجاتا ہے  کیوں ؟اس لئے  کہ نکاح کو ایک مالی کاروبار سمجھ لیا گیا ہے ۔

            چھٹی خرابی یہ ہے  کہ اگر کسی شخص کے  چند اولاد ہیں پہلے  کا نکاح تو بہت دھوم دھام سے  کیا، اس ایک نکاح میں اس کا مصالحہ ختم ہوگیا، باقی اولاد کے  فقط نکاح ہی ہوئے  کوئی رسم اد ا نہ ہوئی کیونکہ روپیہ نہ تھا تو اب اس اولاد کو ماں باپ سے  شکایت پیدا ہوتی ہے  کہ بڑے  بھائی میں کیا خوبی تھی جو ہم میں نہ تھی تو باپ اور اولاد میں ایسی بگڑتی ہے  کہ خدا کی پناہ!

            ساتویں خرابی یہ ہے  کہ لڑکی والوں نے  دولہا کے  نکا ح کے  وقت اتنا خرچ کرایا کہ اس کا مکان بھی رہن ہوگیا، بہت قرضہ سر پر سوار ہوگیا، اب دولہن صا     حبہ جب گھر میں آئیں تو مکان بھی ہاتھ سے  گیا اور مصیبت بھی آپڑی، تو نام یہ ہوتا ہے  یہ دولہن ایسی منحوس آئی کہ اس کے  آتے  ہی ہمارے  گھر کی خیر و برکت اڑگئی اس سے  پھر لڑائیاں  شروع ہوجاتی ہیں یہ خبر نہیں کہ بے  چاری دلہن کا قصور نہیں بلکہ تمہاری ان ہندوانی رسموں کی’’ برکت ‘‘ہے ۔

            آٹھویں خرابی یہ ہے  کہ ان رسموں کو پورا کرنے  کیلئے  غریب لوگ لڑکی کے  پیدا ہوتے  ہی فکر کرنے  لگتے  ہیں جو ں جوں اولاد جوان ہوتی ہے  ان کی فکریں بڑھتی جاتی ہیں ، اب نہ روٹی اچھی معلوم ہوتی ہے  نہ پانی، فکر یہ ہوتی ہے  کہ کسی صورت سے  روپیہ جمع کرو کہ یہ رسمیں پوری ہوں اب روپیہ جمع کر رہے ۔ ا س روپیہ میں زکوٰۃ بھی واجب ہے  اور حج بھی فرض ہوجاتاہے  وہ نہیں ادا کرتے  کیونکہ اگر ان عبادات میں یہ روپیہ خرچ ہوگیا تو وہ شیطانی رسمیں کس طرح پوری ہوں گی۔ میں نے  ایک صاحب کو دیکھاکہ ان کے  پاس تقریباً دو ہزار روپیہ تھا، میں نے  کہا:’’ آپ پر حج فرض ہے ، حج کو جاؤ۔‘‘ فرمانے  لگے  کہ’’ بڑا حج تو لڑکی کی شادی اور اس کا

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن