30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
دیندار آدمی خدا کے خوف سے بیوی بچوں کا حق پہچانتا ہے ۔ دوسرے یہ کہ دیندار آدمی کی نگاہ صرف اپنی بیوی پر ہی ہوتی ہے اور آزادلوگوں کی ٹمپر یری بیویاں بہت سی ہوتی ہیں جن کا دن رات تجربہ ہورہا ہے ۔ وہ ہرپھول کو سونگھتا اورہر باغ میں جاتا ہے ۔ کچھ دنوں تو اپنی بیوی سے محبت کرتا ہے پھر آنکھ پھیر لیتا ہے ۔ منگنی کی رسموں کی خرابیاں بیان سے باہر ہیں ۔ بہت سے لوگ سودی قرض سے یا مانگ کر زیور چڑھا دیتے ہیں ۔شادی کے بعد پھر دولہن سے وہ زیور حیلے بہانے سے لے کر واپس کرتے ہیں ۔ جس کی وجہ سے آپس میں خوب لڑائیاں ہوتی ہیں اور شروع کی وہ لڑائی ایسی ہوتی ہے کہ پھر ختم نہیں ہوتی اور کہیں ایسا بھی ہوتا ہے کہ منگنی چھوٹ جاتی ہے پھر دلہن والوں سے زیور واپس مانگا جاتاہے ادھر سے انکار ہوتا ہے جس پر مقدمہ بازی کی نوبت آتی ہے ۔اسی طرح منگنی کے وقت دعوت اور فضول خرچی کا حال ہے اگر منگنی چھوٹ گئی تو مطالبہ ہوتا ہے کہ ہمارا خرچہ واپس کردو اور دونوں فریق خوب لڑتے ہیں ۔ بعض دفعہ منگنی میں اتنا خرچ ہو جاتا ہے کہ فریقین میں شادی کے خرچ کی ہمّت نہیں رہتی، پھر کبھی کبھی کپڑوں کے جوڑے اور مٹھائیوں کا خرچ لڑکے والوں کا دیوالیہ نکال دیتا ہے اور شادی کے وقتغور ہوتا ہے کہ دلہن والوں نے اس قدر جہیز اور زیور وغیرہ دیا نہیں جو میرا خرچ کرا چکا ہے ، اگر لڑکی والے نے اتنا نہ دیا تو لڑکی کی جان سولی پر رہتی ہے کہ تیرے باپ نے ہمارا لے لے کر کھایا، دیا کیا؟اور اگر خوب دیا تو کہتے ہیں کہ کیا دیا !ہم سے بھی تو خوب خرچ کرالیا۔ باقی گانے بجانے کی رسموں میں وہ خرابیاں ہیں جو ہم پہلے بیان کرچکے ہیں ۔ مائیاں اور اُبٹن کی رسمیں بہت سارے حرام کاموں کا مجموعہ ہیں اس لیے ان تمام کو بند کرنا ضَروری ہے ۔
لڑکی کیلئے لڑکا اور لڑکے کیلئے لڑکی ایسی تلاش کی جائے جو شریف اور دیندار ہو، تاکہ آپس میں محبت رہے ۔ جہاں لڑکے کی مرضی نہ ہو وہاں ہر گز نکاح نہ ہو۔ اسی طرح جہاں لڑکی یا لڑکی کی ماں کی منشاء (یعنی مرضی) نہ ہو وہاں نکاح کرنا زہر ِ قاتل ہے ، ہم نے دیکھا ہے کہ ایسی شادیاں کامیاب نہیں ہوتیں ۔ اسی لیے شرعاً ضروری ہے کہ لڑکی سے اِذن لیتے وقت لڑکے کا نام معہ اس کے والد کے اور مہر کے بتایا جائے کہ ''اے بیٹی! ہم تیرا نکاح فلاں لڑکے فلاں کے بیٹے سے کردیں وہ کہے ہاں تبنکاح ہوتا ہے ۔ یہ اذن لڑکی کی رائے معلوم کرنے کیلئے ہی تو ہے اگر موقع ہوتو لڑکے کو لڑکی پیغا م سے پہلے کسی بہانہ سے خفیہ طور پر دکھادی جائے کہ لڑکی کو یہ خبر نہ ہو(حدیث) ۱؎ بلکہ نکاح سے پیشتر اپنے سارے قرابت داروں کا مشورہ لینا بھی بہتر ہے ۔ قرآنِ کریم فرماتا ہے
وَ اَمْرُهُمْ شُوْرٰى بَیْنَهُمْ۪-[1]
ایسے نکاح کے سارے قرابت دار ذمہ دار ہوجاتے ہیں اور اگر دلہن اور دولہامیں نااتِّفاقی ہوجائے تو یہ لوگ مل کر اتفاق کی کوشش کرتے ہیں ۔ منگنی دراصل نکاح کا وعدہ ہے اگر یہ نہ بھی ہو جب بھی کوئی حرج نہیں ۔ لہٰذا بہتر تو یہ ہے کہ منگنی کی رسم بالکل ختم کردی جائے اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے اور سوائے نقصان کے اس سے کوئی فائدہ نہیں غالباً ہم نے یہ رسمیں ہندوؤں سے سیکھی ہیں کیونکہ سوائے ہندوستان کے او ر کہیں یہ رسم نہیں ہوتی بلکہ عربی یا فارسی زبانوں میں اس کا کوئی نام بھی نہیں ۔ ا س کے جتنے نام ملتے ہیں سب ہندی زبان کے ہیں ۔ چنانچہ منگنی، سگائی، کڑمائی، ساکھ یہ اس کے نام ہیں اور ان میں سے کوئی بھی عربی، فارسی نہیں ۔ اور اگر اس کا کرنا ضروری ہی ہوتو اس طرح کرو کہ پہلے لڑکے والے کے یہاں اس کے قرابت دار جمع ہوں اور وہ ان کی خاطر وتواضع صرف پان اور چائے سے کرے ۔ اگر کہیں پان کا رواج نہ ہو جیسے پنجاب تو وہ صرف خالی چائے سے جس کے ساتھ کوئی مٹھائی نہ ہو، پھر یہ لوگ اُٹھ کر لڑکی والے کے یہاں آجاویں وہ بھی ان کی تواضع صرف پان یا خالی چائے سے کرے ۔ لڑکے والے اپنے ساتھ دولہن کیلئے ایک سوتی دوپٹہ اور ایک سونے کی نتھ (نتھنی) لائیں جو پیش کر دیں ۔دولہن والوں کی طرف سے لڑکے کو ایک سوتی رومال ایک چاندی کی انگوٹھی ایک نگینہ والی پیش کردی جائے جس کا وزن سوا چار ماشہ سے زیادہ نہ ہو کیونکہ مرد کو ریشم اور سونا پہننا حرام ہے ، لو یہ منگنی ہوگئی اگر دوسرے شہر سے منگنی کرنے والے آئے ہیں تو ان میں سات آدمی سے زیادہ نہ آئیں اور دولہن والے مہمانی کے لحاظ سے ان کو کھانا کھلاویں مگر اس کھانے میں دوسرے محلہ والوں کی عام دعوت کی کوئی ضرورت نہیں پھر اس کے بعد لڑکے والے جب بھی آئیں تو ان پر مٹھائی اور کپڑوں کے جوڑوں کی پابندی نہ ہواگر اپنی خوشی سے ایسے ہی بچوں کیلئے تھوڑی سي مٹھائی لائیں تو اس کو محلہ میں تقسیم کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ۔ حدیثِ پا ک میں ہے کہ ایک دوسرے کو ہدیہ دو محبت بڑھے گی۔[2]
مگر اس ہدیہ کو ٹیکس نہ بنالو کہ وہ بے چارہ اس کے بغیرآہی نہ سکے ۔ تاریخ کا مقرر کرنا بھی اسی سادگی سے ہونا ضروری ہے کہ اگراسی شہر سے لوگ آرہے ہیں تو ان کی تواضع صرف پان یا خالی چائے سے ہو اور اگر دوسرے شہر سے آرہے ہیں تو پانچ آدمی سے زیادہ نہ ہوں ۔ جن کی تواضع کھانے سے کی جائے اور مقرر کرنے والے سن رسیدہ بزرگ لوگ ہوں اور بہتر یہ ہے کہ شادی کیلئے جمعہ یا سوموار (پیر) کا دن مقررہو کیوں کہ یہ بہت برکت والے دن ہیں ۔ پھر تاریخ کے بعد گانے باجے ڈھول وغیرہ نہ ہوں بلکہ اگر ہوسکے تو ہر تیسرے دن محفلِ میلاد کردیا کریں ، جس میں نعت خوانی اور درود پاک کی تلاوت ہو ایسے وعظ کئے جائیں جس میں موجودہ رسموں کی برائیاں بیان ہو ں ۔ مائیوں اور اُبٹن کی تمام رسمیں بالکل بند کردی جائیں ۔ یعنی اگر دلہن کو ایک جگہ بٹھا دیا جائے یا کہ دولہا دلہن کے خوشبو یعنی اُبٹن مَلا جائے تو کوئی حرج نہیں کہ یہ اُبٹن ایک طرح کی خوشبو ہے اور خوشبو نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلمَّ کو بہت پسند تھی۔ بلکہ شادی کے وقت خوشبو استعمال کرنا صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان سے ثابت ہے لیکن ان کاموں کے ساتھ حرام رسمیں مثلاًگانا بجانا عورتوں اور مردوں کاخلط ملط ہونا،
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع