دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Islami Zindagi | اسلامی زندگی

book_icon
اسلامی زندگی

احکام یاد کرے ۔ اگر حق تعالیٰ نے  آپکو چارپانچ لڑکے  دیئے  ہیں تو کم ازکم ایک لڑکے  کو عالم یا حافظ ِ قرآن بناؤ کیونکہ ایک حافظ اپنی تین پشتوں کو اور عالِم سات پشتوں کو بخشوائے  گا۔یہ خیال محض غلط ہے  کہ عالِمِ دین کو روٹی نہیں ملتی، یقین کرلو کہ انگریزی پڑھنے  سے  تقدیر سے  زیادہ نہیں ملتا، عربی پڑھنے  سے  آدمی بدنصیب نہیں ہوجاتا، ملے  گا وہ ہی جو رزّاق نے  قسمت میں لکھا ہے  بلکہ تجربہ یہ ہے  کہ اگر عالِم پورا عالِم اور صحیح ُالْعقیدہ ہو تو بڑے  آرام میں رہتا ہے  اور جو لوگ اُردو کی چند کتابیں دیکھ کر وعظ گوئی کو بھیک کا ذریعہ بنالیتے  ہیں کہ وعظ کہہ کر پیسہ پیسہ مانگنا شروع کردیا۔ان کودیکھ کر عالِمِ دین سے  نہ ڈر، یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے  اپنا بچپن آوارگی میں خراب کردیا ہے  اور اب مہذّب بھکاری ہیں ۔ ورنہ علمائے  دین کی اب بھی بہت قدرو عزت ہے ۔ جب گریجویٹ مارے  مارے  پھرتے  ہیں تو مدّرسین علما کی تلاش ہوتی ہے  اور نہیں ملتے ۔ اپنے  لڑکو ں کو شوقین مزاج خرچیلہ نہ بناؤ بلکہ ان کو سادگی اور اپنا کا م اپنے  ہاتھ سے  کرنا سکھاؤ، کرکٹ، ہاکی، فٹ بال ہرگز نہ کھیلاؤکیونکہ یہ کھیل کچھ فائدہ مند نہیں بلکہ ان کوبنوٹ، لکڑی کا ہنر، ڈنڈ، کسرت، کشتی کا فن، اگر ممکن ہو تو تلوار چلانا وغیرہ سکھاؤ جس سے  تندرستی بھی اچھی رہے  اور کچھ ہنر بھی آجائے  اور تاش بازی اور پتنگ بازی، کبوتر بازی، سینمابازی سے  بچوں کو بچاؤ کیونکہ یہ کھیل حرام ہیں بلکہ میری رائے  تو یہ ہے  کہ بچّوں کو علم کے  ساتھ کچھ دوسرے  ہنر بھی سکھاؤ جس سے  بچہ کما کر اپنا پیٹ پال سکے ۔ یہ سمجھ لو کہ ہنر مند کبھی خدا کے  فضل سے  بھوکا نہیں مرتا۔اس مال و دولت کا کوئی اعتبار نہیں ان باتوں کے  ساتھ انگریزی سکھاؤ کالج میں پڑھاؤ۔جج بناؤ، کلکٹربناؤ دنیا کی ہرجائز ترقی کراؤ مگر پہلے  اس کو ایسا مسلمان کردوکہ کوٹھی میں بھی مسلمان ہی رہے ۔ہم نے  دیکھا ہے  کہ قادیانیوں اور رافضیوں کے  بچے  گریجویٹ ہوکر کسی عہدے  پر پہنچ جائیں مگر اپنے  مذہب سے  پورے  واقف ہوتے  ہیں مسلمانوں کے  بچے  ایسے  اُلّو ہوتے  ہیں کہ مذہب کی ایک بات بھی نہیں جانتے ۔ خراب صحبت پاکر بے  دین بن جاتے  ہیں ۔ جس قدر لوگ قادیانی، نیچری وغیرہ بن گئے  یہ سب پہلے  مسلمان تھے  اور مسلمانوں کے  بچّے  تھے  مگر اپنی مذہبی تعلیم نہ ہونے  کی وجہ سے  بدمذہبوں کا شکار ہوگئے  یقین کرو کہ اسکا وبال ان کے  ماں باپ پر بھی ضرور پڑے  گا۔

            صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کی پرورش بارگاہِ نبوّت میں ایسی کامل ہوئی کہ جب وہ میدان جنگ میں آتے  تو اعلیٰ درجہ کے  غازی ہوتے  تھے  اور مسجد میں آکر اعلیٰ درجہ کے  نمازی، گھربا ر میں پہنچ کر اعلیٰ درجہ کے  کارو باری، کچہری میں آکراعلیٰ درجہ کے  قاضی ہوتے  تھے ، اپنے  بچوں کو اس تعلیم کا نمونہ بناؤ اگر دین و دنیا میں بھلائی چاہتے  ہو تو یہ کتابیں خود بھی مطالعہ میں رکھواور اپنی بیوی بچوں کو بھی پڑھاؤ: بہارِ شریعت مصنّفہ حضرت مولانا امجد علی صاحب رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ، کتابُ الْعَقَائِد مصنّفہ حضرت مرشدی واستادی مولانا مولوی محمد نعیم الدین صاحب دَامَ ظِلُّہُمْ، شانِ حبیب الرحمن، سلطنت ِمصطفی مصنّفہ فقیر حقیر پر از تقصیر احمد یار خاں نعیمی۔

            لڑکیوں کوکھاناپکانا، سینا، پرونا، اورگھر کے  کام کاج، پاکدامنی اور شرم و حیاء سکھاؤ کہ یہ لڑکیوں کاہنر ہے  ان کو کالجیٹ اور گریجویٹ نہ بناؤ کہ لڑکیوں کے  لئے  اس زمانہ میں کالج اور بازار میں کچھ فرق نہیں بلکہ بازاری عورت کے  پاس لوگ جاتے  ہیں اور کالج کی لڑکی لوگوں کے  پاس جاتی ہے ، جس کا دن رات مشاہدہ ہورہا ہے ۔

توبہ کی فضیلت

حدیث پاک میں ہے : اَلتَّائِبُ مِنَ الذَّ نْبِ کَمَنْ لَا ذَنْبَ لَہٗ یعنی

’’گناہ سے  توبہ کرنے  والا ایسا ہے  جیسا کہ اس نے  گناہ کیا ہی نہیں ۔‘‘

(سنن ابن ماجہ، کتاب الزہد، باب ذکر التوبۃ، الحدیث۴۲۵۰، ج۴، ص۴۹۱)

چوتھا باب:

بیاہ شادی کی رسمیں

ع    اب جگر تھام کر بیٹھو مری باری آئی

نکاح اسلام میں عبادت ہے ۔کبھی تو فرض ہے  اور اکثرسنّت۔(شامی) ([1])؎

    مگر ہندوستان میں موجودہ زمانہ میں نکاح ان ہندوانی اور حرام رسموں اور فضول خرچیوں کی وجہ سے  وبال ِ جان بن گیا ہے ۔اس کا نام شادی خانہ آبادی ہے ، اب ان رسموں نے  اسے  بنادیا شادی خانہ بربادی بلکہ خانہا بربادی۔ کیونکہ اس میں لڑکے  اور لڑکی دونوں کے  گھروں کی تباہی آتی ہے ۔نکاح کے  متعلق تین قسم کیرسمیں ہیں ۔بعض وہ جو نکاح سے  پہلے  کی جاتی ہیں ۔بعض نکاح کے  وقت اور بعض نکاح کے  بعد پہلے  تو لڑکی کی تلاش (منگنی)، تاریخ مقرر ہونا، پھر نکاح کے  بعد چوتھی ([2])؎، چالا([3]) (یعنی نئی دلہن کا شادی کے  بعد چار بارمیکے  جانا )، کنگنا ([4])؎ کھولنے  کی رسمیں ، لہٰذا ہم اس باب کی چند فصلیں کرتے  ہیں ۔

 

 

 



[1]    الدر المختار ورد المحتار ، کتاب النکاح ، مطلب کثیرا...الخ ، ج۵، ص۳۵۷

[2]    شادی کے  چوتھے  دن کی جانے  والی ایک رسم جس میں دلہن کے  گھر جاکر پھولوں کی چھڑیاں ، سبزیاں اور میوے  ایک دوسرے  پر پھینکے  جاتے  ہیں ۔(فیروز اللغات ، ص۵۶۹)

[3]    یعنی نئی دلہن کا شادی کے  بعد سسرال سے  چار بار میکے  جانا ۔(فیروز اللغات ، ص۵۳۸)

[4]    ایک رسم جس میں دلہن دولہے  کے  ہاتھ پر بندھے  ہوئے  دھاگوں کی گانٹھیں کھولتی ہے  ۔

(اردولغت ، ترقیٔ اردو بورڈ ، ج۱۵، ص۲۶۵واسلامی زندگی ، ص۶۴)

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن