30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
قَدْ اَفْلَحَ مَنْ تَزَكّٰىۙ(۱۴) وَ ذَكَرَ اسْمَ رَبِّهٖ فَصَلّٰىؕ(۱۵) (پ۳۰، الاعلٰی: ۱۴، ۱۵) ترجمۂ کنز الایمان: بے شک مراد کو پہنچا جوستھرا ہوا اور اپنے رب کا نام لے کرنماز پڑھی۔ کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: یہ آیت صدقۂ فطر کے بارے میں نازل ہوئی)[1](
سوال …: صدقہ فطر کیوں دیا جاتا ہے؟
جواب …: حضرت سیدنا ابن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مروی ہے کہ شہنشاہِ مدینہ، قرارِ قلب و سینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے روزوں کو لغو اور بے حیائی کی بات سے پاک کرنے کے لیے اور مسکینوں کو کھلانے کے لیے صدقہ فطر مقرر فرمایا۔)[2](حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی اس حدیثِ پاک کے تحت فرماتے ہیں : فطرہ واجب کرنے میں 2حکمتیں ہیں ۔ ایک تو روزہ دار کے روزوں کی کوتاہیوں کی معافی۔ اکثر روزے میں غصہ بڑھ جاتا ہے تو بلاوجہ لڑ پڑتا ہے، کبھی جھوٹ غیبت وغیرہ بھی ہو جاتے ہیں ، رب تَعَالٰی اس فطرے کی برکت سے وہ کوتاہیاں معاف کر دے گا کہ نیکیوں سے گناہ معاف ہوتے ہیں ۔ دوسرے مساکین کی روزی کا انتظام۔)[3](
سوال …: کیا صدقۂ فطر کے لئے رمضان کے روزے رکھنا شرط ہے؟
جواب …: جی نہیں ! صدقۂ فطر واجب ہونے کے لئے رمضان کے روزے رکھنا شرط نہیں ، لہٰذا بلاعذر یا کسی عذر مثلاً سفر، مرض یا بڑھاپے کی وجہ سے روزے نہ رکھنے والا بھی فطرہ ادا کرے گا۔)[4](
٭…٭…٭
سوال …: حج کسے کہتے ہیں ؟
جواب …: حج نام ہے احرام باندھ کر 9 ذو الحجہ کو میدانِ عرفات)[5]( میں ٹھہرنے اورکعبہ معظمہ کے طواف کا۔ اس کے لیے ایک خاص وقت مقرر ہے کہ اس میں یہ افعال کیے جائیں تو حج ہے۔)[6](
سوال …: حج کی شرعی حیثیت کیا ہے؟
جواب …: حج کرنا فرض ہے۔
سوال …: کیا حج کرنا ہر ایک پر فرض ہے؟
جواب …: جی نہیں ! ہر ایک پر فرض نہیں بلکہ صرف ان لوگوں پر فرض ہے جو اس کی استطاعت رکھتے ہیں ۔ جیسا کہ فرمانِ باری تَعَالٰی ہے:
وَ لِلّٰهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَیْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ اِلَیْهِ سَبِیْلًاؕ- (پ ۴، ال عمران: ۹۷)
ترجمۂ کنز الایمان: اور اللہ کے لئے لوگوں پر اس گھر کا حج کرنا ہے جو اس تک چل سکے۔
سوال …: اگر کوئی شخص صاحبِ استطاعت ہو تو کیا اس پر ہر سال حج کرنا فرض ہوگا؟
جواب …: جی نہیں ! حج صرف زندگی میں ایک بار فرض ہے، جب ایک بار حج کر لیا تو اب ہر سال استطاعت کے باوجود فرض نہیں ۔
سوال …: جو شخص استطاعت رکھتے ہوئے حج نہ کرے اس کے متعلق کیا حکم ہے؟
جواب …: جو شخص استطاعت کے باوجود حج نہ کرے اس کے متعلق سرکارِ نامدار، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: جسے حج کرنے سے نہ حاجتِ ظاہرہ مانع ہوئی، نہ ظالم بادشاہ ، نہ کوئی ایسا مرض جو روک دے پھر بغیر حج کیے مر گیا تو چاہے یہودی ہو کر مرے یا نصرانی ہو کر۔ )[7](
[1] صحیح ابن خزیمہ، ۴ / ۹۰، حدیث: ۳۹۷
[2] ابو داود، کتاب الزکوۃ، باب زکوٰۃ الفطر، ۲ / ۱۵۷، حدیث: ۱۶۰۹
[3] مراٰۃ المناجیح، ۳ / ۴۳
[4] در محتار، کتاب الزکوٰۃ، باب صدقۃ الفطر، ۳ / ۳۶۷
[5] منیٰ سے تقریباً 11 کلو میٹر دور ایک میدان ہے جہاں 9ذوالحجہ کو تمام حاجی صاحبان جمع ہوتے ہیں۔ (بہارِ شریعت، اصطلاحات، ۱ / ۶۸)
[6] بہارِ شریعت، حج کا بیان، ۱ / ۱۰۳۵
[7] دارمی، کتاب المناسک، باب من مات ولم یحجّ، ۲ / ۴۵، حدیث: ۱۷۸۵
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع