30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
گیارھواں سال شروع ہو تو ولی پر واجب ہے کہ صوم و صلوٰۃ پر مارے بشرطیکہ روزے کی طاقت ہو اور روزہ ضرر (یعنی نقصان) نہ کرے۔ )[1](
سوال …: کیا کبھی کسی نے دودھ پینے کی عمر میں روزہ رکھا ہے؟
جواب …: جی ہاں ہمارے گیارھویں والے پیر حضور غوثِ اعظم دستگیر شیخ عبد القادر جیلانی قُدِّسَ سِرُّہُ النّوْرَانِی دودھ پینے کی عمر میں ماہِ رمضان میں دن کے وقت اپنی والدہ ماجدہ کا دودھ نہیں پیتے تھے گویا کہ روزے سے ہوں ۔
سوال …: کیا روزہ رکھنے سے انسان بیمار ہو جاتا ہے؟
جواب …: جی نہیں ! روزہ رکھنے سے انسان بیمار نہیں ہوتا بلکہ تندرست ہو جاتا ہے جیسا کہ فرمانِ مُصطَفٰے صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہے: صُوْمُوْا تَصِحُّوا یعنی روزہ رکھو صِحَّت یاب ہو جاؤ گے۔)[2](
نیّت دل کے ا رادہ کا نام ہے، زبان سے کہنا شرط نہیں مگر زبان سے کہہ لینا مستحب ہے۔ چنانچہ،
اگر رات میں (یعنی صبحِ صادق سے پہلے) روزے کی نیّت کرے تو یوں کہے:
نَوَیْتُ اَنْ اَصُوْمَ غَدًا لِلّٰہِ تَعَالٰی مِنْ فَرْضِ رَمَضَانَ ھٰذَا
یعنی میں نے نیّت کی کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لیے اس رمضان کا فرض روزہ کل رکھوں گا۔
اور اگر دن میں (یعنی صبحِ صادق کے بعد) نیّت کرے تو یہ کہے:
نَوَیْتُ اَنْ اَصُوْمَ ھٰذَا الْیَوْمَ لِلّٰہِ تَعَالٰی مِنْ فَرْضِ رَمَضَانَ
میں نے نیّت کی کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لیے آج رمضان کا فرض روزہ رکھوں گا۔)[3](
سوال …: روزہ داروں کے اعتبار سے روزہ کی کتنی قسمیں ہیں ؟
جواب …: روزہ داروں کے اعتبار سے روزہ کی تین قسمیں ہیں :
(1)… عوام کا روزہ: روزہ کے لُغوی معنٰی ہیں : رُکنا۔ شریعت کی اِصطِلاح میں صُبحِ صادِق سے لے کر غُروبِ آفتاب تک قَصداً کھانے پینے وغیرہ سے رُکے رہنے کو روزہ کہتے ہیں اور یہی عوام یعنی عام لوگوں کا روزہ ہے۔
(2)… خواص کا روزہ: کھانے پینے وغیرہ سے رُکے رہنے کے ساتھ ساتھ جِسم کے تمام اَعْضاء کو بُرائیوں سے روکنا خَوَاص یعنی خاص لوگوں کا روزہ ہے۔
(3)… اَخص الخواص کا روزہ: اپنے آپ کو تمام تَراُمُور سے روک کر صِرف اور صِرف اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی طرف مُتَوَجِّہ ہونا، یہ اَخَصُّ الْخوَاص یعنی خاص الخاص لوگوں کا روزہ ہے۔
سوال …: روزے کی حقیقت کیا ہے؟
جواب …: حضرتِ سَیِّدُنا داتا گنج بخش علی ہجویری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : روزے کی حقیقت رُکنا ہے اور رُکے رہنے کی بَہُت سی شَرائِط ہیں : مَثَلاً مِعْدے کو کھانے پینے سے رَوکے رکھنا، آنکھ کو شَہوانی نظر سے روکے رکھنا، کان کو غِیبت سُننے، زَبان کو فُضُول اور فِتنہ انگیز باتیں کرنے اور جسم کو حُکْمِ الٰہی کی مخالَفَت سے روکے رکھنا روزہ ہے۔ جب بندہ اِن تمام شرائِط کی پیروی کرے گاتَب وہ حَقیقتاً روزہ دار ہوگا۔)[4](
سوال …: حضرتِ سَیِّدُنا داتا گنج بخش علی ہجویری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی کے فرمان سے کیا بات معلوم ہوتی ہے؟
جواب …: حضرتِ سَیِّدُنا داتا گنج بخش علی ہجویری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی کے فرمان سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ ہمیں بھوکا پیاسا رہنے کے ساتھ ساتھ جسم کے دیگر اعضاء مثلاً آنکھ، کان، زبان، ہاتھ اور پاؤں کا بھی روزہ رکھنا چاہئے۔
سوال …: آنکھ کے روزے سے کیا مراد ہے؟
جواب …: آنکھ کے روزے سے مراد یہ ہے کہ آنکھ جب بھی اُٹھے تَو صِرف اورصِرف جائِز اُمُور ہی کی طرف اُٹھے۔یعنی اپنی آنکھ کو فلمیں ، ڈرامے دیکھنے، کسی پر برُی نظر ڈالنے سے بچا کر اس سے مسجد و قرآن پاک، والدین و اساتذہ، اپنے پیرومرشد وعلمائے کرام اور مزاراتِ اولیائے کرام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلَام دیکھئے اور زہے نصیب، کرم بالائے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع