30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بلکہ شامل ہو جائیں ۔ اگر قعدہ میں شامل ہوگئے اور امام کھڑا ہوگیا تو التحیات (شروع کر دینے کی صورت میں ) پوری کئے بغیر کھڑے نہ ہوں ۔
سوال …: کیا عشا کے فرض ایک امام کے پیچھے اور تراویح دوسرے امام کے پیچھے پڑھ سکتے ہیں ؟
جواب …: جی ہاں ! نہ صرف یہ کر سکتے ہیں بلکہ ایک امام کے پیچھے فرض، دوسرے کے پیچھے تراویح اور تیسرے کے پیچھے وتر پڑھنے میں بھی کوئی حرج نہیں ۔ امیر المومنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروق اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرض و وتر کی جماعت کرواتے تھے اور حضرت سیِّدُنا ابی بن کعب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ تراویح پڑھاتے۔ )[1](
٭…٭…٭
سوال …: کیا وتر پڑھنا فرض ہے؟
جواب …: جی نہیں وتر پڑھنا فرض نہیں بلکہ واجب ہے۔
سوال …: کیا فرض کی طرح وتر کی بھی قضا ہے؟
جواب …: جی ہاں ! فرض کی طرح وِتر کی بھی قضا کرنا ضروری ہے۔
سوال …: وتر کس وقت پڑھے جاتے ہیں ؟
جواب …: وتر نمازِ عشا کے بعد پڑھے جاتے ہیں ؟
سوال …: اگر کوئی نمازِ عشا سے پہلے وتر پڑھ لے تو کیا ہو جائیں گے؟
جواب …: جی نہیں ! عشا اور وتر کا وقت اگرچہ ایک ہے مگر باہم ان میں ترتیب فرض ہے کہ عشا سے پہلے وتر کی نماز پڑھ لی تو ہوگی ہی نہیں ، البتہ بھول کر اگر وتر پہلے پڑھ ليے یا بعد کو معلوم ہوا کہ عشا کی نماز بے وضو پڑھی تھی اور وتر وضو کے ساتھ تو وتر ہوگئے۔ )[2](
سوال …: وتر کب تک پڑھے جا سکتے ہیں ؟
جواب …: وتر عشا کے فرضوں کے بعد سے صبح صادق تک پڑھے جا سکتے ہیں ۔
سوال …: وتر پڑھنے کا افضل وقت کونسا ہے؟
جواب …: جو سو کر اٹھنے پر قادِر ہو اُس کیلئے افضل ہے کہ پچھلی رات میں اُٹھ کر پہلے تَھَجُّد ادا کرے پھر وتِر۔)[3](
چنانچہ ایک حدیثِ پاک میں ہے: ’’ جسے اندیشہ ہو کہ پچھلی رات ميں نہ اٹھے گا وہ اوّل وقت میں پڑھ لے اور جسے امید ہو کہ پچھلی رات کو اٹھے گا وہ پچھلی رات میں پڑھے کہ آخر شب کی نماز مشہود ہے (یعنی اُس میں ملائکۂ رحمت حاضر ہوتے ہیں ) اور یہ افضل ہے۔ ‘‘ )[4](
سوال …: کیا وتر باجماعت پڑھ سکتے ہیں ؟
جواب …: جی نہیں ! وتر باجماعت ادا کرنا منع ہے۔ البتہ! رمضان شریف میں جماعت کے ساتھ وتر ادا کرنے کی رخصت ہے۔
سوال …: وتر کی کتنی رکعتیں ہیں اور اس کے پڑھنے کا طریقہ کیا ہے؟
جواب …: نمازِ وتر تین رکعت ہے اور اس میں قعدۂ اُولیٰ واجب ہے۔
٭… وتر پڑھنے والا قعدۂ اُولیٰ میں صرف التحیات پڑھ کر کھڑا ہوجائے، نہ درود پڑھے نہ سلام پھیرے جیسے مغرب میں کرتے ہیں اُسی طرح کرے۔
٭… وتر کی تینو ں رکعتوں میں مطلقاً قراءت فرض ہے اور ہر ایک میں بعد فاتحہ سورت ملانا واجب اور بہتر یہ ہے کہ پہلی میں
سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الْاَعْلَی یا اِنَّاۤ اَنۡزَلْنٰہُدوسری میں قُلْ یٰۤاَیُّہَا الْکٰفِرُوۡنَ، تیسری میں قُلْ ہُوَ اللہُ اَحَدٌ پڑھے۔ کبھی کبھی اور سورتیں بھی پڑھ لے۔
٭… تیسری رکعت میں قراءت سے فارغ ہو کر رکوع سے پہلے کانوں کی لو تک ہاتھ اُٹھا کر اَللّٰهُ اَکْبَر کہے جیسے تکبیر تحریمہ میں کرتے ہیں کہ یہ تکبیر کہنا بھی واجب ہے، پھر ہاتھ باندھ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع