30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جواب …: متأخرین (یعنی بعد میں آنے والے) فقہائے کرام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلَام نے ختم تراویح میں تین بار قُلْ هُوَ اللّٰهُ شریف پڑھنا مستحب کہا ہے۔ نیز بہتر یہ ہے کہ ختم کے دن آخری رکعت میں الٓمّٓ سے الْمُفْلِحُوْنَ تک پڑھے۔)[1](
سوال …: ختم قرآن کے بعد کیا مہینے کے باقی دن تراویح چھوڑ دے؟
جواب …: اگر ستائیسویں کو یا اس سے قبل قرآنِ پاک ختم ہوگیا تب بھی آخر رمضان تک تراویح پڑھتے رہیں کہ سنتِ مؤکدہ ہے۔ )[2](
سوال …: تراویح میں قرآنِ مجید جلدی جلدی پڑھنا چاہئے یا آہستہ آہستہ؟
جواب …: تراویح میں قرآنِ مجید جلدی جلدی نہیں پڑھنا چاہیے بلکہ ترتیل کے ساتھ یعنی ٹھہر ٹھہر کر پڑھنا چاہیے۔ چنانچہ بہارِ شریعت میں ہے: فر ضو ں میں ٹھہر ٹھہر کر قِرا ء َت کرے اور تراویح میں متوسِّط (یعنی درمیانہ) انداز پر اور رات کے نوافِل میں جلد پڑھنے کی اجازت ہے، مگر ایسا پڑھے کہ سمجھ میں آسکے یعنی کم سے کم ”مَدّ“ کا جو دَرَجہ قارِیوں نے رکھا ہے اُس کو ادا کرے ورنہ حرام ہے۔ اس لئے کہ تَرتیل سے (یعنی خوب ٹھہر ٹھہر کر) قرآن پڑھنے کا حُکُم ہے ۔)[3](
سوال …: آج کل کے بہت تیز پڑھنے والے حفاظ کے متعلق کیا حکم ہے؟
جواب …: آج کل کے اکثر حفاظ اس طرح پڑھتے ہیں کہ مد کا ادا ہونا تو بڑی بات ہے یَعْلَمُوْنَ تَعْلَمُوْنَ کے سوا کسی لفظ کا پتا نہیں چلتا، حروف بھی صحیح طرح ادا نہیں ہوتے، بلکہ جلدی میں لفظ کے لفظ کھا جاتے ہیں اور اس پر فخر ہوتا ہے کہ فلاں اس قدر جلد پڑھتا ہے، حالانکہ اس طرح قرآنِ مجید پڑھنا حرام و سخت حرام ہے۔
سوال …: اگرجلدی جلدی پڑھنے میں حافِظ صاحِب قرآنِ مجیدمیں سے کچھ الفاظ چبا گئے تو کیا خَتمِ قرآن کی سنّت ادا ہو گی؟
جواب …: اگرجلدی جلدی پڑھنے میں حافِظ صاحِب پورے قرآنِ مجیدمیں سے صِرف ایک حَرف بھی چبا گئے تو خَتمِ قرآن کی سنّت ادا نہ ہو گی۔
سوال …: اگر کسی آیت میں کوئی حَرف چَب گیا یا اپنے مخرج سے نہ نکلا تو اب کیا کرنا چاہئے؟
جواب …: اگر کسی آیت میں کوئی حَرف چَب گیا یا اپنے مخرج سے نہ نکلا تو لوگوں سے شرمائے بِغیرپلٹ پڑیئے اور دُرُست پڑھ کر پھر آگے بڑھئے۔
غلطی ہو جانے یا بھول جانے کی صورتیں
سوال …: اگر کسی وجہ سے تراویح کی نماز فاسد ہو جائے تو کیا کرنا چاہئے؟
جواب …: اگر کسی وجہ سے تراویح کی نماز فاسد ہو جائے تو جتنا قرآنِ پاک ان رکعتوں میں پڑھا تھا دوبارہ پڑھیں تاکہ ختم میں نقصان نہ رہے۔
سوال …: اگر امام غلطی سے کوئی آیت یا سورۃ چھوڑ کر آگے بڑھ گیا تو کیا کرے؟
جواب …: اگر امام غلطی سے کوئی آیت یا سورۃ چھوڑ کر آگے بڑھ گیا تو مستحب یہ ہے کہ (یاد آنے پر پہلے) اسے پڑھ کر پھر آگے بڑھے۔ )[4](
سوال …: تراویح میں دو رکعت کے بعد بیٹھنا بھول گیا تو کیا کرے؟
جواب …: دو رکعت پر بیٹھنا بھول گیا تو اسے درج ذیل باتوں کا خیال رکھنا چاہئے:
٭… جب تک تیسر ی کا سجدہ نہ کیا ہو بیٹھ جائے آخر میں سجدۂ سَہْوْ کر لے۔
٭… اگر تیسری کا سجدہ کر لیا تو چار پوری کر لے مگر یہ دو شمار ہوں گی۔ ہاں اگر پہلی دو کے بعد قعدہ کیا تھا تو چار ہوئیں ۔
٭… تین رکعتیں پڑھ کر سلام پھیرا، اگر دوسری پر بیٹھا نہیں تھا تو نہ ہوئیں ان کے بدلے کی دو رکعتیں دو بارہ پڑھے۔
سوال …: تراویح میں اگر کوئی رکعات کی تعداد بھول جائے تو کیا کرے؟
جواب …: تراویح میں اگر رکعات کی تعداد بھول جائے تو درج ذیل صورتوں پر عمل کرے:
٭… سلام پھیرنے کے بعد کوئی کہتا ہے دو ہوئیں ، کوئی کہتا ہے تین، تو ا مام کو جو یاد ہو اس کا اعتبار ہے، اگر امام خود بھی تذبذب کا شکار ہو تو جس پر اعتماد ہو اس کی بات مان لے۔
٭… اگر لوگوں کو شک ہو کہ بیس ہوئیں یا اٹھارہ؟ تو دو رکعت تنہا تنہا پڑھیں ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع