30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(6)… پہلے منہ پھر ہاتھوں کا مسح کرنا۔ (7)… دونوں کا مسح پے درپے ہونا۔
(8)… پہلے سیدھے پھر الٹے ہاتھ کا مسح کرنا۔ (9)… داڑھی کا خلال کرنا۔
(10)… انگلیوں کا خلال کرنا جبکہ غبار پہنچ گیا ہو۔ اگر غبار نہ پہنچا ہو مثلاً پتھر وغیرہ کسی ایسی چیز پر ہاتھ مارا جس پر غبار نہ ہو تو خلال فرض ہے خلال کیلئے دوبارہ زمین پر ہاتھ مارنا ضروری نہیں ۔ )[1](
٭… تیمم کی نیت کیجئے۔
٭… بسم اللہ پڑھ کر دونوں ہاتھوں کی انگلیاں کشادہ کر کے کسی ایسی پاک چیز پر جو زمین کی جنس (مثلاً پتھر، چونا، اینٹ، دیوار، مٹی وغیرہ) سے ہو مار کر لَوٹ لیجئے (یعنی آگے بڑھائیے پھر پیچھے لائیے)۔
٭… اگر زیادہ گرد لگ جائے تو جھاڑ لیجئے اور اس سے سارے منہ کا اس طرح مسح کیجئے کہ کوئی حصہ رہ نہ جائے اگر بال برابر بھی کوئی جگہ رہ گئی تو تیمم نہ ہوگا۔
٭… پھر دوسری بار اسی طرح ہاتھ زمین پر مار کر دونوں ہاتھوں کا ناخنوں سے لیکر کہنیوں سمیت مسح کیجئے۔
٭… اس کا بہتر طریقہ یہ ہے کہ الٹے ہاتھ کے انگوٹھے کے علاوہ چار انگلیوں کا پیٹ سیدھے ہاتھ کی پشت پر رکھئے اور انگلیوں کے سروں سے کہنیوں تک لے جائیے اور پھر وہاں سے الٹے ہی ہاتھ کی ہتھیلی سے سیدھے ہاتھ کے پیٹ کو مس کرتے ہوئے گٹے تک لائیے اور الٹے انگوٹھے کے پیٹ سے سیدھے انگوٹھے کی پشت کا مسح کیجئے۔ اسی طرح سیدھے ہاتھ سے الٹے ہاتھ کا مسح کیجئے۔
٭… اور اگر ایک دم پوری ہتھیلی اور انگلیوں سے مسح کر لیا تب بھی تیمم ہو گیا چاہے کہنی سے انگلیوں کی طرف لائے یا انگلیوں سے کہنی کی طرف لے گئے مگر سنت کے خلاف ہوا۔ تیمم میں سر اور پاؤں کا مسح نہیں ہے۔)[2](
٭…٭…٭
صدر الافاضل حضرتِ علامہ مولانا سید محمد نعیم الدین مراد آبادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْہَادِی خزائن العرفان میں سورۂ تکویر کے متعلق فرماتے ہیں: سورۂ کوّرت مکّیہ ہے، اس میں ایک رکوع ، 29 آیتیں ، 104 کلمے، 530 حرف ہیں۔ حدیث شریف میں ہے سیّدِ عالَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا کہ جسے پسند ہو کہ روزِ قیامت کو ایسا دیکھے گویا کہ وہ نظر کے سامنے ہے تو چاہئے کہ سورۂ اِذَا الشَّمْسُ کُوِّرَتْ اور سورۂ سورۂ اِذَا السَّمَآءُ انْشَقَّتْ اور اِذَا السَّمَآءُ انْفَطَرَتْ پڑھے۔ (ترمذی)
سوال …: اذان سے کیا مراد ہے؟
جواب …: اذان سے مراد وہ مخصوص اعلان ہے جو پنج وقتہ نماز سے پہلے مخصوص الفاظ میں کیا جاتا ہے تا کہ نمازی مسجد میں آ کر باجماعت اپنے رب کی بارگاہ میں حاضر ہو سکیں ۔
سوال …: اذان دینے کا طریقہ کیا ہے؟
جواب …: اذان دینے کا طریقہ یہ ہے:
٭… اذان کہنے والا باوضو قبلہ کی طرف منہ کرے۔
٭… مسجد کے باہر بلند جگہ پر کھڑا ہو۔
٭… کانوں کے سوراخوں میں شہادت کی انگلیاں ڈالے ۔
٭… اذان کے کلمات بلند آواز سے ٹھہر ٹھہر کر کہے تاکہ دوسروں کو خوب سنائی دے۔
٭… اور حَیَّ عَلَی الصَّلٰوة داہنی طرف منہ کرکے اور حَیَّ عَلَی الْـفَلَاح بائیں طرف منہ کر کے کہے۔
سوال …: اذان کہنے والے کو کیا کہتے ہیں ؟
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع