30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ابوحنیفہؔ کا مخلوق میں کوئی نہیں ۔)[1](
٭…٭…٭
مزارات پر حاضری اور زِیارَتِ قُبُور
سوال …: مزارات پر حاضری یا عام افراد کی قبور کی زِیارت کا کیا حکم ہے؟
جواب …: مزارات پر حاضری یا عام افراد کی قبور کی زِیارت جائز و مستحب بلکہ مسنون (یعنی سنت) ہے، آقائے دو جہان، مکِّی مَدَنی سلطان صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم شہدائے اُحد کی زِیارت کو تشریف لے جاتے )[2](اور ان کیلئے دعا فرماتے اور یہ بھی ارشاد فرمایا کہ تم لوگ قبروں کی زیارت کرو ، وہ دنیا میں بے رَغبتی کاسبب ہیں اور آخِرت یاد دِلاتی ہیں ۔ )[3](سوال …: کیا مزاراتِ اولیائے کرام پر حاضری باعثِ برکت ہے؟
جواب …: جی ہاں ! زیارتِ مزاراتِ اولیائے کرام مُوجبِ ہزاراں ہزار برکت وسعادت ہے۔)[4](
سوال …: زیارتِ قبور کا مستحب طریقہ کیا ہے؟
جواب …: جب بھی کوئی زیارتِ قبور کو جائے تو درج ذیل امور پر عمل کرنا مُستَحَب ہے:
٭… پہلے اپنے مکان پر (غیر مکروہ وقت میں ) دو رَکْعَت نَفْل پڑھے، ہر رَکْعَت میں سورۃ الفاتحہ کے بعد ایک بار آیت الکرسی ، اور تین بار سورۃ الاخلاص پڑھے اور اس نَماز کا ثواب صاحبِ قَبْرکو پہنچائے، اللہ عَزَّ وَجَلَّ اُس فوت شدہ بندے کی قَبْر میں نور پیدا کرے گا اور اِس (ثواب پہنچانے والے) شخص کو بَہُت زیادہ ثواب عطا فرمائے گا۔)[5](
٭… قبرستان کو جائے تو راستے میں فضول باتوں میں مشغول نہ ہو۔
٭… جب قبرستان پہنچے تو پائنتی (پا۔ اِن۔ تی یعنی قدموں ) کی طرف سے جا کر اس طرح کھڑا ہو کہ قبلہ کو پیٹھ ہو اور میِّت کے چہرے کی طرف منہ۔ میِّت کے سرہانے سے نہ آئے کہ میِّت کیلئے باعثِ تکلیف ہے یعنی میِّت کو گردن پھیر کر دیکھنا پڑتا ہے کہ کون آیا ہے؟)[6](
٭… اس کے بعد یہ کہے:
اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ یَاۤ اَھْلَ الْقُبُوْرِ یَغْفِرُاللّٰهُ لَنَا وَلَکُمْ اَنْتُمْ سَلَفُنَا وَ نَحْنُ بِالْاَثْرِ)[7](
ترجمہ: سلامتی ہو تم پر اے اہلِ قبرستان! اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہماری اور تمہاری مغفرت فرمائے، تم ہم سے پہلے گئے اور ہم تمہارے بعد آنے والے ہیں ۔
٭… یا یوں کہے:
اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ دَارَ قَوْمٍ مُّؤْمِنِیْنَ اَنْتُمْ لَنَا سَلَفٌ وَّاِنَّـاۤ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ بِکُمْ لَاحِقُوْنَ)[8](
ترجمہ: اے مسلمان قوم کے گھر والو تمہیں سلام ! تم ہم سے پہلے گئے اور ہم تمہارے بعد تم سے ملنے والے ہیں ۔ اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ
٭… اور سورۂ فاتحہ و آیۃُ الکرسی اور سورۂ زِلزَال و تَکاثر پڑھے۔ سورۂ ملک اور دوسری سورتیں بھی پڑھ سکتا ہے اور اس کا ثواب مُردوں کو پہنچائے۔
٭… اگر بیٹھنا چاہے تو اتنے فاصلے پر بیٹھے جتنا زندگی میں دُور یا نزدیک بیٹھتے تھے۔)[9](
[1] قصیدۂ نعمانیہ مع الخیرات الحسان ، ص۲۰۰
[2] ردالمحتار ، كتاب الصلاة، باب صلاۃ الجنازۃ، مطلب في زيارة القبور، ۳ / ۱۷۷ المصنف لعبد الرزاق، کتاب الجنائز، باب في زيارة القبور ، ۳ / ۳۸۱، حديث: ۶۷۴۵
[3] ابن ماجه، كتاب الجنائز، باب ماجاء في زيارة القبور، ۲ / ۲۵۲، حديث: ۱۵۷۱
[4] فتاویٰ رضویہ، ۲۹ / ۲۸۲
[5] عالمگیری، کتاب الکراھیۃ، الباب السادس عشر فی زیارۃ القبور الخ، ۵ / ۳۵۰
[6] ردالمحتار، كتاب الصلاة ، باب صلاۃ الجنازۃ، مطلب في زيارة القبور، ۳ / ۱۷۹
[7] ترمذی، كتاب الجنائز، باب ما يقول الرججواب الخ، ۲ / ۳۲۹، حديث: ۱۰۵۵
[8] بہارِ شریعت، کتاب الجنائز، زیارتِ قبور، ۱ / ۸۴۹ مختصراً
[9] ردّ المحتار، كتاب الصلاة، باب صلاۃ الجنازۃ، مطلب في زيارة القبور، ۳ / ۱۷۹
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع