دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Islam Ki Bunyadi Batain Part 03 | اسلام کی بنیادی باتیں ۔ حصہ ۳

book_icon
اسلام کی بنیادی باتیں ۔ حصہ ۳

ہیں وہاں حاضر ہیں کہ اس جگہ ہماری پہنچ ہے۔ جبکہ حاضر و ناظر کے شرعی معنی یہ ہیں کہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کا بندہ بعطائے الٰہی ایک ہی جگہ رہ کر تمام جہان کو اپنی ہتھیلی کی طرح دیکھے اور دور و قریب کی آوازیں سنے یا ایک آن میں تمام عالَم کی سیر کرے اور صدہا کوس پر حاجت مندوں کی حاجت روائی کرے۔ یہ رفتار خواہ صرف روحانی ہو یا جسم مثالی کے ساتھ، قبر میں مدفون جسم سے ہو یا کسی دوسری جگہ موجود جسم سے۔)[1](

سوال …:                     اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کو حاضر وناظر کہنا کیسا ؟

جواب …:                       اللہ عَزَّ وَجَلَّ کو حاضر و ناظر نہیں کہنا چاہیے کیونکہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  جگہ اور مکان سے پاک ہے۔ حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں :  ہرجگہ میں حاضر و ناظر ہونا خدا کی صفت ہر گز نہیں خدائے تَعَالٰی جگہ اور مکان سے پاک ہے۔)[2](

سوال …:                     کیا سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم حاضرو ناظر ہیں ؟

جواب …:   جی ہاں !  اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کی عطا سے سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم حاضر وناظر ہیں یعنی آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اپنی قبر انور میں رہتے ہوئے نورِ نبوت سے اپنے ہر امتی کے ہر ہر عمل کا مشاہدہ فرما رہے ہیں ، تمام عالَم کو اپنے ہاتھ کی ہتھیلی کی طرح دیکھتے، دور ونزدیک کی آوازیں سنتے، جہاں چاہیں ، جتنے مقامات پر چاہیں اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کی عطاکردہ طاقت سے جلوہ گرہو سکتے ہیں ۔

سوال …:                       کیا سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اپنے جسمِ بشری کے ساتھ ہر جگہ موجود ہیں ؟

جواب …:                         جی نہیں !  سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اپنے جسمِ بشری کے ساتھ ہرجگہ موجود نہیں بلکہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اپنی نورانیت، روحانیت اور علمیت کے اعتبار سے ہر جگہ اسی طرح موجود ہیں جس طرح سورج آسمان پر ہوتا ہے لیکن اپنی روشنی اور نورانیت کے ساتھ رُوئے زمین پر موجود ہوتا ہے۔ البتہ!  اگر چاہیں تو جسمِ بشری کے ساتھ جہاں چاہیں حاضر ہو سکتے ہیں ۔

سوال …:                       کیا حاضر وناظر کا عقیدہ قرآنِ پاک سے ثابت ہے ؟

جواب …:                         جی ہاں !  حاضر وناظر کا عقیدہ قرآنِ کریم کی متعدد آیاتِ مبارکہ سے ثابت ہے ۔ چنانچہ،

1 …:     پارہ  22، سورۂ احزاب کی آیت نمبر 45 میں ارشاد ہوتا ہے:  اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ شَاهِدًا   ۔ ترجمۂ کنز الایمان:   بے شک ہم نے تمہیں بھیجا حاضر و ناظر۔ اس آیت کے تحت تفسیر روح المعانی میں ہے:  یعنی ہم نے آپ کو ان سب پرگواہ بناکر بھیجا جن کی طرف آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم رسول بنا کر بھیجے گئے۔ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ان کے احوال کو دیکھتے اور ان کے اعمال کا مشاہدہ فرماتے ہیں ۔ جو کچھ بھی تصدیق وتکذیب ان سے صادر ہو رہی ہے اس پر گواہ بن رہے ہیں ، ہدایت وگمراہی میں سے جس پر بھی لوگ ہیں اس پر بھی آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم گواہ ہیں اور یہ گواہی آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم قیامت کے دن ادا فرمائیں گے جو اُمت کے حق میں بھی قبول ہوگی اور مخالفت میں بھی۔)[3](  اور یہ سب اسی وقت ہوسکتا ہے جب آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اعمالِ امت پر حاضر وناظر ہوں ۔

2 …:     پارہ  2، سورۂ بقرہ کی آیت نمبر 143میں ارشاد ہوتا ہے:  وَ كَذٰلِكَ جَعَلْنٰكُمْ اُمَّةً وَّسَطًا لِّتَكُوْنُوْا شُهَدَآءَ عَلَى النَّاسِ وَ یَكُوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَیْكُمْ شَهِیْدًاؕ- ترجمۂ کنز الایمان:   اور بات یوں ہی ہے کہ ہم نے تمہیں کیا سب امتوں میں افضل تم لوگوں پر گواہ ہو اور یہ رسول تمہارے نگہبان و گواہ۔  اس آیت کے تحت تفسیر روح البیان میں ہے:  رسولِ اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا امت کے بارے میں گواہی دینے کا مطلب یہ ہے کہ آپ نورِ حق کی وجہ سے دین پر چلنے والے ہر دین دار کے رتبے کو جانتے ہیں اور اس کے دین کی حقیقت کو بھی، نیز اس رکاوٹ سے بھی واقف ہیں جس نے اُمّتی کو دین میں کمال حاصل کرنے سے روک رکھا ہے۔ پس آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اپنی امت کے گناہوں کو پہچانتے ہیں ، ان کے ایمان کی حقیقت کو، اُمت کے اعمال، ان کی نیکیوں ، برائیوں ، اِخلاص اور نفاق سب کو نورِ حق کی وجہ سے جانتے اور پہچانتے ہیں ۔)[4](اور یہ سب اسی صورت میں ممکن ہے کہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اعمالِ امت پر حاضر وناظر ہوں ۔

سوال …:                     کیا حاضر و ناظر کا عقیدہ احادیث ِ کریمہ سے بھی ثابت ہے ؟

جواب …:                       جی ہاں !  حاضر و ناظر کا عقیدہ احادیث ِ کریمہ سے بھی ثابت ہے ۔چنانچہ،

1…:     حضرت سیِّدُنا ثوبان رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:  اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  نے میرے لیے زمین سمیٹ دی تو میں نے



[1]    جاء الحق،   ص ۱۴۵

[2]    جاء الحق،   ص ۱۴۳

[3]    تفسیر روح المعانی،   پ ۲۲،   الاحزاب،   تحت الآیۃ: ۴۵،   الجزء الثانی والعشرون،   ص ۳۰۴

[4]    تفسیر روح البیان،   پ۲،   البقرۃ،   تحت الآیۃ: ۱۴۳،   ۱ / ۲۴۸

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن