30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
٭…٭…٭
سوال …: تاجدارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی تعظیم و توقیر کی شرعی حیثیت کیا ہے؟
جواب …: تاجدارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی تعظیم و توقیر ہر مسلمان پر فرض اعظم بلکہ جانِ ایمان ہے)[1](چنانچہ فرمانِ باری تَعَالٰی ہے:
وَ تُعَزِّرُوْهُ وَ تُوَقِّرُوْهُؕ (پ۲۶، الفتح: ۹)
ترجمۂ کنز الایمان: اور رسول کی تعظیم و توقیرکرو۔
سوال …: سلطانِ بَحرو بر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی تعظیم و توقیر ہم سے کیا تقاضا کرتی ہے؟
جواب …: سلطانِ بَحرو بر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی تعظیم و توقیر ہم سے تقاضا کرتی ہے کہ ہر وہ شے جسے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے نسبت و تعلق ہو لائق تعظیم اور واجب الاحترام ہے۔)[2](
٭…٭…٭
سوال …: کیا ہم پر سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اطاعت کرنا فرض ہے؟
جواب …: جی ہاں ! ہم پر سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اطاعت کرنا فرض ہے کیونکہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے نائب مطلق (یعنی خلیفہ) ہیں ، آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمان اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا فرمان ہے اور آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اطاعت اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی اطاعت۔جیسا کہ فرمانِ باری تَعَالٰی ہے:
مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰهَۚ- (پ۵، النسآء: ۸۰)
ترجمۂ کنز الایمان: جس نے رسول کا حکم مانا بے شک اُس نے اللہ کا حکم مانا ۔
٭…٭…٭
سوال …: کیا اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے کسی کو تمام جہانوں میں تصرف کا اختیار دیا ہے؟
جواب …: جی ہاں ! اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو تمام جہانوں میں تصرف کا اختیار دیا ہے۔
سوال …: سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تمام جہانوں میں کس قسم کا تصرف فرماتے ہیں ؟
جواب …: اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو آسمان وزمین کے تمام خزانوں کی کنجیاں عطا فرما رکھی ہیں ، اب حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی تمام نعمتوں اور عطاؤں کو پوری کائنات میں تقسیم فرماتے ہیں ۔ )[3](
سُبْحَانَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ! ؎
رب ہے معطی یہ ہیں قاسم
رزق اس کا ہے کھلاتے یہ ہیں
٭…٭…٭
سوال …: حاضر وناظر کا مطلب کیا ہے؟
جواب …: حاضر کے لغوی معنی ہیں ”موجود، جو سامنے ہو“ اور ناظر کے معنی ہیں ”دیکھنے والا“۔ چنانچہ جہاں تک ہماری نظر کام کرے وہاں تک ہم ناظر ہیں اور جو جگہ ہماری پہنچ میں ہو وہاں تک ہم حاضر ہیں ۔ مثلاً آسمان تک نظر کام کرتی ہے وہاں تک ہم ناظر ہیں مگر حاضر نہیں کیونکہ وہاں تک ہماری پہنچ نہیں اور جس کمرے یا گھر میں ہم موجود
[1] بہارِ شریعت، عقائد متعلقہ نبوت، ۱ / ۷۴ ماخوذاً
[2] مواھب لدنیۃ، المقصد السابع فی وجوب صحبتہ صلی اللہ علیہ وسلم ، الفصل الثالث، حب الصحابۃ وعلاماتہ ، ۳ / ۳۹۳
[3] مسلم ، کتاب الفضائل ، باب اثبات حوض نبینا صلی اللہ علیہ وسلم وصفاتہ ، ص۱۲۵۸، حدیث: ۳۰- (۲۲۹۶)مواھب لدنیۃ، الفصل الثانی، اعطی مفاتیح الخزائن ، ۲ / ۶۳۹
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع