30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
٭… کسی مضمون میں آپ کی معلومات زیادہ ہونے کی صورت میں ہو سکتا ہے کم معلومات والاآپ کو حقیر لگے۔ اس طرح کا وسوسہ آنے کی صورت میں آپ خود کو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بے نیازی سے ڈراتے ہیں یا نہیں ؟
٭… خدانخواستہ تُو تکار کی عادت تو نہیں ؟ خواہ ایک دن کا بچہ بھی ہو اس سے آپ کہہ کر مخاطب ہوں پیچھے سے بھی جمع کا صیغہ استعمال کریں ۔ مثلاً زید آیا، زید کہتا تھا کی جگہ زید آئے، زید کہتے تھے وغیرہ۔
٭… کیا آج آپ نے حتی الامکان قَہقَہہ لگانے (یعنی کھل کھلا کر ہنسنے) سے بچنے کی کوشش کی؟ (ضرورتاً مسکرانا سنَّت ہے)
٭… کسی پر غصہ آجانے کی صورت میں چپ رہ کر غصہ کا علاج کرتے ہیں یا بول پڑتے ہیں ؟ (اَعُوْذُ بِاللّٰہ وغیرہ پڑھ سکتے ہیں ) نیز در گزر سے کام لیتے ہیں یا انتقام (یعنی بدلہ لینے) کا موقع ڈھونڈتے ہیں ؟
٭… کسی نے اگر آپ کی شکایت (استاد یا والدین وغیرہ سے) کر دی تو آپ بھی بدلہ لینے کیلئے موقع کا انتظار کرتے ہیں یا دُرُست شکایت پر شکریہ ادا کرتے اور غلط شکایت پر معاف فرما کر ثواب کا خزانہ حاصل کرتے ہیں ؟
٭… آپ میں کہیں دوسرے اسلامی بھائیوں سے مانگ مانگ کر ان کی چیزیں استعمال کرنے کی گندی عادت تو نہیں ؟ (دوسروں سے سُوال کی عادت نکال دیجئے ضَرورت کی چیز نشانی لگا کر اپنے پاس بحفاظت رکھئے )
٭… کیا آپ کو غیبت، چغلی اور حسد کی تعریف معلوم ہے؟ان رذائل اور ضد، طنز، ہنسی مذاق سے آپ بچتے ہیں یا نہیں؟)[1]( کسی کے اند ر کوئی خامی یا برائی ہو اسے اس کی پیٹھ پیچھے بیان کرنا غیبت کہلاتا ہے جو کہ گناہِ کبیرہ ہے۔کسی کے لباس کو پیچھے سے بے ڈھنگا، میلا وغیرہ کہا، یاکہا کہ اس کی آواز بے کار ہے یہ سب غیبت میں داخل ہے۔ جبکہ وہ برائی یا خامی یا خرابی اس میں موجود ہو اور اگر نہ ہو تو بہتان ہے جو غیبت سے بھی بڑا گناہ ہے۔کسی کا حافظہ اچھا ہو یا اچھی آوازمیں نعت پڑھتا ہو توا س کے بارے میں یہ تمنا کرنا کہ اس کا حافظہ کمزور پڑجائے یا اس کی آواز خراب ہو جائے یہ حسد میں داخل ہے۔ حسد کرنا گناہ ہے۔ حدیثِ پاک میں ہے۔ حسدنیکیوں کو اس طرح کھا جاتا ہے جس طرح آگ لکڑی کو۔ )[2](
٭… کیا آپ ہمیشہ سچ بولتے ہیں ، بلا حاجت شرعی توریہ تو نہیں کر بیٹھتے۔ توریہ یعنی لفظ کے جو ظاہری معنی ہیں وہ غلط ہیں مگر اس نے دوسرے معنی مراد لئے جو صحیح ہیں ۔ ایسا کر نا بلا حاجت جائز نہیں اور حاجت ہو تو جائز ہے۔ توریہ کی مثال یہ ہے کہ آپ نے کسی کو کھانے کیلئے بلایا وہ کہتا ہے میں نے کھانا کھا لیا اس کے ظاہر معنی یہ ہیں کہ اس وقت کا کھانا کھا لیا ہے مگر وہ یہ مراد لیتا ہے کہ کل کھایا ہے۔ یہ بھی جھوٹ میں داخل ہے۔)[3](
٭… سبق سناتے وقت اگر کوئی اسلامی بھائی غلطی کر بیٹھے تو آپ ہنس کر اس کی دل آزاری تو نہیں کر بیٹھتے اگر آپ کبھی ایسی بھول کر بیٹھے تو اپنے اس اسلامی بھائی کو راضی کر لیں رسولُ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم فرماتے ہیں : جس نے (بلا وجہ شرعی) کسی مسلمان کو ایذا دی اس مجھے ایذا دی اور جس نے مجھے ایذا دی اس نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کو ایذا دی۔ )[4](
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع