30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کی کوششیں رنگ لائیں اور میں عَزَّ وَجَلَّ 5ماہ کے قلیل عر صے میں مکمل حافظِ قرآن بن گیا ۔
(4) پورا گھرانہ سنتوں کا گہوارہ بن گیا
ضلع گجرات (پنجاب پاکستان) کے ایک اسلامی بھائی کی تحریر کا خلاصہ ہے کہ ہمارا گھرانہ بد عملی کا شکا رتھا، کوئی فرد نماز نہ پڑھتا جس کی نحوست سے ایک عجب ماحول رہتا، ہر وقت فلموں ڈراموں کا شور وغل تھمنے کا نام نہ لیتا، کسی کو اپنی آخرت کی فکر تھی نہ یہ پروا کہ اسے مرنا اور اندھیری قبر میں اتر کر اپنی بد اعمالیوں کا خمیازہ بھگتنا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ جب گھر کے بڑے ہی نمازوں اور نیکی کے کاموں سے دور ہوں تو چھوٹوں کی اصلاح بہت بعید ہے، میری قسمت اچھی تھی کہ دعوتِ اسلامی کے مشکبار مدنی ماحول سے وابستہ ایک اسلامی بھائی کی ترغیب پر میں نے مدرسۃ المدینہ میں داخلہ لے لیا۔ اساتذہ کی اصلاح پر مبنی تربیت اور باعمل طلباء کی صحبت کی برکت سے سنّتوں پر عمل کرنے کا جذبہ میرے دل میں پیدا ہوا اور میں نے نمازوں کی پابندی شروع کردی، اس کی برکت سے سب گھر والے میرے اخلاق وکردار سے متاثر ہونے لگے اور میری دیکھا دیکھی باقی گھر والوں نے بھی نماز پڑھنا شروع کردی۔ والد صاحب نے داڑھی شریف سجالی، گھر کا گناہوں بھرا ماحول رخصت ہوگیا اور اب فلموں ڈراموں کی جگہ نعتِ مصطفٰے اور امیر اہلسنّت کے بیانات نے لے لی۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ یوں مدرسۃ المدینہ میں ہونے والی میری اخلاقی تربیت کی برکت سے میرا پورا گھرانہ سنّتوں کا گہوارہ بن گیا اور سب لوگ دامنِ عطا ر سے بھی وابستہ ہو گئے۔
(5) مدرسے میں دیکھ بھال کر داخلہ لیجئے
با ب المدینہ (کراچی) کے علاقہ رنچھوڑ لائن کے ایک اسلامی بھائی کا بیان ہے کہ میں بدمذہبوں کے ایک ادارے میں پڑھتا تھا ان سے نجات کی صورت کچھ یوں بنی کہ ایک مرتبہ ماہِ ربیع الاول کی مبارک ساعتوں میں جب ہر سو سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ولادتِ با سعادت کے چرچے ہو رہے تھے، گلی کوچوں کو سجایا جارہا تھا، گھروں میں چراغاں کا اہتمام ہو رہا تھا، جگہ جگہ محافل ذکر و نعت منعقد ہو رہی تھیں ، مگر میرے مدرسے والے تھے کہ نہ وہاں در و دیوار کو سجایا گیا نہ کسی قسم کے چراغاں کا اہتمام ہوا، مزید یہ کہ جب بارہ ربیع الاول کے مبارک دن انہوں نے بچوں کو میلاد کے جلوس میں شریک ہونے سے روکنے کے لیے چھٹی نہ دی تو میرے والد محترم کو تشویش ہوئی کہ یہ کیسے لوگ ہیں جو نہ تو خود سرکارِ دو جہاں صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے یومِ ولادت کی خوشی مناتے ہیں اور نہ ہی دوسروں کو منانے دیتے ہیں ۔ لہٰذا فوراً مجھے اس ادارے سے نکال کر میلاد شریف منانے والے عاشقانِ رسول کے ادارے یعنی مدرسۃ المدینہ میں داخل کروا دیا۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ مدرسۃ المدینہ میں ہونے والی اخلاقی تربیت کی برکت سے میری زندگی میں بہار آگئی اور میں سنتوں کا شیدائی بن گیا۔ تادمِ تحریر تنظیمی ترکیب سے ذیلی مشاورت کے خادم کی حیثیت سے دینِ متین کی خدمت میں مصروفِ عمل ہوں ۔
(6) کم سِن مُبلِّغ
لانڈھی (باب المدینہ کراچی) میں مقیم اسلامی بھائی کے مکتوب کاخلاصہ ہے: یہ ان دنوں کی بات ہے جب میں چوتھی جماعت کاطالب علم تھا۔ہماری کلاس میں ایک طالب علم ایسابھی تھاجوفارغ اوقات میں ہمیں اچھی اچھی باتیں بتاتااوران پرعمل کی ترغیب بھی دلاتاتھا۔ ایک روزمیں نے اس سے پوچھا: آپ یہ پیاری پیاری باتیں کہاں سے سیکھتے ہیں ؟ اِس پر اُس کم سن مبلغ نے بتایا کہ میں اپنے علاقے کی مسجدمیں نمازپڑھنے جاتا ہوں ، وہاں ہرروز نمازِ مغرب کے بعد ’’ فیضانِ سنّت ‘‘ کا درس ہوتا ہے ، میں اسے بغور سنتا ہوں اور یہ پیاری پیاری باتیں وہیں سے سیکھتا ہوں ۔یہ جواب سن کرمیں بیحد متاثر ہوا اور میں نے بھی اپنے محلے کی مسجد میں جانا شروع کردیا، مغرب کی نمازکے بعدوہاں بھی درسِ فیضانِ سنّت ہوتا تھا، میں اس میں باقاعدگی سے شرکت کرنے لگا۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ َسنّتوں بھرے درس کی برکت سے میری زندگی میں مدنی انقلاب برپا ہو گیا اور میں مشکبار مدنی ماحول سے وابستہ ہو کر امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا مرید ہوگیا، جب سے دعوتِ اسلامی کے مہکے مہکے مدنی ماحول سے وابستگی نصیب ہوئی میں نہ صرف نمازوں کا پابند بن گیا بلکہ میرے سب کام سنور گئے۔مدنی ماحول میں آنے سے قبل میں تعلیمی سرگرمیوں میں نہایت کمزور تھا لیکن مدنی ماحول سے کیا وابستہ ہوا تعلیمی میدان میں پوزیشن ہولڈر بن گیا۔ اس وقت میں ایک پرائیویٹ فرم میں ڈپٹی منیجر کے فرائض سرانجام دے رہاہوں اوراپنے دفتری اوقات میں (وقفے کے دوران) اپنے ملازمین اسلامی بھائیوں کوبھی درسِ فیضانِ سنّت دینے کی کوشش کرتاہوں ۔
(7) صبح کا بھولا شام کو گھر آجائے تو !
حیدر آباد (سندھ پاکستان) کے ایک اسلامی بھائی اپنے بچپن کے متعلق کچھ یوں بیان کرتے ہیں کہ عَزَّ وَجَلَّ 2سال کی عمر میں مجھ پر اچھے کام کرنے کا جنون سوار تھا مگر علمِ دین سے دوری کی بنا پر یہ نہ جانتا تھا کہ اچھے کام ہیں کون کون سے۔ حسنِ اتفاق سے میرے ماموں جان نے حفظِ قرآن کی نیت سے اپنے بچوں کے ساتھ مجھے بھی مدرسۃ المدینہ میں داخل کروا دیا۔ یہاں دینی معلومات کا انمول خزانہ، نمازوں کا ذوق اور سنّتوں کی برکتیں حاصل ہوئیں ۔ سر پر سبز عمامے شریف کا تاج سجا تو بدن پر سفید لباس۔یوں سنّتوں بھری زندگی گزارنے لگا۔ بدقسمتی سے گھر والوں اور دوست احباب کی طنزیہ گفتگو کی وجہ سے میرا دل ٹوٹ گیا، ایسے میں شیطان نے اپنا بھر پور وار کیا اور مجھے دعوتِ اسلامی کے مشکبار مدنی ماحول سے دور برے دوستوں کی صحبت میں پھینک دیا، ایک عرصہ تک بھٹکتا رہا اپنے نامۂ اعمال کو گناہوں سے سیاہ کرتا رہا۔ ایک دن اچانک اس بات کا احساس ہوا کہ مجھ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع