30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
٭…٭…٭
لوگوں میں فساد ڈالنے کیلئے ایک کی بات دوسرے کو بتانا چغلی ہے۔ چغلی کرنا حرام ہے۔)[1]( چنانچہ چغل خور ی کی مذمت بیان کرتے ہوئے رب تَعَالٰی ارشاد فرماتا ہے:
وَ لَا تُطِعْ كُلَّ حَلَّافٍ مَّهِیْنٍۙ(۱۰)هَمَّازٍ مَّشَّآءٍۭ بِنَمِیْمٍۙ(۱۱) (پ۲۹، القلم: ۱۰، ۱۱)
ترجمۂ کنز الایمان: اورہرایسے کی بات نہ سننا جو بڑا قسمیں کھانے والا ذلیل بہت طعنے دینے والا بہت ادھر کی ادھر لگاتا پھر نے والا۔
چغلی کے متعلق پانچ فرامینِ مصطفٰے
(1)… چغل خور اور دوستوں میں جدائی ڈالنے والے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے نزدیک سب سے بد ترین لوگ ہیں ۔)[2](
(2)… میرے نزدیک سب سے ناپسند یدہ لوگ چغل خور ہیں جو دوستو ں کے درمیان جدائی ڈالتے اور پاکدامن لوگو ں میں عیب ڈھونڈتے ہیں ۔)[3](
(3)… لَایَدْخُلُ الْـجَنَّةَ قَتَّات ۔یعنی چغل خور جنت میں نہیں جائے گا۔)[4](
(4)…غیبت کرنے والوں ، چغل خوروں اور پاکباز لوگوں پر عیب لگانے والوں کا حشر کتوں کی صورت میں ہوگا۔)[5](
(5)… جو لوگوں میں چغل خوری کرتا ہے اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کے لیے آگ کے جوتے بنائے گا جن سے اس کا دماغ کھولتا رہے گا۔)[6](
٭…٭…٭
یہ تمنا کرنا کہ کسی کی نعمت اس سے زائل ہوکر مجھے مل جائے حسد کہلاتاہے۔ )[7](یعنی کسی کے پاس کوئی نعمت دیکھ کر تمنّا کرنا کہ کاش ! اِس سے یہ نعمت چِھن کر مجھے حاصِل ہو جائے حسد ہے۔ مَثَلاً کسی کی شہرت یا عزّت سے نفرت کا جذبہ رکھتے ہوئے خواہِش کرنا کہ یہ کسی طرح ذلیل ہو جائے اوراس کی جگہ مجھے عزّت کا مقام حاصِل ہو جائے، نیز کسی مالدار سے جَل کر یہ تمنّا کرنا کہ اِس کا کسی طرح نقصان ہو جائے اور یہ غریب ہو جائے اور میں اس کی جگہ پر دولت مند بن جاؤں ۔اس طرح کی تمنا کرنا حَسَد ہے۔
حسد کرنا بالاتفاق حرام ہے۔ )[8]( لیکن اگر یہ تمنا ہے کہ وہ خوبی مجھے بھی مل جائے اور اسے بھی حاصل رہے رشک کہلاتا ہے اور یہ جائز ہے ۔
حسد کے متعلق فرامینِ باری تعالٰی
جب اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اپنے محبوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی نبوّت کے وسیلہ سے اہلِ ایمان کو نصرت و غلبہ و عزت وغیرہ نعمتوں سے سرفراز فرمایا تو یہودی ان سےحسد کرنےلگے۔ چنانچہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے پارہ 5 سورۃ النساء کی آیت نمبر 54میں یہودیوں کے متعلق ارشاد فرمایا:
یَحْسُدُوْنَ النَّاسَ عَلٰى مَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖۚ- (پ۵، النسآء: ۵۴)
ترجمۂ کنز الایمان: یا لوگوں سے حسد کرتے ہیں اس پر جو اللہ نے انہیں اپنے فضل سے دیا۔
پارہ 30 سورۃ الفلق کی آیت نمبر 5میں ہے:
وَ مِنْ شَرِّ حَاسِدٍ اِذَا حَسَدَ۠(۵) (پ۳۰، الفلق: ۵)
ترجمۂ کنز الایمان: اور حسد والے کے شر سے جب وہ مجھ سے جلے ۔
[1] حدیقہ ندیہ، ۲ / ۴۲۷
[2] مسند احمد، ۶ / ۲۹۱، حدیث: ۱۸۰۲۰
[3] مجمع الزوائد ، کتاب الادب، باب ماجاء فی حسن الخلق، ۸ / ۴۷، حدیث: ۱۲۶۶۸
[4] بخاری ، کتاب الادب ، باب مایکرہ من النمیمۃ ، ۴ / ۱۱۵، حدیث: ۶۰۵۶
[5] الترغیب والترھیب ، کتاب الادب وغیرہ، باب الترھیب من النمیمۃ، ۳ / ۳۲۵، حدیث: ۱۰
[6] تنزیہ الشریعۃ ، کتاب الادب والزھد، الفصل الثالث، ۲ / ۳۱۳، حدیث: ۱۰۱
[7] بہارِ شریعت، بغض و حسد کا بیان، ۱ / ۵۴۲ ماخوذاً
[8] المرجع السابق
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع