30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
٭… ایسے ہی جب ایک بچہ دوسرے بچے سے لڑائی جھگڑا کرلے یا کسی کومارے تو دریافت کرنے پر جھوٹ بول دیتاہے کہ میں نے تو نہیں مارا۔
٭… عموماً والدین اپنے بچے کو صحت کے لئے نقصان دہ چیزیں کھانے سے منع کرتے ہیں اور محلہ کے برُے لڑکوں کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے سے بھی منع کرتے ہیں مگر بچے باز نہیں آتے اور والدین جب پوچھتے ہیں تو جھوٹ بول دیتے ہیں ۔
سوال …: جھوٹ بولنے کے چند نقصان بیان کیجیے؟
جواب …: جھوٹ بولنے کے چند نقصان یہ ہیں :
٭… جھوٹ کبیرہ گناہ ہے۔ ٭… جھوٹ منافق کی علامت ہے۔ ٭… جھوٹ جہنم میں لے جانے والا عمل ہے۔
٭… جھوٹ سے نیکیاں ضائع ہوجاتی ہیں ۔ ٭… جھوٹ سے گناہوں میں اضافہ ہوتاہے۔
٭… جھوٹ سے رزق میں کمی واقع ہوتی ہے۔ ٭… اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے جھوٹوں پر لعنت فرمائی ہے۔
٭… جھوٹ سے دل کالا ہوجاتاہے۔ ٭… جھوٹ بولنا کافروں ، منافقوں اور فاسقوں کا طریقہ ہے۔
٭… جھوٹ بولنے والے کو آخرت میں ہولناک عذاب دیا جائے گا کہ چمٹے سے اس کے گال، آنکھیں اور ناک چیرپھاڑ دیئے جائیں گے۔
٭… جھوٹ بولنے والوں کو اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اسکے پیارے رسو ل صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بالکل بھی پسند نہیں فرماتے۔
پیارے مدنی منو! سچے دل سے توبہ کرلیجئے کہ آئندہ کبھی بھی کسی سے جھوٹ نہیں بولیں گے۔ نہ ہی جھوٹی قسمیں کھائیں گے، نہ جھوٹے لطیفے سنیں سنائیں گے، نہ ہی جھوٹے لطیفے اور جھوٹے خواب بیان کریں گے اور نہ ہی مذاق میں جھوٹ بولیں گے۔ بس ہمیشہ سچ بولیں گے کیونکہ سچائی جنت کا راستہ ہے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رضا و خوشنودی کا ذریعہ ہے۔اے ہمارے پیارے اللہ عَزَّ وَجَلَّ ! ہمیں جھوٹ کے گناہ سے محفوظ و مامون فرما، ہمیں ہمیشہ سچ بولنے کی توفیق مرحمت فرمااور ہمیں زبان کی جملہ آفتوں سے بچنے کے لئے زبان کا قفل مدینہ لگانے کی توفیق عطا فرما۔
بولوں نہ فضول اور رہیں نیچی نگاہیں
آنکھوں کا زبان کا دے خدا قفل مدینہ
٭…٭…٭
غیبت کی تعریف اور اس کا شرعی حکم
سوال …: غیبت سے کیا مراد ہے؟
جواب …: غیبت ناجائز و حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔ اس کی مراد درج ذیل تین اقوال سے سمجھئے:
٭… ایک بار ہمارے پیارے پیارے اور میٹھے میٹھے آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان سے دریافت فرمایا: ’’ کیا تم جانتے ہو غیبت کیا ہے؟ ‘‘ عرض کی گئی: اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اس کا رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بہتر جانتے ہیں ۔ فرمایا: (غیبت یہ ہے کہ) تم اپنے بھائی کا اس طرح ذکر کرو جسے وہ ناپسند کرتا ہے۔ عرض کی گئی: اگر وہ بات اس میں موجود ہو تو؟ فرمایا: ’’ جو با ت تم کہہ رہے ہو اگر وہ اس میں موجود ہو تو تم نے اس کی غیبت کی اور اگر اس میں موجود نہ ہوتو تم نے اس پر بہتان باندھا۔ ‘‘ )[1](
٭… بہارِ شریعت میں ہے: غیبت کے یہ معنی ہیں کہ کسی شخص کے پوشیدہ عیب کو (جس کو وہ دوسروں کے سامنے ظاہر ہونا پسند نہ کرتا ہو) اس کی برائی کرنے کے طور پر ذکر کرنا۔ )[2](
٭… عُلَمائے کرام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلَام فرماتے ہیں : انسان کے کسی ايسے عیب کا ذکر کرنا جو اس ميں موجود ہو غيبت کہلاتا ہے، اب وہ عیب چاہے اُس کے دين، دنيا، ذات، اَخلاق، مال، اولاد، بيوی، خادِم، غلام، عِمامہ، لباس، حرکات وسکنات، مسکراہٹ، ديوانگی، تُرش رُوئی اور خوش روئی وغیرہ کسی بھی ایسی چیز میں ہو جو اس کے مُتَعَلِّق ہو۔
جسم میں غیبت کی مثالیں : اندھا ، لنگڑا، گنجا، ٹِھگنا، لمبا، کالا اور زرد وغيرہ کہنا۔
دین میں غیبت کی مثالیں : فاسِق، چور، خائن، ظالم، نَماز ميں سُستی کرنے والا اور والِدَين کا نافرمان وغيرہ کہنا۔ کہا جاتا ہے کہ غيبت ميں کھجور کی سی مٹھاس اور شراب جيسی تیزی اور سرور ہے۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس آفت سے ہماری حفاظت فرمائے۔)[3](
سوال …: کیا کوئی اپنے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھا سکتا ہے؟
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع