30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سوال …: کیا ریاکاری کا شمار جہنم میں لے جانے والے اعمال میں ہوتا ہے؟
جواب …: جی ہاں ! ریاکاری کا شمار جہنم میں لے جانے والے اعمال میں ہوتا ہے۔ چنانچہ قیامت کے دن کچھ لوگوں کو جنت میں لے جانے کا حکم ہو گا، یہاں تک کہ جب وہ جنت کے قریب پہنچ کر اس کی خوشبو سونگھیں گے اور اس کے محلات اور اہل جنت کے لئے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی تیار کردہ نعمتیں دیکھ لیں گے، تو ندا دی جائے گی: انہیں لَوٹا دو کیونکہ ان کا جنت میں کوئی حصہ نہیں ۔ تو وہ ایسی حسرت لے کر لوٹیں گے جیسی اوّلین وآخرین نے نہ پائی ہو گی، پھر وہ عرض کریں گے: یااللہ عَزَّ وَجَلَّ ! اگر تو وہ نعمتیں دکھانے سے پہلے ہی ہمیں جہنم میں داخل کر دیتا جو تو نے اپنے محبوب بندوں کے لیے تیار کی ہیں تو یہ ہم پر زیادہ آسان ہوتا۔ تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرمائے گا: بدبختو! میں نے ارادۃً تمہارے ساتھ ایسا کیا ہے جب تم تنہائی میں ہوتے تو میرے ساتھ اعلانِ جنگ کرتے اور جب لوگوں کے سامنے ہوتے تو میری بارگاہ میں دوغلے پن سے حاضر ہوتے، نیز لوگوں کے دِکھلاوے کے لئے عمل کرتے جبکہ تمہارے دلوں میں میری خاطر اس کے بالکل برعکس صورت ہوتی، لوگوں سے محبت کرتے اور مجھ سے محبت نہ کرتے، لوگوں کی عزت کرتے اور میری عزت نہ کرتے، لوگوں کے لئے عمل چھوڑ دیتے مگر میرے لئے برائی نہ چھوڑتے تھے، آج میں تمہیں اپنے ثواب سے محروم کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے عذابِ الیم کامزہ بھی چکھاؤں گا۔)[1](
ریاکاری و ریاکار کے متعلق فرامینِ باری تعالٰی
دِکھاوے کے لئے عِبادَت کرنے والے کاعَمَل ضائع ہوجاتا ہے ۔ قرآن مجید میں اِرشاد ہوا :
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تُبْطِلُوۡا صَدَقٰتِکُمۡ بِالْمَنِّ وَالۡاَذٰیۙ کَالَّذِیۡ یُنۡفِقُ مَالَہٗ رِئَآءَ النَّاسِ (پ۳، البقرۃ: ۲۶۴)
ترجمۂ کنز الایمان: اے ایمان والو! اپنے صدقے باطل نہ کردو احسان رکھ کر اور ایذا دے کر، اس کی طرح جواپنا مال لوگوں کے دکھاوے کے ليے خرچ کرے۔
دُنیا کو آخرت پر ترجیح دینے والے نادانوں کے اعمال برباد ہونے کے متعلق ارشادِ باری تَعَالٰی ہے:
مَنْ كَانَ یُرِیْدُ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا وَ زِیْنَتَهَا نُوَفِّ اِلَیْهِمْ اَعْمَالَهُمْ فِیْهَا وَ هُمْ فِیْهَا لَا یُبْخَسُوْنَ(۱۵)اُولٰٓىٕكَ الَّذِیْنَ لَیْسَ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ اِلَّا النَّارُ ﳲ وَ حَبِطَ مَا صَنَعُوْا فِیْهَا وَ بٰطِلٌ مَّا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ(۱۶) (پ۱۲، ھود: ۱۶،۱۵)
ترجمۂ کنز الایمان: جو دنیا کی زندگی اور آرائش چاہتا ہوہم اس میں ان کا پورا پھل دے دیں گے اور اس میں کمی نہ دیں گے، یہ ہیں وہ جن کے لیے آخرت میں کچھ نہیں مگر آگ اور اکارت گیا جو کچھ وہاں کرتے تھے اور نابود ہوئے جو ان کے عمل تھے۔
حضرت سیدنا ابن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں کہ یہ آیتِ مبارکہ ریاکاروں کے حق میں نازل ہوئی۔ )[2](
شیطان کے دوست
لوگوں پر اپنی دھاک بٹھانے کے لئے مال خرچ کرنے والے ریاکاروں کو شیطان کے دوست قرار دیا گیا ہے۔ چنانچہ پارہ 5سورۃ النساء میں ارشاد ہوا :
وَ الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ رِئَآءَ النَّاسِ وَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ لَا بِالْیَوْمِ الْاٰخِرِؕ-وَ مَنْ یَّكُنِ الشَّیْطٰنُ لَهٗ قَرِیْنًا فَسَآءَ قَرِیْنًا(۳۸)(پ۵، النسآء: ۳۸)
ترجمۂ کنز الایمان: اور وہ جو اپنے مال لوگوں کے دکھاوے کو خرچتے ہیں اور ایمان نہیں لاتے ﷲ اور نہ قیامت پر اور جس کا مصاحب شیطان ہوا تو کتنا برا مصاحب ہے۔
ریا کاروں کا ٹھکانا
دکھاوے کی نمازیں پڑھنے والے بدنصیبوں کا ٹھکانا جہنم ہوگا ۔چنانچہ ارشاد ہوتا ہے:
فَوَیۡلٌ لِّلْمُصَلِّیۡنَ ۙ(۴) الَّذِیۡنَ ہُمْ عَنۡ صَلَاتِہِمْ سَاہُوۡنَ(۵) الَّذِیۡنَ ہُمْ یُرَآءُوۡنَ ۙ(۶)وَ یَمْنَعُوْنَ الْمَاعُوْنَ۠(۷) (پ۳۰، الماعون: ۴ تا ۷)
ترجمۂ کنز الایمان: تو ان نمازیوں کی خرابی ہے جواپنی نماز سے بھولے بیٹھے ہیں ،وہ جو دکھاوا کرتے ہیں اور برتنے کی چیز مانگے نہیں دیتے۔
ریاکاری و ریاکار کے متعلق پانچ فرامینِ مصطفٰے
(1)… مجھے تم پر سب سے زیادہ شرکِ اصغر یعنی دکھاوے میں مبتلا ہونے کا خوف ہے، اللہ عَزَّ وَجَلَّ قیامت کے دن کچھ لوگوں کو ان کے اعمال کی جزا دیتے وقت ارشاد فرمائے گا: ان لوگوں کے پاس جاؤ جن کے لئے دنیا میں تم دکھاوا کرتے تھے اور دیکھو کہ کیا تم ان کے پاس کوئی جزا پاتے ہو۔ )[3](
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع