30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
پڑا اس کے ہر ایک قدم پر اللہ عَزَّ وَجَلَّ 70 نیکیاں درج کرے گا اور 70 برائیاں دور کر دے گا اور اگر اُس ضرورت مند مسلمان کی ضرورت اِس کے ذریعے سے پوری ہو گئی تو وہ گناہوں سے یوں پاک ہو گیا جیسے اس دن تھا کہ جس دن اس کی ماں نے اسے جنا، اگر وہ اس دوران وفات پاگیا تو بغیر حساب و کتاب کے جنت میں داخل ہو گا۔)[1](
پیارے مدنی منو! اپنے مسلمان بھائی کی مدد کرنے والا کتنا خوش نصیب ہے کہ وہ بغیر حساب وکتاب جنت میں داخل ہوگا۔ ہمیں بھی چاہیے کہ ہم اپنے اسلامی بھائی کی مدد کیا کریں ۔
٭…٭…٭
سوال …: بطورِ مسلمان کیا ہمیں دوسروں کی دِل آزاری کرنی چاہئے؟
جواب …: جی نہیں ! ہرگز ہرگز ہمیں اپنے کسی اسلامی بھائی کی دل آزاری نہیں کرنی چاہئے کیونکہ کامل مسلمان وہی ہوتا ہے جس کی زبان و ہاتھ سے دیگر مسلمان محفوظ رہیں ۔ جیسا کہ سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’ مسلمان وہ ہوتا ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دیگر مسلمان محفوظ رہیں ۔ )[2](
سوال …: کیا دوسروں کی دِل آزاری جہنم میں لے جانے کا باعث بن سکتی ہے؟
جواب …: جی ہاں ! دوسروں کی دِل آزاری جہنم میں لے جانے کا باعث بن سکتی ہے۔ چنانچہ حضرت سیدنا مجاہد عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْوَاحِد فرماتے ہیں : ’’ اہل دوزخ پر خارش کو مسلط کر دیا جائے گا، وہ اتنی خارش کرتے ہوں گے کہ ان کے چمڑے اتر جانے کے باعث ہڈیاں نمودار ہوجائیں گی، تووہ کہیں گے: یا اللہ! کس وجہ سے ہم اس مصیبت میں مبتلا ہیں ؟ توان کو جواب دیا جائے گا: تم مسلمانوں کو ایذا دیتےتھے۔ ‘‘ )[3](
سوال …: کیا دوسروں کو تکلیف سے بچانا ہمیں جنت کا حق دار بنا سکتا ہے؟
جواب …: جی ہاں ! دوسروں کو تکلیف سے بچانا ہمیں جنت کا حق دار بنا سکتا ہے۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے مسلمان بھائی کو زبان یا ہاتھ کسی طرح سے بھی ایذا یعنی تکلیف نہ دیں بلکہ اسے ہر تکلیف سے بچانے کی کوشش کریں ۔ جیساکہ سرکارِ ابد قرار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’ میں نے ایک ایسے شخص کو جنت میں چلتے پھرتے دیکھا جس نے راستے سے ایک ایسے درخت کو کاٹ دیا تھا جو مسلمانوں کی ایذا کا باعث بنا رہتا تھا۔ ‘‘ )[4]( ایک روایت میں ہے کہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: جس نے مسلمانوں کے راستے سے کسی تکلیف پہنچانے والی چیز کو دور کردیا اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کے حق میں نیکی لکھ دے گا اور جس كي نيكي قبول هوگئي وه جنت ميں داخل هو گاـ۔)[5](
سُبْحَانَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ! اپنے مسلمان بھائی کے راستے سے تکلیف دہ چیز کو ہٹانے کی کتنی فضیلت ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کے حق میں نیکی درج فرما دیتا ہے اور اس کے لئے جنت كا داخلہ آسان كر دیتا ہے۔ ہمیں بھی چاہیے کہ ہم اپنے اسلامی بھائیوں کو بھی تکلیف سے بچانے کی کوشش کریں تا کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے پیارے محبوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہم سے راضی ہو جائیں اور اگر کوئی ہمیں ایذا دے یعنی تکلیف پہنچائے تو ہمیں اسے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رضا کے لئے معاف کر دینا چاہیے کہ اپنے مسلمان بھائی کو معاف کرنے کی بھی بہت فضیلت مروی ہے۔ چنانچہ فرمانِ مصطفٰے صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہے: ’’ معاف کردینے سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ آدمی کی عزت میں اضافہ فرما دیتا ہے۔ ‘‘ )[6](
پیارے مدنی منو! ہمیں بھی اپنے مسلمان بھائی کو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رضا کے لئے معاف کردینا چاہیے، ہوسکتاہے کہ ہمارا یہی عمل اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں مقبول ہوجائے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کل بروزِ قیامت ہماری خطائیں بھی معاف فرماکر ہمیں جنت میں داخلہ عطا فرما دے۔
٭…٭…٭
سوال …: ریا سے کیا مراد ہے؟
جواب …: ریا سے مراد دکھاوا ہے یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی عبادت یا نیک اعمال کے ذریعے لوگوں سے اپنی عزت و شہرت کی خواہش رکھنا کہ میرے اس عمل پر لوگوں میں میری واہ واہ ہولوگ مجھے اچھا و نیک سمجھیں ۔ ریا کرنے والے کو ’’ ریاکار ‘‘ کہتے ہیں ۔
[1] الترغيب والترھيب ، كتاب البروالصلة، باب الترغيب فی قصاء حوائج المسلمين، ۳ / ۲۶۴، حديث :۱۳
[2] مسلم ، كتاب الايمان ، باب بيان تفاضل الاسلام الخ، ص۴۱، حديث: ۶۵ - (۴۱)
[3] در منثور، پ۲۲، الاحزاب، ۶ / ۶۵۷، تحت الآیۃ: ۵۸
[4] مسلم، کتاب البر والصلۃ والآداب، باب فضل ازالۃ الاذی عن الطریق، ص ۱۴۱۰، حدیث: ۱۲۷ - (۱۹۱۴)
[5] الادب المفرد للبخاری، باب البغی، ص ۱۵۵، حديث :۵۹۳
[6] مسلم ، كتاب البروالصلة والآداب، باب استحباب العفووالتواضع، ص ۱۳۹۷، حديث: ۶۹ - (۲۵۸۸)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع