30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
٭… پہلے سیدھی طرف کے اوپر کے دانتوں پر پھر اُلٹی طرف کے اوپر کے دانتوں پر، پھر سیدھی طرف نیچے پھر اُلٹی طرف نیچے مسواک کیجئے۔
٭… چِت لیٹ کر مسواک کرنے سے تلی بڑھ جانے کا خطرہ ہے۔
٭… مٹھی باندھ کر مسواک کرنے سے بواسیر ہوجانے کا اندیشہ ہے۔
٭… مستعمل (یعنی استعمال شدہ) مسواک کے ریشے نیز جب یہ ناقابلِ استعمال ہوجائے تو پھینک مت دیجئے کہ یہ آلۂ ادائے سنت ہے، کسی جگہ احتیاط سے رکھ دیجئے یا دفن کردیجئے یا سمندر میں ڈال دیجئے۔
اے ہمارے پیارے اللہ عَزَّ وَجَلَّ ! ہمیں سنت کے مطابق مسواک کرنے کی توفیق عطا فرما۔
اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
٭…٭…٭
عمامہ شریف سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بہت ہی پیاری سنت ہے۔ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ہمیشہ سرِ اقدس پر اپنی مبارک ٹوپی پر عمامہ شریف سجائے رکھا۔ چنانچہ مروی ہے کہ ایک بار آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے عمامہ کی طرف اشارہ کر کے فرمایا: ’’ فرشتوں کے تاج ایسے ہی ہوتے ہیں ۔ ‘‘ )[1]( اسی لیے اعلیٰ حضرت امام اہل سنت عَلَیْہِ رَحمَۃُ رَبِّ الْعِزَّت فرماتے ہیں : عمامہ سنت ِ متواترہ و دائمہ ہے۔)[2](
عمامہ شریف کی فضیلت کے متعلق سات فرامینِ مصطفٰے
(1)… عمامہ کے ساتھ دو رکعتیں بغیر عمامہ کے 70رکعتوں سے افضل ہیں ۔)[3](
(2)… عمامہ کے ساتھ باجماعت نماز دس ہزار نیکیوں کے برابر ہے۔)[4](
(3)… بے شک اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے فرشتے جُمُعَه كے دن عمامه والوں پر درود بھیجتے ہیں ۔)[5](
(4)… ٹوپی پر عمامہ ہمارے اور مشرکین کے درمیان فرق ہے۔ بروزِ قیامت عمامہ کے ہر پیچ کے بدلے مسلمان کو ایک نور عطا کیا جائے گا۔ )[6](
(5)…… عمامہ باندھو تمہارا حلم بڑھے گا۔)[7](
(6)… عمامہ مسلمانوں کا وقار اور عربوں کی عزت ہے، جب عرب عمامہ اتار دیں گے تو اپنی عزت بھی اتار دیں گے۔)[8](
(7)… عمامہ کے ساتھ ایک جمعہ بغیر عمامہ کے 70جمعہ کے برابر ہے۔)[9](
عمامہ کے آداب
(1)… عمامہ سات ہاتھ یعنی ساڑھے تین گز سے چھوٹا نہ ہو اور بارہ ہاتھ یعنی چھ گز سے بڑا نہ ہو۔ )[10](
(2)… عمامہ کے شملے کی مقدار کم از کم چار انگل اور زیادہ سے زیادہ اتنا ہو کہ بیٹھنے میں نہ دبے۔)[11](
(3)… عمامہ قبلہ کی طرف منہ کرکے کھڑے کھڑے باندھنا چاہیے۔
[1] كنزالعمال، كتاب المعيشة والعادات، الجزء الخامس عشر، ۸ / ۲۰۵، حديث:۴۱۹۰۶
[2] فتاویٰ رضویہ، ۶ / ۲۰۹ ملتقطاً
[3] فردوس الاخبار، ۱ / ۴۱۰، حديث : ۳۰۵۴
[4] فردوس الاخبار، ۲ / ۳۱، حديث :۳۶۶۱
[5] الجامع الصغير، ص ۳۱۱، حديث :۱۸۱۷
[6] مرقاة، کتاب اللباس، الفصل الثانی، ۸ / ۱۴۷، تحت الحديث:۴۳۴۰
[7] مستدرك، كتاب اللباس، باب اعتموا تزدادوا حلما، ۵ / ۲۷۲، حديث:۷۴۸۸
[8] فردوس الاخبار،
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع