30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
پیارے مدنی منو! گالیاں دیتے وقت ہمیں اس بات کا احساس نہیں ہوتا کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے معصوم فرشتے ہماری ہر بات لکھ رہے ہیں تو جب ہماری زبان سے نکلی ہوئی گالیاں اور بے شرمی و بے حیائی کی باتیں انہیں لکھنا پڑتی ہوں گی تو انہیں کس قدر تکلیف ہوتی ہو گی جیسا کہ حضرت سیدنا امام حسن بصری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں کہ انسان پر تعجب ہے کہ کراماً کاتبین اس کے پاس ہیں اور اس کی زبان ان کا قلم اور اس کا لعاب ان کی سیاہی ہے، پھر بھی بے ہودہ کلام کرتا ہے۔ ([1])
پیارے مدنی منو! اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے قہر وغضب سے ہردم پناہ مانگتے رہئے اور ایسی باتوں سے مکمل پرہیز کیجئے جن سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ ناراض ہوتا ہے۔ ہمیشہ اچھی اچھی باتیں کیجئے کیونکہ مدینے کے تاجدار، شافع ِ روزِ شمار، نبیوں کے سردار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا ارشادِ خوشبو دار ہے: ’’ بلاشبہ بندہ کبھی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی پسند کا کوئی ایسا کلمہ کہہ دیتا ہے کہ جس کی طرف اس کا دھیان بھی نہیں ہوتا اور اس کی وجہ سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کے بہت سے درجات بلند فرما دیتا ہے اور بلا شبہ بندہ کبھی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی نافرمانی کا کوئی ایسا کلمہ کہہ گزرتا ہے کہ اس کی طرف اس کو دھیان بھی نہیں ہوتا اور اس کی وجہ سے دوزخ میں گرتا چلا جاتاہے۔ ‘‘ ([2])
پیارے مدنی منو! ہمیں اپنی زبان کو قابو میں رکھنا چاہیے، گالی گلوچ، بے حیائی وبےشرمی کی باتوں سے گریز کرنا چاہیے تاکہ آخرت میں ہم نجات پا جائیں ۔ جیسا کہ حضرت سیدنا عقبہ بن عامر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں : میں بارگاہِ رسالت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم میں حاضر ہوا اور عرض کی کہ نجات کیا ہے؟ ارشاد فرمایا: اپنی زبان پر قابو رکھو اور تمہارا گھر تمہارے لئے گنجائش رکھے (یعنی بے کار ادھر ادھر نہ جاؤ) اور اپنی خطا پر رویا کرو۔ ([3])
پیارے مدنی منو! آئیے اب گالی دینے کی شرعی حیثیت کے متعلق کچھ جانتے ہیں :
سوال: اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے نزدیک گالیاں دینے والے کی کیا حیثیت ہے؟
جواب: اللہ عَزَّ وَجَلَّ گالیاں دینے والے کو ناپسند فرماتاہے اور اپنا دشمن جانتاہے ۔
سوال: سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے گالی دینے والے کے بارے میں کیا ارشاد فرمایاہے؟
جواب: سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’ فحش گوئی (یعنی گالی گلوچ و بے ہودہ باتیں ) کرنے والے پر جنت حرام ہے۔ ‘‘ ([4])
سوال: بزرگانِ دین کو جب کوئی گالی دیتا تو وہ اس کے ساتھ کیا سلوک کرتے تھے؟
جواب: بزرگانِ دین کو جب کوئی گالیاں دیتا تو وہ غصہ نہ کرتے بلکہ اس کے لئے دعائے خیر فرماتے اور حسن اخلاق کا مظاہرہ کرتے۔
پیارے مدنی منو! بد قسمتی سے آج کل ہمارا معاملہ بالکل الٹ نظرآتاہے آج اگر ہمیں کوئی برا بھلا کہہ دے تو ہم غصے سے لال پیلے ہو جاتے ہیں اور خوب اَول فول بکتے ہیں بلکہ بسا اوقات نوبت لڑائی جھگڑے تک جا پہنچتی ہے۔ اے کاش! ان بزرگانِ دین کے طفیل ہم سراپا اخلاق بن جائیں اپنی ذات کے لئے غصہ کرنے اور گالیاں دینے کی عادت ختم ہوجائے اور ہمیشہ نرمی سے کام لیں کیوں کہ ؎
ہے فلاح و کامرانی نرمی و آسانی میں
ہر بنا کام بگڑ جاتاہے نادانی میں
سوال: گالی دینے کا شرعی حکم کیا ہے؟
جواب: گالی دینا ناجائز وگناہ ہے ۔
سوال: لڑائی جھگڑے میں گالیاں دینا کیساہے؟
جواب: لڑائی جھگڑے میں گالیاں دینا منافق کی علامت ہے ۔
سوال: بعض بچے جب آپس میں لڑپڑیں تو ایک دوسرے پر لعنت بھیجتے ہیں اس کے متعلق کیا حکم ہے؟
جواب: اوّل تو لڑنا جھگڑنا بہت بری بات ہے اور پھر کسی مسلمان پر لعنت بھیجنا ناجائز وگناہ ہے حدیث پاک میں ہے کہ مومن پر لعنت بھیجنا، اسے قتل کرنے کی طرح
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع