30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جیسے ہی تم پہنچو میں تمہیں ذبح کر کے تمہاری کھال میں بھوسا بھر کر تمہاری لاش بادشاہ کی طرف روانہ کر دوں ۔ یہ سن کر حاسد کے ہوش اڑ گئے اور وہ کہنے لگا: خدا کی قسم! یہ خط میرے بارے میں نہیں لکھا گیا بلکہ یہ تو فلاں شخص کے متعلق ہے، بے شک آپ بادشاہ کے پاس کسی قاصد کو بھیج کر معلوم کر لیں ۔ گورنر نے اس کی ایک نہ سنی اور کہا: ہمیں کوئی حاجت نہیں کہ ہم بادشاہ سے اس معاملہ کی تصدیق کریں ، بادشاہ کی مہر اس خط پر موجود ہے، لہٰذا ہمیں بادشاہ کے حکم پر عمل کرنا ہی ہو گا۔ اتنا کہنے کے بعد اس نے جلاد کو حکم دیا کہ اس (حاسد) کو ذبح کرکے اس کی کھال اتار لو اور اس میں بھوسا بھردو۔
پھر اس کی لاش کو بادشاہ کے پاس بھجوادیا گیا۔
اِدھر دوسرے دن وہ نیک شخص حسبِ معمول دربار میں گیا اور بادشاہ کے سامنے کھڑے ہو کر وہی کلمات دہرائے کہ ’’ احسان کرنے والے کے ساتھ احسان کر اور جو برائی کرے اس کی برائی کا بدلہ اسے خود ہی مل جائے گا۔ ‘‘ جب بادشاہ نے اسے صحیح و سالم دیکھا تو پوچھا: میں نے تجھے جوخط دیا تھا اس کا کیا ہوا؟ اس نے جواب دیا: میں آپ کا خط لے کر گورنر کے پاس جارہا تھا کہ راستے میں مجھے فلاں شخص ملا اور اس نے مجھ سے کہا کہ یہ خط مجھے دے دو۔ میں نے اسے وہ خط دے دیا اور وہ لے کر گورنر کے پاس چلا گیا۔ بادشاہ نے کہا: اس شخص نے مجھے تمہارے بارے میں بتایا تھا کہ تم میرے متعلق یہ گمان رکھتے ہو کہ میرے منہ سے بدبو آتی ہے، کیا واقعی ایسا ہے؟ اس شخص نے کہا: بادشاہ سلامت! میں نے کبھی بھی آپ کے بارے میں ایسا نہیں سوچا۔ تو بادشاہ نے پوچھا: جب میں نے تجھے اپنے قریب بلایا تھا تو تونے اپنے منہ پر ہاتھ کیوں رکھ لیا تھا؟ اس نے جواب دیا: بادشاہ سلامت! آپ کے دربار میں آنے سے کچھ دیر پہلے اس شخص نے میری دعوت کی تھی اور کھانے میں مجھے بہت زیادہ لہسن کھلا دیا تھا جس کی وجہ سے میرا منہ بدبو دار ہو گیا جب آپ نے مجھے اپنے قریب بلایا تو میں نے یہ گوارا نہ کیا کہ میرے منہ کی بدبو سے بادشاہ سلامت کو تکلیف پہنچے، اسی لئے میں نے منہ پر اپنا ہاتھ رکھ لیا تھا۔
جب بادشاہ نے یہ سنا تو کہا: اے خوش نصیب! تو نے بالکل ٹھیک کہا تیری یہ بات بالکل سچی ہے کہ جو کسی کے ساتھ برائی کرتاہے اسے عنقریب اسکی برائی کا بدلہ مل جائے گا۔ اس شخص نے تیرے ساتھ برائی کا ارادہ کیا اور جھوٹ بولا اور تجھے سزا دلوانا چاہی لیکن اسے اپنے جھوٹ بولنے کا صلہ خود ہی مل گیا۔ سچ ہے کہ جو کسی کے لئے گڑھا کھودتاہے وہ خود ہی اس میں جاگرتاہے۔ اے نیک شخص! میرے سامنے بیٹھ اور اپنی اس بات کو دہرا۔ چنانچہ وہ شخص بادشاہ کے سامنے بیٹھا اور کہنے لگا: ’’ احسان کرنے والے کے ساتھ احسان کر اور جو برائی کرے اس کی برائی کا بدلہ اسے خود ہی مل جائے گا۔‘‘
پیارے مدنی مُنّو!
٭… جو کسی پر احسان کرتا ہے اس پر بھی احسان کیا جاتا ہے اور جو کسی کے لئے بر ُا چاہتا ہے اس کے ساتھ بر ُا ہی معاملہ ہوتا ہے۔
٭… جو جھوٹ بول کردوسروں کی تباہی وبربادی چاہتاہے وہ خود تباہ وبرباد ہو جاتا ہے۔
٭… اچھے کام کااچھا نتیجہ اور بر ُے کام کا برا نتیجہ۔
٭… جیسی کرنی ویسی بھرنی۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہمیں جھوٹ جیسی بیماری سے محفوظ فرمائے!
آمین بجاہ النبی الامین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
دیکھے ہیں یہ دن اپنی ہی غفلت کی بدولت
سچ ہے کہ برُے کام کا انجام برا ہے
اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا ارشادِ گرامی ہے:
بَلْ نَقْذِفُ بِالْحَقِّ عَلَى الْبَاطِلِ فَیَدْمَغُهٗ (پ۱۷، الانبياء: ۱۸)
تر جمہ ٔ کنز الایمان: بلکہ ہم حق کو باطل پر پھینک مارتے ہیں تو وہ اس کا بھیجہ نکال دیتا ہے۔
٭… ٭… ٭
پیارے مدنی منو! ایک کم سن لڑکے نے اپنی ماں کی خدمت میں حاضرہو کر عرض کی: ’’ اے میری پیاری امی جان! مجھے رِضائے ربُّ الانام کے لئے راہِ خدامیں وقف کر دیجئے اور مجھے بغداد شریف جا کر علم ِ دین حاصل کرنے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے نیک بندوں کی خدمت میں حاضر ہو کر ان کا فیضان حاصل کرنے کی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع