30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نہ مجھ کو آزما دنیا کا مال و زر عطا کر کے
عطا کر اپنا غم اور چشم گریاں یا رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ
٭… ٭… ٭
جھوٹ کے مزید نقصانات ملاحظہ کیجئے:
حضرت سیدنا بکر بن عبد اللہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے کہ ایک شخص کی عادت تھی کہ وہ بادشاہوں کے درباروں میں جاتا اور ان کے سامنے اچھی اچھی باتیں کرتا، بادشاہ خوش ہوکر اسے انعام واکرام سے نوازتے اور اس کی خوب حوصلہ افزائی کرتے۔
ایک مرتبہ وہ ایک بادشاہ کے دربار میں گیا اور اس سے اجازت چاہی کہ میں کچھ باتیں عرض کرنا چاہتا ہوں ۔ بادشاہ نے اجازت دی اور اسے اپنے سامنے کرسی پر بٹھا دیا اور کہا اب جو کہنا چاہتے ہو کہو۔ اس شخص نے کہاـ: ’’ احسان کرنے والے کے ساتھ احسان کر اور جو برائی کرے اس کی برائی کا بدلہ اسے خود ہی مل جائے گا۔ ‘‘ بادشاہ اس کی یہ بات سن کر بہت خوش ہوا اور اسے انعام و اکرام سے نوازا۔ یہ دیکھ کر بادشاہ کے ایک درباری کو اس شخص سے حسد ہو گیا اور دل ہی دل میں کڑھنے لگا کہ اس عام سے شخص کو بادشاہ کے دربار میں اتنی عزت اور اتنا مقام کیوں حاصل ہو گیا۔ بالآخر وہ حسد کی بیماری سے مجبور ہوکر بادشاہ کے پاس گیا اور بڑے خوشامدانہ انداز میں جھوٹ بولتے ہوئے کہا: ’’ بادشاہ سلامت ! ابھی جو شخص آپ کے سامنے گفتگو کر کے گیا ہے اگرچہ اس کی باتیں اچھی ہیں لیکن وہ آپ سے نفرت کرتا ہے اور کہتا ہے کہ بادشاہ کو گندہ دَہنی (یعنی منہ سے بدبو آنے) کا مرض لاحق ہے۔ ‘‘ بادشاہ نے یہ سن کر پوچھا: تمہارے پاس کیا ثبوت ہے کہ وہ میرے بارے میں ایسا گمان رکھتا ہے؟ وہ حاسد بولا: حضور! اگر آپ کو میری بات پر یقین نہیں آتا تو آپ آزما کر دیکھ لیں اسے اپنے پاس بلائیں جب وہ آپ کے قریب آئے گا تو اپنی ناک پر ہاتھ رکھ لے گا تا کہ اسے آپ کے منہ کی بدبو نہ آئے۔ یہ سن کر بادشاہ نے کہا: تم جاؤ جب تک میں اس معاملہ کی خود تحقیق نہ کر لوں اس کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کروں گا۔
پس وہ حاسد دربارِ شاہی سے چلا آیا اور اس شخص کے پاس پہنچا اور اسے کھانے کی دعوت دی۔ اُس نے قبول کر لی اور اس کے ساتھ چل دیا۔ حاسد نے اسے جو کھانا کھلایا اس میں بہت زیادہ لہسن ڈال دیا۔ اب اس شخص کے منہ سے لہسن کی بدبو آنے لگی۔ بہرحال وہ دعوت سے فارغ ہوکر اپنے گھر آ گیا۔ ابھی تھوڑی دیر ہی گزری تھی کہ بادشاہ کا قاصد آیا اور اس نے کہا کہ بادشاہ نے آپ کو ابھی دربار میں بلایا ہے۔ وہ قاصد کے ساتھ دربار میں پہنچا۔ بادشاہ نے اسے اپنے سامنے بٹھایا اور کہا ہمیں وہی کلمات سناؤ جو تم سنایا کرتے ہو۔ اس نے کہا: ’’ احسان کرنے والے کے ساتھ احسان کر اور جو برائی کرے اس کی برائی کا بدلہ اسے خود ہی مل جائے گا۔‘‘جب اس نے اپنی بات مکمل کر لی تو بادشاہ نے کہا میرے قریب آؤ۔ وہ بادشاہ کے قریب گیا تو اس نے فوراً اپنے منہ پر ہاتھ رکھ لیاتاکہ لہسن کی بدبو سے بادشاہ کو تکلیف نہ ہو۔ جب بادشاہ نے یہ صورتحال دیکھی تو اپنے دل میں کہا کہ اس شخص نے ٹھیک ہی کہا تھا کہ میرے بارے میں یہ شخص گمان رکھتا ہے کہ مجھے گندہ دہنی کی بیماری ہے۔بادشاہ اس شخص کے بارے میں بدگمانی کا شکار ہوگیا اور بلاتحقیق فیصلہ کرلیا کہ اس شخص کو سخت سزا ملنی چاہیے۔ چنانچہ اس نے اپنے گورنر کے نام اس طرح خط لکھا: اے گورنر! جیسے ہی یہ شخص تمہارے پاس میرا خط لے کر پہنچے اسے ذبح کردینا اور اس کی کھال میں بھوسا بھرکے میرے پاس بجھوادینا۔ پھر بادشاہ نے خط پر مہر لگائی اور اس شخص کو دیتے ہوئے کہا یہ خط لے کر فلاں علاقے کے گورنر کے پاس جاؤ۔
اس بادشاہ کی یہ عادت تھی کہ جب بھی وہ کسی کو کوئی بڑا انعام دینا چاہتا تو کسی گورنر کے نام خط لکھتااور اس شخص کو گورنر کے پاس بھیج دیتا وہاں اسے خوب انعام واکرام سے نوازا جاتا۔ کبھی بھی بادشاہ نے سزا کے لئے کسی کو خط نہیں لکھا تھا۔ آج پہلی بار بادشاہ نے کسی کو سزا دینے کے لئے یہ طریقہ اختیار کیا۔بہرحال وہ شخص خط لے کر دربار سے نکلا تو وہ حاسد راہ میں منتظر تھا کہ دیکھو کیا ہوتاہے جب اسے آتا دیکھا تو پوچھا کہ کیاہوا ؟ کہاں کا ارادہ ہے ؟ اس نے کہا میں نے بادشاہ کو اپنا کلام سنایا تو اس نے مجھے ایک خط مہر لگاکر دیا اور کہا کہ فلاں گورنر کے پاس یہ خط لے جاؤ اب میں اسی گورنر کے پاس جا رہا ہوں ۔ حاسد کہنے لگا: بھائی! یہ خط مجھے دے دو میں اسے گورنر تک پہنچا دوں گا۔ چنانچہ، اس شریف آدمی نے وہ خط حاسد کے حوالہ کر دیا۔ حاسد خط لے کر خوشی خوشی گورنر کے دربار کی طرف چل پڑا اور راستے میں سوچتا جارہا تھا کہ میری قسمت کتنی اچھی ہے کہ میں نے اس شخص کو بے وقوف بنا کر انعام والاخط لے لیا اب مجھے ہی انعام واکرام سے نوازا جائے گااور میں مالامال ہوجاؤں گا۔انہی سوچوں میں گم حاسد جھومتاجھومتا آگے بڑھ رہا تھا لیکن وہ نہیں جانتاتھا کہ وہ اپنے عبرت ناک انجام کی طرف بڑھ رہاہے۔
جب وہ گورنر کے پاس پہنچا اور بڑے مؤدبانہ انداز میں بادشاہ کا خط گورنر کو دیا اور گورنر نے جیسے ہی خط پڑھا تو پوچھا: اے شخص! کیا تجھے معلوم ہے کہ اس خط میں بادشاہ نے کیا لکھا ہے؟ اس نے کہا: جناب! یہی لکھا ہوگا کہ مجھے انعام واکرام سے نوازا جائے۔ گورنر نے کہا: اے نادان شخص! اس خط میں مجھے حکم دیا گیا ہے کہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع