30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
آدمی کو قرآن کریم کی ایک آیت پڑھائی وہ اس کا آقا ہے۔ ‘‘ ([1])
٭… استاد کی غیر موجودگی میں بھی ان کا ادب کیجئے، ان کی جگہ پر نہ بیٹھے۔
٭… چلتے وقت ان سے آگے نہ بڑھئے۔
٭… استاد سے جھوٹ بولنا باعثِ محرومی ہے لہٰذا استاد سے ہمیشہ سچ بولئے۔
٭… ان سے نگاہ نہ ملائیے بلکہ نگاہ نیچی رکھئے۔
٭… اسی طرح ہر نماز کے بعد اپنے اساتذہ اور والدین کے لئے ہمیشہ دعاکرتے رہئے۔
٭… آپ جہاں پڑھتے ہیں اس مدرسہ کے دیگر اساتذہ جو آپ کو اگرچہ نہیں پڑھاتے ان کا ادب بھی لازم جانئے۔
٭… استاد کی ناشکری سے بچئے کیونکہ یہ ایک خوفناک بلا اور تباہ کن بیماری ہے اور علم کی برکتوں کو ختم کر دیتی ہے۔ چنانچہ حدیثِ پاک میں ہمارے پیارے آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’ جس نے لوگوں کا شکریہ ادا نہیں کیا اس نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا شکر ادا نہیں کیا۔ ‘‘ ([2])
٭… درجے سے باہر آتے جاتے استاد صاحب سے اجازت ضرور لیجئے۔
٭… استاد صاحب آپ کو جو بھی جدول بنا کر دیں اس پر مدرسے اور گھر میں عمل کرکے وقت پر اپنے اسباق سنا کر استاد صاحب کے دل سے دعائیں لیجئے۔
٭… استاد کی سختی کو اپنے لئے باعث ِ رحمت جانئے۔ قولِ مشہور ہے کہ ’’ جو استاد کی سختیا ں نہیں جھیل سکتا اسے زمانے کی سختیاں جھیلنی پڑتی ہیں ۔‘‘
٭… ٭… ٭
خلافِ واقعہ بات کرنے کو ’’ جھوٹ‘‘کہتے ہیں ۔ ([3])
ہمارے معاشرے میں جھوٹ اتنا عام ہوچکا ہے کہ اب اسے مَعَاذَ اللہ برائی ہی تصور نہیں کیا جاتا۔ ایسے حالات میں بچوں کا اس سے بچنا بہت دشوار ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اپنے بچوں کے ذہن میں بچپن ہی سے جھوٹ کے خلاف نفرت بٹھا دیں تاکہ وہ بڑے ہونے کے بعد بھی سچ بولنے کی عادت کو ہر حال میں اپناکررکھیں ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: جب بندہ جھوٹ بولتا ہے تو فرشتہ اس کی بدبو سے ایک میل دور ہو جاتا ہے۔ ([4])
پیارے مدنی منو! دیکھا آپ نے کہ جھوٹ کی نحوست کتنی برُی ہے اسی طرح جھوٹ کے نقصانات بھی بہت ہیں ۔ چنانچہ،
مروی ہے کہ حضرت سیدنا عیسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام ایک سفر پر جا رہے تھے کہ راستے میں ایک شخص ملا جس نے آپ عَلَیْہِ السَّلَام سے عرض کی: اے اللہ کے نبی! میں آپ کی صحبت میں رہ کر آپ عَلَیْہِ السَّلَام کی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع