30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
دیکھے اور اُس کے دل یا سینے میں عداوت نہ ہو تو نگاہ لوٹنے سے پہلے دونوں کے پچھلے گناہ بخش دیئے جائیں گے۔ ([1])
٭… جتنی بار ملاقات ہو ہر بار ہاتھ ملانا مستحب ہے۔ ([2])
٭… دونوں طرف سے ایک ایک ہاتھ ملانا سنّت نہیں مصافحہ دو ہاتھ سے کرنا سنّت ہے ۔ ([3])
٭… بعض لوگ صِرف اُنگلیاں ہی آپس میں ٹکڑا دیتے ہیں یہ بھی سنت نہیں ۔ ([4])
٭… ہاتھ ملانے کے بعد خود اپنا ہی ہاتھ چوم لینا مکروہ ہے۔ ([5])
٭… مُصافَحَہ کرتے (یعنی ہاتھ ملاتے) وقت سنّت یہ ہے کہ ہاتھ میں کوئی چیز مثلاًرومال وغیرہ حائل نہ ہو، دونوں ہتھیلیاں خالی ہوں اور ہتھیلی سے ہتھیلی ملنی چاہیے۔ ([6])
٭… ٭… ٭
٭… ناخُن کاٹنے کے مدنی پھول …٭
٭… جُمُعہ کے دن ناخن کاٹنا مُستَحَب ہے۔ اگر زیادہ بڑھ گئے ہوں تو جُمُعہ کا اِنتظار نہ کیجئے۔ ([7])
٭… صدرُ الشَّریعہ، بدرُ الطَّریقہ مولانا امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں کہ منقول ہے: جو جُمُعہ کے روز ناخُن تَرَشوائے (کاٹے) اللہ عَزَّ وَجَلَّ اُس کو دوسرے جُمعے تک بلاؤں سے محفوظ رکھے گا اور تین دن زائد یعنی دس دن تک۔ ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ جو جُمُعہ کے دن ناخُن تَرَشوائے (کاٹے) تو رَحمت آئے گی اور گُناہ جائیں گے۔ ([8])
٭… ہاتھوں کے ناخُن کاٹنے کا طریقہ یہ ہے کہ پہلے سیدھے ہاتھ کی شہادت کی انگلی سے شُروع کر کے ترتیب وار چھنگلیا (یعنی چھوٹی انگلی) سَمیت ناخن کاٹے جائیں مگر انگوٹھا چھوڑ دیجئے۔ اب اُلٹے ہاتھ کی چھنگلیا (یعنی چھوٹی انگلی) سے شروع کر کے ترتیب وار انگوٹھے سَمیت ناخن کاٹ لیجئے۔ اب آخِر میں سیدھے ہاتھ کے انگوٹھے کا ناخن کاٹا جائے۔
٭… پاؤ ں کے ناخُن کاٹنے کی کوئی ترتیب منقول نہیں ، بہتر یہ ہے کہ سیدھے پاؤ ں کی چھنگلیا (یعنی چھوٹی انگلی) سے شُروع کر کے ترتیب وار انگو ٹھے سَمیت ناخُن کاٹ لیجئے پھر اُلٹے پاؤ ں کے انگو ٹھے سے شُروع کر کے چھنگلیا سَمیت ناخن کاٹ لیجئے۔ ([9])
[1] کنز العمال، کتاب الصحبة، الحديث:۲۵۳۵۸، ج۹، ص۵۷
[2] رد المحتار، کتاب الحظر والاباحة، باب الاستبراء وغيره، ج۹، ص۶۲۸
[3] المرجع السابق، ص۶۲۹
[4] المرجع السابق
[5] تبيين الحقائق، کتاب الکراهية، فصل فی الاستبراء وغيره، ج۷، ص۵۶
[6] رد المحتار، کتاب الحظر والاباحة، باب الاستبراء وغيره، ج۹، ص۶۲۹
[7] بهارِ شريعت، حصه ۱۶، ص۲۲۵
[8] المرجع السابق، ص۲۲۶
[9] المرجع السابق، ص۲۲۶ تا ۲۲۷
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع