30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سوال: قرآن شریف کی تلاوت کے دوران جماہی آ جائے تو کیا کرنا چاہیے؟
جواب: قرآن شریف کی تلاوت کے دوران جماہی آجائے تو تلاوت موقوف (یعنی بند) کر دیں کیونکہ جماہی شیطانی اثر ہے۔
سوال: قرآن شریف کی تلاوت کے دوران اگر پیر صاب، عالم دین، استاذ صاحب یا والدین میں سے کوئی آجائے تو کیا ان کی تعظیم کے لئے کھڑے ہوسکتے ہیں ؟
جواب: جی ہاں ! تلاوت موقوف کر کے ان کی تعظیم کے لئے کھڑے ہو سکتے ہیں ۔
سوال: بعض لوگ کہتے ہیں کہ اگر قرآنِ پاک کھلا ہوتو اسے شیطان پڑھتا ہے اس کی کیا حقیقت ہے؟
جواب: یہ بات غلط ہے اور اس کی کوئی اَصل نہیں ۔
سوال: قرآنِ پاک کو جُزدان یا غلاف میں رکھنے کا کیا حکم ہے؟
جواب: قرآنِ پاک کو جُزدان یا غلاف میں رکھنا جائز ہے۔ صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن کے دورِ مبارک سے مسلمانوں کا اس پر عمل ہے۔
سوال: قرآنِ مجید کو بلند آواز سے پڑھنا کیسا ہے؟
جواب: قرآنِ مجید کو بلند آواز سے پڑھنا افضل ہے کہ جہاں تک آواز پہنچے گی وہ اشیا پڑھنے والے کے ایمان کی بروزِ قیامت گواہ ہوں گی۔ البتہ اس بات کا خیال رکھا جائے کہ کسی نمازی، بیمار اور سونے والے کو تکلیف نہ پہنچے۔
سوال: قرآن شریف کی تلاوت سننے کے بجائے باتیں کرنا یا اِدھر اُدھر دیکھنا کیسا ہے؟
جواب: قرآن شریف کی تلاوت خاموشی اور توجہ سے سننا چاہیے اس دوران گفتگو کرنا گناہے۔
سوال: بہت سے اسلامی بھائیوں کا قرآن خوانی وغیرہ میں بلند آواز سے قرآن شریف پڑھنا کیسا ہے؟
جواب: اجتماعی طور پر بلند آواز سے قرآن پڑھنا منع ہے، ایسے موقع پر سب کو آہستہ آواسوال: میں قرآن شریف پڑھنا چاہیے ۔
سوال: مدرسہ میں طلبہ بلند آواز سے قرآن شریف پڑھیں تو اس کا کیا حکم ہے؟
جواب: مدرسہ میں طلبہ کا بلند آواز سے قرآن شریف پڑھنا جائز ہے۔
٭… ٭… ٭
اللہ عَزَّوَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ایک صحابی سے محوِ گفتگو تھے کہ وحی نازل ہوئی: اس صحابی کی زندگی کی ایک ساعت (یعنی گھنٹہ بھر) باقی رہ گئی ہے۔ یہ وقت ِ عصر تھا۔ رحمتِ عالم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے جب یہ بات اس صحابی کو بتائی تو انہوں نے مضطرب ہو کر التجا کی: ’’ یا رسولَ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! مجھے ایسے عمل کے بارے میں بتائیے جو اس وقت میرے لئے سب سے بہتر ہو۔ ‘‘ تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’ علم سیکھنے میں مشغول ہو جاؤ۔ ‘‘ چنانچہ وہ صحابی علم سیکھنے میں مشغول ہوگئے اور مغرب سے پہلے ہی ان کا انتقال ہوگیا۔ راوی فرماتے ہیں کہ اگر علم سے بہتر کوئی شے ہوتی تو سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اسی کا حکم ارشاد فرماتے (تفسیر کبیر، سورة البقره، ج۱، ص۴۱۰)
صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان
سوال: عشرۂ مبشرہ سے کیا مراد ہے ؟
جواب: عشرۂ مبشرہ سے مراد وہ دس (۱۰) صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان ہیں جنہیں ہمارے پیارے آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے دنیا میں ہی جنت کی بشارت دی۔
سوال: عشرۂ مبشرہ میں کون کون سے صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانشامل ہیں ؟
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع